سجاح بنت حارث

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سجاح بنت حارث
معلومات شخصیت
شوہر مسیلمہ کذاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ واعظ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں فتنۂ ارتداد کی جنگیں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

ام صادر بنت اوس بن حق بن اسامہ یا بنت حارث بن سوید بن عقفان معروف بہ سجاح ایک کاہنہ عورت تھی ، جس نے دیگر کذابین کی طرح جزیرہ نما عربستان میں ، پیغمبر اسلام محمد صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد ، زمانہ قبل از شروع جنگ یمامہ اور اس کے وسطی دور کے دوران ، دعوی نبوت کر دیا اور اپنے قبیلے کی بزعم خود رہبر و راہنما بن گئی۔ اور دیگر مدعیان و کذابین کی طرح عربستان کی سیاسی، سماجی، معاشی اور فوجی طاقت کو اپنے زیر قدرت کرنے کے خواب دیکھتے ہوئے مرکز سلطنت اسلامی مدینہ پر نظریں جما لیں۔[1]

نسب[ترمیم]

سجاح قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتی تھی۔ اور ماں کی جانب سے سلسلہ نسب قبیلہ بنو تغلب سے جا ملتا تھا ، جو اکثریت میں مسیحی تھے. سجاح خود بھی مسیحی تھی یا اپنے مسیحی قبیلہ و خاندان کی بنا پر مسیحیت کی اچھی خاصی عالمہ تھی۔ [1]

دین سجاح[ترمیم]

آثار آیات و اصول دینی که سجاح جن کی مبلغ تھی ، ان میں سے ہم تک کچھ نہیں پہنچا. بہر حال، اس کا ایک منبر تھا اور وہ شعر و نثر میں اپنا کلام بہ دعوی آیات سناتی تھی اور اس نے ایک موذن اور حاجب بھی رکھا ہوا تھا۔ سجاح خدا کو رب السحاب یعنی بادلوں کا خدا کہتی تھی۔ .[1]

دعوی نبوت[ترمیم]

جب سجاح نے اپنی ہو نہار فطرت پر نظر کی اور دیکھا کہ مسیلمہ نے بستر پیری پر دعوی نبوت کر کے اتنا عروج و اقتدار حاصل کر لیا ہے اسے بھی اپنے جوہر خداداد سے فائدہ اٹھا کر کچھ کرنا چاہے تو مسیلمہ کی طرح نبوت کا کاروبار جاری کرنے کے قضیہ پر غور کرنے گی۔ آخر جونہی سید العرب والعجم علیہ الصلوة والسلام کی خبر وفات سنی نبوت اور وحی الہی کی دعویدار بن بیٹھی۔ سب سے پہلے بنی تغلب نے اس کی نبوت کو تسلیم کیا جن کی وجہ سے اس میں ایک گونہ قوت آگئی۔ ہذیل بن عمران جو بنو تغلب کا ایک نامور سردار اور عیسوی المذہب تھا۔ دین مسیحی چھوڑ کر سجاح پرایمان لے آیا۔ سجاح کو جب اتنی قوت حاصل ہو گئی تو اس نے تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا چنانچہ مسجع د مقفا عبارتوں میں خطوط لکھ لکھ کر تمام قبائل عرب کو اپنے کیش جدید کی دعوت دی۔ جن کی وجہ سے ہزار ہا عرب نعمت اسلام سے محروم ہو کر ہادیہ جہالت و بادیہ ضلالت میں سرگردان ہونے لگے۔ مالک ابن ہبیر ہ رئیس بنی تمیم کے نام بھی ایک خط لکھا تھا۔ وہ اس مکتوب کی فصاحت وبلاغت سن کر اس کا گرویدہ ہو گیا۔ سر آنکھوں پر چل کر جبہ سا ہوا اور ترک اسلام کر کے مرتد ہو گیا۔ بہت سے دوسرے قبائل بھی ترک اسلام کر کے سجاح کے حلقہ بگوش ہو گئے جن میں ان من احمد بن قیس اور حارث بن بدر جیسے معزز شرفاء اس کی حمایت میں نمایاں سرگرمی کا اظہار کر رہے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "Sad̲j̲āḥ"۔ دائرۃ المعارف الاسلامیہ (انگریزی زبان میں)۔ لیڈن: ای جے بِرل۔ صفحہ 738–739۔ Unknown parameter |publication= ignored (معاونت); Unknown parameter |نام خانوادگی= ignored (معاونت); Unknown parameter |name= ignored (معاونت); Unknown parameter |شابک= ignored (معاونت); Unknown parameter |volime title= ignored (معاونت)