سارے جہاں سے اچھا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
"سارے جہاں سے اچھا"
گیت
زبان اردو
اشاعت 16 اگست 1904 (1904-08-16)
صنف ملی نغمہ
گیت نگار محمد اقبال

سارے جہاں سے اچھا یا ترانۂ ہندی اردو زبان میں لکھی گئی ایک نظم ہے جو تحریک آزادی کے دوران میں برطانوی راج کے خلاف احتجاج کی علامت بنی اور جسے آج بھی عقیدت کے گیت کے طور پر ہندوستان میں گایا جاتا ہے۔ اسے غیر رسمی طور پر بھارت کے قومی گیت کا درجہ حاصل ہے۔ اس نظم کو مشہور شاعر محمد اقبال نے 1905ء میں لکھا تھا اور سب سے پہلے گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھ کر سنایا تھا۔ یہ اقبال کی تخلیق بانگ درا میں شامل ہے۔ اس وقت اقبال لاہور کے گورنمنٹ کالج لاہور میں استاد تھے۔ انہیں لالہ ہردیال نے ایک اجلاس کی صدارت کرنے کی دعوت دی۔ اقبال نے تقریر کرنے کی بجائے یہ نظم پورے جوش سے گاكر سنائی۔ یہ نظم ہندوستان کی تعریف میں لکھی گئی ہے اور الگ الگ مذاہب کے لوگوں کے درمیان میں بھائی چارے کو بڑھاوا دیتی ہے۔ 1950ء کی دہائی میں ستار نواز پنڈت روی شنکر نے اسے سر - بددھ کیا۔ جب اندرا گاندھی نے بھارت کے پہلے خلا باز راکیش شرما سے پوچھا کہ خلا سے بھارت کیسا دکھائی دیتا ہے، تو شرما نے اس نظم کا پہلا مصرع سنایا۔

نظم (ترانۂ ہندی)[ترمیم]

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبليں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا

غربت ميں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن ميں
سمجھو وہيں ہميں بھي، دل ہو جہاں ہمارا

پربت وہ سب سے اونچا، ہمسايہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا

گودي ميں کھيلتي ہيں اس کي ہزاروں ندياں
گلشن ہے جن کے دم سے رشکِ جناں ہمارا

اے آبِ رودِ گنگا، وہ دن ہیں یاد تجھ کو؟
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہيں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

يونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہيں ہماری
صديوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

اقبال! کوئی محرم اپنا نہيں جہاں ميں
معلوم کيا کسی کو دردِ نہاں ہمارا

حوالہ جات[ترمیم]