سات رع
| ||||
|---|---|---|---|---|
![]() | ||||
| معلومات شخصیت | ||||
| تاریخ پیدائش | 14ویں صدی ق.م | |||
| وفات | 13ویں صدی ق.م مصر | |||
| مدفن | وادی ملکہات | |||
| شہریت | قدیم مصر | |||
| شریک حیات | رمسیس اول | |||
| اولاد | سیتی اول | |||
| خاندان | مصر کا انیسواں شاہی سلسلہ | |||
| دیگر معلومات | ||||
| درستی - ترمیم | ||||
سات رع قدیم مصر کی ایک غیر حکمران ملکہ یا شاہی زوجہ تھی، جو انیسویں خاندان کے دور میں زندہ رہی۔ وہ فرعون رعمسیس اول کی زوجہ اور فرعون سیتی اول کی والدہ تھی۔ [1]
حالات زندگی
[ترمیم]علمائے مصریات کے درمیان رعمسیس اول کی زوجہ اور سیتی اول کی والدہ کی حقیقی شناخت کے بارے میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ ملکہ سات رع کو رعمسیس اول اور سیٹی اول کے ساتھ ابیدوس میں سیتی اول کے جنازگاہی معبد میں دکھایا گیا ہے، جہاں اسے “بادشاہ کی ماں” کا لقب دیا گیا ہے۔ اسی طرح سیتی اول کے معبد اور اس کی قبر میں بھی اسے “عظیم شاہی زوجہ” کہا گیا ہے، حالانکہ وہاں اس کا ذکر “بادشاہ کی ماں” کے طور پر ہونا زیادہ متوقع تھا۔ مجموعی طور پر، ملکہ سات رع کی مقبرہ، جس کے طرزِ تعمیر اور نقوش کو اسی دور سے منسوب کیا جاتا ہے، اس میں ملکہ کو “بادشاہ کی ماں” کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔
تانيس سے دریافت ہونے والی “چار سو سالہ لوح”، جو اس کے پوتے رعمسیس دوم کے دور کی ہے، اس میں سیتی اول کو “بارعمسو” (یعنی رعمسیس اول کا تخت نشینی سے پہلے کا نام) اور ملکہ “تیا” کا بیٹا قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں، سیتی اول کی ایک بیٹی کا نام بھی “تیا” تھا۔ اس بنا پر بعض محققین کا خیال ہے کہ “تیا” اور “سات رع” ایک ہی شخصیت کے دو نام تھے اور جب اس کے شوہر نے بادشاہ بننے کے بعد اپنا نام “بارعمسو” سے “رعمسیس” رکھا تو اس نے بھی اپنا نام تبدیل کیا۔ اس نظریے کو اس بات سے مزید تقویت ملتی ہے کہ رعمسیس دوم کی ایک بیٹی کا نام “تیا-سات رع” تھا۔[2] .[3]
القابات
[ترمیم]ملکہ سات رع نے “بادشاہ کی بیٹی” کا لقب نہیں اٹھایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا تعلق شاہی خاندان سے نہیں تھا۔ تاہم اس نے کئی اہم شاہی اور مذہبی القابات اختیار کیے، جن میں شامل ہیں:
- وراثتی شہزادی
- عظیم بادشاہ کی ماں
- دیوتا کی ماں
- دو زمینوں کی خاتون
- شاہی زوجہ
- عظیم شاہی زوجہ اور محبوبہ
- جنوب و شمال کی خاتون
- زوجۂ الٰہی ۔ [4]، .[5]
مقبرہ
[ترمیم]ملکہ سات رع کو وادیِ ملکہات میں واقع مقبرہ QV38 میں دفن کیا گیا۔ اس مقبرے کو جرمن ماہر آثارِ قدیمہ کارل ریچارد لپسیوس نے اپنے شمار کے مطابق قبر نمبر 13، جبکہ انگریز ماہر جان ولکنسن نے قبر نمبر 19 قرار دیا تھا۔ غالب امکان ہے کہ یہ مقبرہ اس کے بیٹے فرعون سیتی اول کے حکم پر تعمیر کیا گیا ہو۔ شاید اسی وجہ سے اس کی اپنی قبر میں اسے “بادشاہ کی ماں” کہا گیا، جبکہ سیٹی اول کی قبر میں یہ لقب نمایاں طور پر نہیں ملتا۔ مقبرے کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی اور اس کی تزئین و آرائش صرف ابتدائی خاکوں اور خطی نقشوں کی صورت میں باقی رہی۔

مقبرے کے نقوش اور مناظر ماہرین پورٹر اور موس نے اس مقبرے کے مناظر کی تفصیل بیان کی ہے۔ ان نقوش میں متعدد دیوتاؤں کی تصاویر شامل ہیں، مثلاً: امستی دواموتف انوبس (إنبو) ماعت إر-رينيف-جيسف نفتیس (نبت حیت) سرقت ایک بندر اور دو سعادین ایک مقدس حجرے میں ایک منظر میں ملکہ سات رع کو ایک ناووس (مقدس صندوق نما مقام) کے اندر بیٹھی ہوئی دکھایا گیا ہے۔ دیگر مناظر میں: شیر کے سر والے ایک دیوتا کے بعد دیوی ماعت ایک مقدس کِشک جس میں ابن آوی کے سر والا دیوتا حاپی قبح سنوف حورس إرباقف تحوت ایزیس نیت حورس اسی طرح ایک اور منظر میں دیوی موت کو گدھ کی شکل میں دکھایا گیا ہے، ساتھ ایک پرندے کے سر والا دیوتا اور ایک مکمل چہرے والا دیوتا بھی موجود ہے۔ مقبرے میں دو کشتیوں کی تصاویر بھی بنی ہوئی ہیں، جن کے نچلے حصے میں تین دیوتاؤں کو دکھایا گیا ہے۔.[6]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Peter Clayton, Chronicle of the Pharaohs, Thames & Hudson Ltd, (1994), p.141
- ↑ Demas, Martha, and Neville Agnew, eds. 2012. Valley of the Queens Assessment Report: Volume 1. Los Angeles, CA: Getty Conservation Institute. Getty Conservation Institute, link to article
- ↑ Aidan Dodson & Dyan Hilton, The Complete Royal Families of Ancient Egypt, Thames & Hudson (2004), p.175
- ↑ Nos ancêtres de l'Antiquité, 1991, Christian Settipani, p.176
- ↑ W. Grajetzki: Ancient Egyptian Queens: a hieroglyphic dictionary. Golden House Publications 2005
- ↑ Porter, Bertha and Moss, Rosalind, Topographical Bibliography of Ancient Egyptian Hieroglyphic Texts, Statues, Reliefs and Paintings Volume I: The Theban Necropolis, Part 2. Royal Tombs and Smaller Cemeteries, Griffith Institute. 1964, pg 751


