سارہ شگفتہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سارہ شگفتہ
معلومات شخصیت
پیدائش 31 اکتوبر 1954  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گوجرانوالہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 4 جون 1984 (30 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات خود کشی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعرہ،  مصنفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

سارہ شگفتہ 31 اکتوبر، 1954ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ اردو اور پنجابی میں شاعری کرتی تھیں۔ ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔

حالات زندگی[ترمیم]

غریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی پاس نہ کر سکیں۔ ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں(ان کے دو شوہر شاعر تھے) نے انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ انہیں دماغی امراض کے ہسپتال بھیجا گیا جہاں انہوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی۔

شعری مجموعے[ترمیم]

سارا شگفتہ کی پنجابی شاعری کے مجموعے 'بلدے اکھر'، 'میں ننگی چنگی' اور 'لکن میٹی' اور اردو شاعری کے مجموعے 'آنکھیں' اور 'نیند کا رنگ' کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے۔

وفات[ترمیم]

4 جون، 1984ء کو انہوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔[1]

بعد از وفات خراج تحسین[ترمیم]

ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پر امرتا پرتیم نے 'ایک تھی سارہ' اور انور سن رائے نے 'ذلتوں کے اسیر' کے نام سے کتابیں تحریر کیں اور پاکستان ٹیلی وژن نے ایک ڈراما سیریل پیش کیا جس کا نام 'آسمان تک دیوار' تھا۔

نمونہ کلام[ترمیم]

قرض

میرا باپ ننگا تھا

میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے دے دیے

زمین بھی ننگی تھی

میں نے اسے

اپنے مکان سے داغ دیا

شرم بھی ننگی تھی میں نے اسے آنکھیں دیں

پیاس کو لمس دیے

اور ہونٹوں کی کیاری میں

جانے والے کو بو دیا

موسم چاند لیے پھر رہا تھا

میں نے موسم کو داغ دے کر چاند کو آزاد کیا

چتا کے دھوئیں سے میں نے انسان بنایا

اور اس کے سامنے اپنا من رکھا

اس کا لفظ جو اس نے اپنی پیدائش پہ چنا

اور بولا

میں تیری کوکھ میں ایک حیرت دیکھتا ہوں

میرے بدن سے آگ دور ہوئی

تو میں نے اپنے گناہ تاپ لیے

میں ماں بننے کے بعد بھی کنواری ہوئی

اور میری ماں بھی کنواری ہوئی

اب تم کنواری ماں کی حیرت ہو

میں چتا پہ سارے موسم جلا ڈالوں گی

میں نے تجھ میں روح پھونکی

میں تیرے موسموں میں چٹکیاں بجانے والی ہوں

مٹی کیا سوچے گی

مٹی چھاؤں سوچے گی اور ہم مٹی کو سوچیں گے

تیرا انکار مجھے زندگی دیتا ہے

ہم پیروں کے عذاب سہیں

یا دکھوں کے پھٹے کپڑے پہنیں

    ........ 

شیلی بیٹی کے نام

تجھے جب بھی کوئی دکھ دے

اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

جب میرے سفید بال

تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا

میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا

جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے

ان کھیتوں میں

میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی

بس پہلی بار ڈری بیٹی

میں کتنی بار ڈری بیٹی

ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹی

میرا جنم تو ہے بیٹی

اور تیرا جنم تیری بیٹی

تجھے نہلانے کی خواہش میں

میری پوریں خون تھوکتی ہیں

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]