سارنگ پور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ہندوستان کے صوبہ مدھیہ پردیش کے ضلع راج گڑھ کا ایک شہر ہے جو دریائے کالی سندھ کے کنارے آباد ہے[1]


ابتدائیہ[ترمیم]

سارنگ پور بھارت کے قدیم تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جہاں کئی بادشاہوں ، راجاوں نے حکمرانی کی اور اپنے دور کی بڑی بڑی سلطنتوں کے درمیان اس مقام پر جنگیں ہوئیں ، یہ ایک لمبے زمانہ تک مختلف اوقات میں یہ مالوہ کا دار الحکومت رہا ہے ، مشہور باز بہادر اور روپ متی کی داستان محبت اسی شہر سے وابستہ ہے ، جبکہ اکبر کی فوجوں نے اس محبت کو خاک میں ملا دیا تھا۔

شہر سارنگ پور میں سلاطین گجرات و مالوہ کے درمیان ہونے والی لڑائیاں[ترمیم]

826ھ:سلطان احمد شاہ گجراتی نے مانڈو شادی آباد پر حملہ کیا ، محاصرہ بے فائدہ دیکھا تو سارنگپور پہنچا ، ہوشنگ شاہ کو اطلاع ملی تو وہ بھی ایک دوسرےراستہ سے سارنگپور پہنچا ، دونوں میں انتہائی خوں ریز جنگ ہوئی ،آخر فتح سلطان احمد شاہ گجراتی کی ہوئی اور ہوشنگ شاہ سارنگپور کے قلعہ میں محصور ہو گیا ۔[2]14 ربیع الثانی کو جب سلطان احمد فتح کے نقارے بجاتے ہوئے واپس جارہا تھا تو ہوشنگ پھر قلعہ سے نکلا اور گجراتیوں کا تعاقب کیا ، جس کے نتیجہ میں دونوں میں لڑائی ہوئی ، سلطان ہوشنگ پھر قلعہ میں محصور ہو گیا،اس کی چھ ہزار فوج تہ تیغ کر دی گئی ، پھر دونوں اپنے اپنے دار السلطنت پہنچے۔

دوسری مرتبہ سلطان محمود خلجی کے دور میں پھر احمد شاہ گجراتی نے مالوہ پر حملہ کیا، عین ان ہی دنوں جب احمد شاہ گجراتی نےمانڈو کا محاصرہ کر رکھا تھا اس کا بیٹا شہزادہ محمود خاں پانچ ہزار سواروں اور تین سو ہاتھیوں کا لشکر لے کر سارنپور آیا اور اس نے حاکم شہر سے جنگ کرکے اسے قتل کر ڈالا، سلطان محمود خلجی مانڈو کا قلعہ ملک مغیث کے حوالہ کرکے خود سارنگ پور کے لیے نکلا ، سلطان احمد کو اس کا علم ہوا تو اس نے شہزادہ محمد کو سارنگپور سے اجین بلا لیا ، اس وقت سارنگپور کے حاکم ملک اسحاق بن قطب الملک نے سلطان محمود خلجی کی خدمت میں ایک عریضہ میں ساری تفصیل لکھی اور یہ بھی اطلاع کی کہ شہزادہ عمر سارنگپورکے ارادہ سے آرہا ہے ، سلطان محمود کے سارنگپور پہنچنے کے بعد سلطان احمد شاہ بھی اجین سے سارنگپور آیا ، اس کے ساتھ 30000 سوار اور تین سو ہاتھی کازبردست لشکر تھا ، پہلے محمود نے شہزادہ عمر سے جنگ کی اور اسے قتل کر دیا پھر احمد شاہ سے جنگ کا ارادہ کیا لیکن وبا کے پھیلنے سے وہ اپنے ملک چلا گیا[3]

سارنگپور پر گجراتیوں کی حکمرانی اور ہمایوں کا حملہ[ترمیم]

سلطان محمود خلجی ثانی  کا امیر صلحدی پوربیہ جب بہادر شاہ گجراتی سے مل گیا تو بہادر شاہ نے اسے اجین، سارنگ پور اور ]]رائے سین[[ کے پرگنے عطا کیے ، پھر بعد میں اس نے خود کشی کرلی اسی اثنا میں ہمایوں نے مالوی پر قبضہ کر لیا، پھر ہمایوں کے ایک غلام سلطان عبد القادر نے ، مالوہ پر اپنی خود مختار حکومت قائم کرلی [4]

شیر شاہ سوری کا قبضہ[ترمیم]

949ھ میں شیر شاہ سوری نے مالوہ کو فتح کیا  اور چند روز تک اجین میں قیام کیا اور مالوہ کو اپنے امیروں میں تقسیم کر دیا ، اجین سارنگپور اور دوسرے کئی پرگنے شجاع خاں کی جاگیر میں دے دئے اور اس کو اس مملکت کا سپہ سالار مقرر کیا ، رفتہ رفتہ وہ پوری مملکت مالوہ کا حکمراں بن گیا، سلیم شاہ کے دور میں بھی مالوہ کا حکمراں رہا، پھر شجاع خان نے اجین اور نواحی کی حکومت دولت خاں کو دی ، رائے سین اور بھیلسہ کا حاکم ۔۔۔۔۔ کو بنایا

ہنڈیہ اورآشٹہ باز بہادر کو دیااور خود سارنگ پور میں مقیم ہوا،شجاعلپور کو اسی نے اپنی فوجی چھاونی کے طور پر آباد کیا تھا[5]

مالوہ  پر ملک بایزید عرف باز بہادر کا قبضہ اور دار السلطنت سارنگپور[ترمیم]

شجاع خاں کی وفات کے بعد اس کا چھوٹا بیٹا بایزید ہنڈیہ سے سارنگ پور آیا اور دھیرے دھیرے اپنے باپ کےسارے مقبوضات پر قابض ہو گیا اور باز بہادر لقب اختیار کرکے تخت سلطنت پر بیٹھا، سارنگ پور اس کا پایہ تخت تھا، پھر جب رانی درگاوتی سے جنگ میں شکست کھائی تو غم غلط کرنے کے لیے چنگ و رباب میں مشغول ہو گیا، روپ متی سے عشق کر بیٹھا ، ان دونوں کے عشق کی سارے ہندوستان میں شہرت پھیل گئی ۔

اکبر کے امیر ادہم خاں کا حملہ اور اکبر کی سارنگ پور آمد[ترمیم]

968ھ میں اکبر نے ادہم خاں کو مالوہ پر حملہ کے لیے بھیجا ، باز بہادر اس وقت مقابلہ کے لیے نکلا جب ادہم خاں سارنگپور سےایک کو س کے فاصلہ پر تھا، لڑائی ہوئی اور تھوڑی دیر میں فوج نے راہ فرار اختیار کی تو باز بہادر بھی فرار ہو گیا، ادہم خاں نے مالوہ کے انتظام کے لیے چار حصوں میں تقسیم کر دیا سارنگپور اپنے قبضہ میں رکھا ، پیر محمد کو مانڈو اور اجین دیا ، قبا خان کو ہنڈیہ اور صادق خان کو مندسور[6] اب ادہم خاں اکبر سے بغاوت کرنا چاہتا تھا پیر محمد نے ساری اطلاع اکبر کو صادق خان کے ذریعہ پہنچائی ؛ چنانچہ 1560ء کو شہنشاہ اکبر آگرہ سے مالوہ روانہ ہوا اور 16 دن میں سارنگپور پہنچ گیا نتیجۃ ادہم خان کو گرفتار کرکے لے گیا اور 969 ھ میں پیر محمد خاں شیروانی  کو مالوہ کا صوبہ دار مقرر کیا ،پھر وہ بھی حاکم برار ، والئ برہانپور اور باز بہادر کی متحدہ فوج کامقابلہ نہ کر سکا اور فرار ہوتے ہوئے دریائے نربدا میں ڈوب گیا ، اب دوبارہ باز بہادر میں مالوہ کا تخت حاصل کر لیا ، ابھی وہ سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اکبر کا امیر عبد اللہ خاں970ھ میں مالوہ پر حملہ آورہوا باز بہادر مالوہ سے باہر چلا گیا پھر اکبر کے دربار میں حاضر ہوکر دو ہزاری منصب پر فائز ہوا [7]۔

اکبر و جہانگیرکے دور حکومت میں مالوہ کا انتظام  [ترمیم]

مالوہ کے انتظام کے لیے اکبر نے عبد اللہ خاں کے ساتھ ملکی انتطام کے لیے  خواجہ معین الدین احمد کو بھیجا ، عبد اللہ خاں ازبیک نےدار السلطنت مانڈو شادی آباد کو مرکز بنایا اور خواجہ معین الدین احمد فرخندی نے ملک کا نظم و نسق درست کرکے امن و امان قائم کیا ،[8]اکبر کے آخری زمانہ اور دور جہانگیری کے آغاز میں سلطنت دہلی کی جانب سے خان اعظم مالوہ کا حکمراں رہا؛ چنانچہ سارنگپور بھی اسی کے ماتحت تھا[9]

سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد سارنگپور[ترمیم]

1705ء میں اورنگزیب کی وفات کے بعد جب بغاوتوں اور خود مختار ریاستوں کا دور شروع ہوا تو سارنگپور بھی مغربی مالوہ کے راجاوں ، مرہٹوں اور اس کے بعد سندھیا حکومت کی عملداری میں آگیا، اس دوران بہت سے ملک گیروں نے اس پر حملہ کیے اور ایک مدت حکمرانی بھی کی لیکن پھر وہ سندھیا کے زیر حکومت رہا یہاں تک کہ انڈین یونین میں ضم ہو گیا، اس کے بعد سےآج تک یہ انڈیا کے صوبہ مدھیہ پردیش کا ایک تاریخی شہر ہے[10]

رانی روپ متی اور باز بہادر[ترمیم]

مالوہ کے آخری خود مختار سلطان سلطان بایزید الملقب بہ باز بہادر کی رانی تھی، جو تاریخ مالوہ میں سب سے زیادہ متنازع فیہ شخصیت ہے اور مالوہ آنے والے ہر سیاح کی دلچسپی کا مرکز ہے، بیشتر مورخین نے روپ متی کو دھرم پوری کے علاقہ کے ایک راجپوت جاگیردار تھان سنگھ راٹھور کی لڑکی بتایا ہے ، جو راجپوتانہ کا ایک باغی سردار تھا ،جس کو خلجیوں نے پناہ دے رکھی تھی ، باز بہادر نے شکار کے دوران دریائے نربدا کے کنارے روپ متی کو اپنی سہیلیوں کے ساتھ دیکھا اور اس پر فریفتہ ہو گیا، بعض مورخوں نے اس کو ایک مغنیہ رقاصہ اور طوائف زادی بتایا ہے جو بالکل غلط ہے ، مصدقہ قول ابو الفضل[11] ، نظام الدین احمد[12]  اور احمد الامری[13]  کا ہے جس کی انگریز مورخوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ روپ متی بدو رائے اور دیوا بائی کی لڑکی تھی جو گجراتی برہمن تھے ، بدو رائے کے والد سلطان بہادر شاہ گجراتی کے مالوہ فتح کرنے کے بعد مانڈو آگئے تھے اور بعد میں سارنگ پور منتقل ہو گئے ، بدو رائے کرشن بھکت تھے اور سنگیت کے ماہر تھے، ان سے روپ متی1538ء میں سارنگپور کے پھول پوری محلہ میں پیدا ہوئی ، اس کے والد نے اس کی تعلیم کا اچھا انتطام کیا تھا ، وہ کئی زبانوں ، مالوی ، ہندی ، راجستھانی اور برج بھاشا کی ماہر تھی ، وہ ایک ادیبہ ، شاعرہ ، موسیقار کی شکل میں ابھری اور اپنے حسن کی وجہ سے مشہور ہو گئی۔

باز بہادر اپنے والد شجاعت خاں کے عہد ہی سے سارنگپور کا صوبہ دار تھا اور موسیقی کا دلدادہ تھا ، اس نے سارنگ پور میں ایک موسیقی کا مدرسہ قائم کیا تھا، جس میں تعلیم کے لیے ہندوستان کے مشہور موسیقاروں کو بلایا تھا ، روپ متی اسی مدرسہ کی طالبہ تھی ، با ز بہادر ایک ماہر موسیقار تھا ،و ہ ہر قسم کی سارنگی ، طبلہ تنبورہ اور بین بجاتا تھا ، وہ "خیال گاٹکی "کا بڑا ماہر تھا "خیال بارخانی" اسی کی ایجاد ہے ، باز بہادر اور روپ متی دونوں میں محبت ہو گئی ، جب باز بہادر مالوہ کا خود مختار حکمراں بن گیا تو اس نے اس بدو رائے اور اس کے بھائی کو بڑی جاگیریں دیں، روپ متی کے اصرار پر اپنی ماں کے نام سے ایک تالاب ریوا کنڈ بنوایا،اور اس کے لیے ایک شیو مندر بھی بنوایا،اور بہت ساری یادگاریں روپ متی کے نام سے بنوائی ۔

1560ء میں جب ادہم خاں کوکا نے باز بہادر کو سارنگ پور میں شکست دے دی تو باز بہادر نے حکم دیا کہ حرم سرا کی کنیزوں اور بیگمات کو قتل کر دیا جائے ، قتل کا سلسلہ شروع ہوتے ہی مغل فوجیں حرم میں داخل ہو گئیں اور حرم اپنے قبضہ میں لے لیا اس میں روپ متی کے چہرہ پر کچھ زخم آئے ، عمر درویش کے مکان میں شاہی طبیبوں نے اس کا علاج کیا ، اس کے صحت یاب ہو نے پر ادہم خاں نے اس کو شادی کا پیغام دیا ، اس کی ہوسناکیوں سے پچنے کے لیے روپ متی نے خود کشی کرلی ، ادہم خاں نے اس کی نعش کو دفن کر دیا اس طرح 1562ء میں روپ متی کے ساتھ ہی مالوہ میں پٹھان سلطنت بھی دفن ہو گئی۔

روپ متی کا مقبرہ[ترمیم]

شہنشاہ اکبر ادہم خاں کی سرکوبی کی لیے سارنگپور آیا تو اسے روپ متی کی موت کے بارے میں حالات معلوم ہوئے ،اس نے حکم دیا کو روپ متی کی نعش کو قبر سے نکال کر تابوت میں رکھا جائے ، پھر اس کا تابوت ہاتھی پر رکھ کر شاہی اعزاز کے ساتھ شہر میں جلوس نکالا جائے اور پھر دفن کر دیا جائے ، پیر محمد کو حکم دیا کہ روپ متی کی قبر پر ایک شاندار مقبرہ بنوائے ؛ چنانچہ سارنگپور میں روپ متی کا مقبرہ تعمیر کیا گیا۔

باز بہادر کی موت اور تدفین[ترمیم]

1570 ء میں باز بہادر نے اکبر کے دربار جاکر اس کی اطاعت قبول کر لی تھی ، اکبر نے اس کو 2ہزاری کا منصب عطا کیا اور بقیہ عمر اس نے اکبر کے دربار میں گزار دی ، 1588ء میں باز بہادر کا انتقال ہو گیا ، اس کی وصیت کے مطابق اس کی نعش آگرہ سے سارنگپور لائی گئی اور روپ متی کے پہلو میں دفن کر دی گئی[14]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://en.wikipedia.org/wiki/Sarangpur,_Madhya_Pradesh
  2. تاریخ فرشتہ
  3. تاریخ فرشتہ
  4. تاریخ فرشتہ
  5. تاریخ فرشتہ
  6. مالوہ کی کہانی تاریخ کی زبانی
  7. مالوہ کی کہانی
  8. مالوہ کی کہانی:125
  9. شاہجہاں نامہ
  10. تاریخ وسط ہند
  11. آئین اکبری/اکبرنامہ
  12. طبقات اکبری
  13. شہید وفا
  14. مالوہ کی کہانی،مآثر الامرا٫ ، جہانگیر نامہ