ستیش چندر باسومتری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ستیش چندر باسومتری
Satish Chandra Basumatary.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 16 نومبر 1901
دھوبری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 16 نومبر 1974
کوکراجھار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
پیشہ بوڈو زبان کے شاعر، ڈراما نگار اور سماجی کارکن

ستیش چندر باسومتری (16 نومبر 1901ء- 16 نومبر 1974ء) بوڈو زبان میں شاعر کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔ یہ زبان عمومًا شمال مشرقی بھارت کی ریاست آسام اور اس کے اطراف و اکناف کے علاقہ جات میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ دیگر اصناف سخن میں ڈراما نگاری میں بھی اپنا قابل قدر تعاون کر چکے ہیں۔ ادبی سرگرمیوں کے علاوہ ایک سماجی کارکن بھی رہے تھے اور رقاہی کاموں میں پیش پیش رہے تھے۔

بوڈو ساہتیہ سبھا[ترمیم]

مزید دیکھیے: بوڈو ساہتیہ سبھا

باسومتری بوڈو ساہتیہ سبھا کے دوسرے صدر تھے۔ یہ تنظیم بوڈو زبان اور ادب کا فروع کرتی ہے۔ اس تنظیم کی تاسیس جائے بھدرا ہاگجیر کی صدارت میں کوکراجھار، آسام میں 16 نومبر، 1952ء میں ہوئی تھی۔ تنظیم میں آسام، مغربی بنگال، میگھالیہ، ناگالینڈ، تریپورہ اور نیپال کے نمائنددے موجود ہیں۔[1][2]

بوڈو برہمو سماج[ترمیم]

مزید دیکھیے: بوڈو برہمو سماج

باسومتری بوڈو برہمو سماج کے قائم کرنے کے دوران معاونین میں سے ایک تھے۔ یہ سماج بوڈو لوگوں میں برہمو عقائد کو فروغ دیتا ہے اور بوڈو لوگوں میں مسیحیت کی منظم تبلیغ کی مخالفت کرتا ہے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ستیش چندر باسومتری 16 نومبر 1901ء کو بالوک ماری گاؤں میں پیدا ہوئے جو دھوبری (کوکراجھار) کے ڈوٹما حلقے میں آتا ہے۔ وہ ٹھنڈا رام باسومتری اور کھاؤلو باسومتری کے فرزند تھے۔ ان کی اسکولی تعلیم بنگالی کے ذریعے دھوبری ہائی اسکول سے ہوئی تھی۔ انہوں نے دسویں جماعت کا امتحان 1919ء میں نکالا۔ بعد میں وہ گوہاٹی کے کاٹن کالج سے اعلٰی تعلیم حاصل کیے تھے۔ مگر وہ کالج ترک کر کے گاندھی جی کے زیر اقتدار تحریک آزادی ہند سے جڑ گئے۔ 1994ء میں وہ پہلے بوڈو رسالے بیبر کے مدیر بن گئے۔ شاعری اور ڈراما نگاری کے علاوہ وہ افسانے اور انشائیے بھی رندینی فاگلی کے قلمی نام سے لکھتے تھے۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے عام بوڈو عوام تک پہنچنا چاہتے تھے، اس وجہ سے وہ طاقت ور تخلیقات کو بھی سادہ زبان میں بیان کرتے تھے۔ وہ اپنے ہی یوم پیدائش کے مواقع پر 1974ء میں وفات پاگئے تھے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]