ساگر سرحدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ساگر سرحدی
Sagar Sarhadi
معلومات شخصیت
پیدائش 11 مئی 1933ء
ایبٹ آباد  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارتی
دیگر نام ساگر
عملی زندگی
پیشہ افسانہ نگار، پلے رائٹر، فلم ہدایت کار، فلم رائٹر، فلم ساز
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ساگر سرحدی ہندوستان کے اردو زبان کے افسانہ نگار، ڈراما نگار، فلم ساز، ہدایت کار، مکالمہ نویس اور اسکرین پلے رائڑ ہیں۔ ان کا اصل نام تلوار گنگا ساگر ہے۔ ان کی پیدائش 11 مئی 1933ء میں پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبے (سابقہ صوبہ سرحد) کے شہر ایبٹ آباد کے ایک خوب صورت قصبے "بفا" (Baffa) کی ہے۔ آج کل ممبئی میں مقیم ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ " جیون جانور" کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے ڈرامے "بھگت سنگھ کی واپسی"، "خیال کی دستک"، راج دربار" اور "تہنائی" بھی مشہور ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ درد ہمیشہ بامعنی اظہار کا سبب ہوتا ہے۔ ان کا اپنے بارے میں یہ خیال ہے کہ وہ عام انسانوں کی طرح حقیقت پسندانہ زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا اصل ادبی اور فنکارانہ مخاطبہ عام انسانوں کے ادراک اور آگاہیوں کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے اور لوگوں کے رد عمل کو جانا چاہتے ہیں۔ ساگر سرحدی نے کئی ہندوستانی فلموں کی کہانیاں اور مکالمے لکھے مگر ایک ایک فلم کے فلمساز اور ہدایت کار رہے۔ انھوں نے فلم اندوبھاو 1971ء، زندگی 1976ء، انکار 1977ء، کرم یوگی 1978ء، نوری 1979ء، چمل کی قسم 1980ء، فیصلے 1985ء، چاندنی 1989ء، دیوانہ 1992ء، کہو نا پیار ہے 2000ء اور کاربار: محبت کی تجارت 2000ء کے مکالمے لکھے۔ 1982ء میں فلم " بازار" کی ہدایت کاری کے فرائص سر انجام دیے اور فلم "لوری" کے فلمساز بھی بنے۔ ساگر سرحدی نے متعدد فلموں کے اسکرین پلے بھی لکھے جن میں کبھی کبھی 1976ء، دوسرا آدمی 1977ء، نوری 1979ء، سلسلہ 1981ء، سوال 1982ء، دیوانہ 1992ء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فلم دوسرا آدمی، نوری، بازار 1982ء لوری اور دیوانہ کی کہانیاں بھی لکھیں۔ ساگر سرحدی فلم میں کاروباریت اور جنس کے منفی رجحان سے بیزار ہیں۔ وہ بامعنی سینما کے متنمی ہیں ساتھ ہی وہ ادبی جمالیاتی اور فنکارانہ رچاؤ کو فلموں میں بہتر تصور کرتے ہیں۔ شاید انھوں نے اسی سبب اپنی فلم "بازار" میں میر تقی میر، مرزا شوق، بشیر نواز اور مخدوم محی الدین کی شاعری کو جگہ دی۔ بعض دفعہ وہ متنازع بھی رہے ہیں۔ بہرحال ان کی فلموں میں ہر کردار سوچتا نظرآتا ہے اور فلم بین کو معاشرے کے حقائق پر سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]