ساغر خیامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ساغر خیامی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1938ء[1]
تاریخ وفات 18 جون 2008ء
قومیت بھارتی
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ساغر خیامی اردو کے ایک ممتاز مزاحیہ شاعر تھے۔ وہ اپنے طنزومزاح کے لیے شہرت رکھتے تھے۔ ان کا حقیقی نام راشد الحسن تھا۔

انتقال[ترمیم]

18 جون 2008ء کو 70 سال کی عمر کی عمر میں ساغر پیامی کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین فرزندان حسن راشد، حسن شاہد اور حسن ریال شامل تھے۔ ان کے انتقال کی خبر ان کے بھتیجے شکیل شمسی نے جاری کی جو اس وقت سہارا ٹی وی چیانل کے ڈائریکٹر بھی تھے۔[2]

ساغر خیامی قلب پر حملے کی وجہ سے ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں زیر علاج تھے۔[3]

نمونہ کلام[ترمیم]

دلی کا کتّا[ترمیم]

یہ بولا دلی کے کتے سے گاؤں کا کتا
کہاں سے سیکھی ادا تم نے دم دبانے کی
وہ بولا دُم کے دبانے کو بزدلی نہ سمجھ
جگہ کہاں ہے یہاں دم ہلانے کی[2]

عاشقِ عصر حاضر[ترمیم]

یہ عشق نہیں مشکل بس اتنا سمجھ لیجئے
کب آگ کا دریا ہے، کب ڈوب کے جانا ہے
مایوس نہ ہو عاشق، مل جائے گی معشوقہ
بس اتنی سی زحمت ہے، موبائل اٹھانا ہے[2]

متشاعر / متشاعرہ[ترمیم]

ادب میں آ گئے خم ٹھوک شاعر
غزل کیا مہربانی کر رہی ہے
چمن کھلتے تھے جس کے بدن میں
وہ لڑکی پہلوانی کر رہی ہے[2]

نمک حرامی[ترمیم]

کہاں نکلتی تھیں نمکین صورتیں گھر سے
نمک کی شہر میں قیمت جو بڑھ گئی پیارو
نمک حلالوں کی یونہی کمی تھی دنیا میں
نمک حراموں کی اوقات بڑھ گئی یارو[2]

پولیس کی شاعری[ترمیم]

رفتہ رفتہ ہر پولیس والے کو شاعر کر دیا
محفلِ شعر و سخن میں بھیج کر سرکار نے
سنا ہے ایک قیدی صبح کو پھانسی لگا کر مر گیا
رات بھر غزلیں سنائیں جو اس کو تھانیدار نے[2]

حوالہ جات[ترمیم]