ساجد میر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ساجد میر
چیئرپرسن سینیٹ کمیٹی برائے سائنس و ٹکنالوجی
آغاز منصب
مارچ 2009
صدر ممنون حسین
وزیر اعظم نواز شریف
معلومات شخصیت
پیدائش 2 اکتوبر 1938 (82 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سیالکوٹ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایک پاکستانی سیاست دان اور رکن سینیٹ ہے۔5 مارچ 2015 کو سینیٹر منتخب ہوئے۔

ولادت[ترمیم]

پروفیسر ساجد میر 2 اکتوبر 1938ء کو سیالکوٹ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے بزرگ ابراہیم میر سیالکوٹی مشہور عالم دین و کارکن تحریک پاکستان گزرے ہیں،

تعلیم[ترمیم]

انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

ایم۔ اے (انگلش) ۔۔۔ گورنمنٹ کالج لاہور، 1960ء، سیکنڈ ڈویژن ،

ایم۔ اے (اسلامیات)، پنجاب یونیورسٹی، 1969ء، فرسٹ ڈویژن،

بی۔ اے (سیاسیات و عربی) ۔۔۔ مرے کالج سیالکوٹ، 1958ء، مع انگلش اور عربی میں میرٹ سکالر شپ،

بی۔ اے (ایڈیشنل) معاشیات ۔۔۔ پنجاب یونیورسٹی، مئی 1965ء،

بی۔ اے (ایڈیشنل) نفسیات ۔۔۔ پنجاب یونیورسٹی، جولائی 1966 ء


مرے کالج سیالکوٹ، (1954ء تا 1958ء) میں جو تعلیمی امتیازات (ایوارڈ) حاصل کئے، ان کی تفصیل یوں ہے کہ

میر حسن میڈل (ڈگری کلاس کے مضمون عربی میں پہلی پوزیشن پر)، محمد علی میڈل (ڈگری کلاس کے مضمون انگلش میں پہلی پوزیشن پر)، عمومی قابلیت میں دوسرا انعام (1958- 1957) ، تاریخ اور عربی میں پہلا انعام (1956- 1954) ، معاشیات، انگریزی اور فارسی میں دوسرا انعام (1956-1954) ،


جبکہ مرے کالج سیالکوٹ، 1954ء تا 1958 ء میں ہم نصابی امتیازات حاصل کئے۔

سالانہ انگریزی مباحثہ اور تقریری مقابلہ میں پہلا انعام (دو مرتبہ)، اردو تقریری مقابلہ میں پہلا انعام (دو مرتبہ)، انگریزی و اردو میں فی البدیہہ تقریری مقابلہ میں دوسرا انعام ، انگریزی مضمون نویسی کے مقابلہ میں پہلا انعام (دو دفعہ)، معلومات عامہ کے مقابلہ میں پہلا انعام ،(دو دفعہ)


وہ دینی میدان میں مندرجہ ذیل اسناد کے حامل ہیں۔

فاضل درس نظامی، جامعہ ابراہیمیہ سیالکوٹ، 1971ء، فاضل دارالعلوم تقویۃ الاسلام شیش محل روڈ لاہور، 1972 ء، عالمیہ کورس۔ وفاق المدارس السلفیہ۔


سروس ریکارڈ[ترمیم]

لیکچرار (انگلش)، جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ ( 14-9-1960 تا 10-2-1963) ،

انسٹرکٹر (انگلش)، گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ سیالکوٹ (1963ء تا 1966ء) ،

سینئر انسٹرکٹر (انگلش اینڈ مینجمنٹ) گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ سیالکوٹ و لاہور (1966ء تا 1975ء) ،

سینئر ایجوکیشن آفیسر (سینئر لیکچرار)، فیڈرل گورنمنٹ آف نائیجیریا (1975ء تا 1977ء) ،

پرنسپل ایجوکیشن آفیسر (اسسٹنٹ پروفیسر) فیڈرل گورنمنٹ آف نائیجیریا (1977ء تا 1981ء) انگلش اور اسلامیات ،

اسسٹنٹ چیف ایجوکیشن آفیسر (ایسوسی ایٹ پروفیسر) فیڈرل گورنمنٹ آف نائیجیریا (1981 ء تا 1984ء) ۔


سروس سے متعلق دوسری ذمہ داریوں کی تفصیل یوں ہے کہ

آفیسر انچارج، شعبہ ریلیٹڈ اور بیسک سٹڈیز، گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ سیالکوٹ (1972ء تا 1975ء) ،

ممتحن اعلیٰ و پیپر سیٹر پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن ( 1969ء تا 1975ء)،

جنرل سیکرٹری، پولی ٹیکنیک ٹیچرز ایسوسی ایشن، مغربی پاکستان (1970-1968ء)

صدر، پولی ٹیکنیک ٹیچرز ایسوسی ایشن (1972ء تا 1975ء) ۔

پروفیسر ساجد میر جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سیکرٹری اور پھر مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے 1992ء میں امیر بنے اور ابھی تک اپنی جماعت کے امیر ہیں وہ ہر بار بلا مقابلہ امیر منتخب ہوتے ہیں،

سیاسی ریکارڈ[ترمیم]

سیاسی طور پر وہ ممبر سینیٹ آف پاکستان (اکتوبر 1994ء تا حال) چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی آف سینیٹ برائے مذہبی امور (1994ء تا 1999ء)، چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی آف سینیٹ برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (مارچ 2009ء تا حال) ۔

عالمی کانفرنسز میں شرکت[ترمیم]

بین الاقوامی کانفرنسوں میں کئی بار شرکت کر چکے ہیں، مثلاً

انٹرنیشنل دعوت کانفرنس، برمنگھم 2008 ,2004, 2000 ,1988 ,1987, 1985ء تا 2011ء،

اسلامی کانفرنس برمنگھم، لندن، مانچسٹر، گلاسکو، 2005, 2001, 2000, 1999 ء،

یورپین اسلامی کانفرنس، لندن 1992 ,1988 ء،

عالمی اسلامی کانفرنس، فلپائن 1988 ء،

عالمی حج کانفرنس، استنبول (ترکی) 1988 ء،

عالمی امن کانفرنس، بغداد (عراق)، 1989 ,1987 ء،

رابطہ عالم اسلامی کانفرنس، مکہ معظمہ، 2013, 2011, 2001, 1999 ,1990ء،

دعوت کانفرنس، امریکہ (نیو یارک، نیو جرسی) 1989ء

دعوت کانفرنس، بھارت (بمبئی، دہلی، بنارس) 1990 ء،

بین الاقوامی کانفرنس، ریاض (سعودی عرب) 1991ء،

بین الاقوامی کانفرنس، کویت 1992,1991ء،

ایشیائی حج کانفرنس کوالالمپور (ملائیشیاء) 1990ء،

دعوت کانفرنس سنگا پور 1990 ء،

بین الاقوامی اسلامی کانفرنس برائے وسط ایشیائی ریاستیں، ماسکو 1991 ء،

دعوت کانفرنس، متحدہ عرب امارات 1991 ء،ایشیائی اسلامی کانفرنس، کولمبو (سری لنکا) 1993ء،

عالمی اسلامی کانفرنس، انڈونیشیا 2002ء،

سیرت کانفرنس، ٹریپولی، لیبیا 1998، 2003ء۔

اس کے علاوہ بیلجئم، ہالینڈ، سوئٹزر لینڈ، اٹلی، فرانس، نائیجیریا، کینیا، سپین، ڈنمارک، آئیر لینڈ، کینیڈا ، یونان کے سفر کر چکے ہیں۔


تصانیف[ترمیم]

  1. ۔ عیسائیت، مطالعہ و تجزیہ
  2. ۔ تصحیح ترجمہ ’’صحیح مسلم‘‘ مطبوعہ شیخ محمد اشرف پبلشرز
  3. ۔ تصحیح ترجمہ ’’ماذا خسر العالم من انحطاط المسلمین‘‘ از مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ
  4. ۔ ترجمہ (عربی سے انگریزی) ’’الحزب لمقبول‘‘ (دعاؤں کی معروف و مقبول کتاب)
  5. ۔ مختلف ملکی اخبارات و جرائد میں اسلامی، سیاسی اور معاشری موضوعات پر مضامین
  • ۔ ہفت روزہ ’’ترجمان الحدیث‘‘، ’’اہلحدیث‘‘ اور ’’الاسلام‘‘ میں تفسیر، حدیث، اسلامی تاریخ، فقہ اور اسلام کی معاشرتی اخلاقی اور سیاسی تعلیمات کے بارے میں مضامین لکھ چکے ہیں۔