ستوتر
ستوتر (سنسکرت: स्तोत्र) سنسکرت کا ایک لفظ ہے جس کے معنی ”غزل، قصیدہ یا مناجاتی گیت“ کے ہیں۔[1][2] یہ ہندوستانی مذہبی متون کی ایک ادبی صنف ہے جسے خاص طور پر سُریلے انداز میں گانے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے برخلاف شاستر کے جو عام طور پر پڑھنے یا تلاوت کے لیے لکھے جاتے ہیں۔ لفظ ”ستوتر“ سنسکرت کے مادہ स्तु (ستو) سے نکلا ہے جس کے معنی ”تعریف کرنا“ ہیں۔[3]
ستوتر دعا، توصیف یا مکالمے کی صورت میں ہو سکتا ہے مگر اس میں شعری ساخت لازماً ہوتی ہے۔ یہ کبھی کسی دیوتا کے لیے سادہ مدحیہ نظم اور ذاتی عقیدت کا اظہار ہوتا ہے اور کبھی ایسے اشعار پر مشتمل ہوتا ہے جن میں روحانی اور فلسفیانہ تعلیمات بھی شامل ہوتی ہیں۔[4]
زیادہ تر ستوتروں (سوائے نام ستوتروں کے) کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ہر بند کے آخر میں ایک مصرع دہرایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ’مہیشاسر مردنی ستوتر‘ کے ہر بند کا آخری مصرع یہ ہے: ”جئے جئے ہے مہیشاسُر مردنی رمیاکپردنی شَیلَسُتے۔“
بہت سے ستوتر صفات الٰہی کی مدح میں ہوتے ہیں، جیسے دیوی، شیو یا وِشنو کی تعریف۔ لفظ ”ستُتی“ بھی اسی سنسکرت مادہ ستو سے نکلا ہے اور بنیادی طور پر دونوں کا مفہوم ’تعریف‘ یا ’حمد‘ ہی ہے۔ معروف ستوتروں میں شیو تانڈو ستوترم (شیو کی مدح میں) اور رام رکشا ستوتر (رام سے حفاظت طلبی کی دعا) شامل ہیں
اشتقاق اور تعریف
[ترمیم]ستوتر سنسکرت کے مادہ ستو سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ”تعریف کرنا، سراہنا یا مدح کرنا“ اور اس کے ساتھ ष्ट्रन् (ṣṭran) کا لاحقہ مل کر یہ لفظ بناتا ہے۔[4] لفظی طور پر اس کا مطلب ہے ”مدح خوانی“ یا ”قصیدہ“۔[5] ستوتر کا ابتدائی سراغ ویدک ادب خصوصاً سام وید میں ملتا ہے۔[5]
ستوتر کی صنف نہایت نفیس اور ذاتی نوعیت کی شعری تصانیف (جیسے کاویہ) سے لے کر کسی دیوی/دیوتا کے ناموں کی لا شخصی فہرستوں (نام ستوتر) تک پھیلی ہوئی ہے، جو تکرار کے ذریعے منتر کی طرح اثر رکھ سکتی ہیں۔ تاریخی طور پر ویدک بھجنوں اور دیگر نغماتی شاعری سے وابستہ ستوتر جنوبی ایشیا کی متعدد مذہبی روایات میں پائے جاتے ہیں جن میں بدھ مت، جین مت، شیومت اور ویشنومت شامل ہیں۔ یہ اکثر بڑی مذہبی کتابوں جیسے مہابھارت، راماین اور مختلف پرانوں اور تنتروں میں بھی شامل ہوتے ہیں۔[6]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Monier Williams, Monier Williams' Sanskrit-English Dictionary, Oxford University Press, Article on Stotra
- ↑ Apte 1965, p. 1005
- ↑ "Stotra". Hindupedia, the Hindu Encyclopedia (بزبان انگریزی). 30 Jun 2024. Retrieved 2025-05-07.
- ^ ا ب Nancy Ann Nayar (1992). Poetry as Theology: The Śrīvaiṣṇava Stotra in the Age of Rāmānuja (بزبان انگریزی). Otto Harrassowitz Verlag. pp. ix–xi. ISBN:978-3447032551.
- ^ ا ب Nancy Ann Nayar (1992). Poetry as Theology: The Śrīvaiṣṇava Stotra in the Age of Rāmānuja (بزبان انگریزی). Otto Harrassowitz Verlag. pp. 15–16. ISBN:978-3447032551.
- ↑ Hamsa Stainton (2019). Poetry as prayer in the Sanskrit hymns of Kashmir (بزبان انگریزی). Oxford ; New York: Oxford University Press. pp. 2–4. ISBN:978-0-19-088982-1.