سجادظہیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

'سجاد ظہیر کی ہمہ جہت شخصیت زندہ قوموں کے لیے ہمیشہ باعث صدافتخار رہے گی۔ زمینی سطح پر ترقی پسند ادبی تحریک کے معمار کی حیثیت سے تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ دراصل ان کے یہاں آزادی کا ایسا تصور تھا جو ہر عام آدمی کا خواب بھی تھا۔ وہ اسے شرمندہ�¿ تعبیر کرنا چاہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ زندگی کا اہم ترین حصہ اس تحریک کے لیے صرف کیاجس میں تمام انسانی برادری کی فلاح بہبود شامل تھی۔ باضابطہ طور پر انہوں نے 1919میں تحریک آزادی میں حصہ لینا شروع کیا۔ یہ وہ دور تھا جب سارے عالم میں صحت مند تبدیلی کے لیے تگ و دو جاری تھی۔ ہندوستان میں ہر سطح پر ایک انقلاب بپا تھا۔ سجّاد ظہیر اس لیے زیادہ اہم ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے پوری عالمی برادری کی توجہ اس طرف مبذول کروانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس (لندن برانچ) میں ان کی شمولیت اس لیے بھی یاد کی جاتی ہے کہ انگریزوں کے خلاف ہندوستانی طلبہ کو جمع کیا اور مقاصد کی تکمیل کے عمل میں رسالہ ”بھارت“کے مدیر بھی بنے۔1929ء میں انگلینڈ میں بھی ایسے طلبہ کو جمع کیا جن کا رجحان ہندوستانی کمیونزم کی طرف تھا۔ 1936ء میں جس ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس لکھنؤ میں ہوئی اس پر سجاد ظہیر نے بہت پہلے سے کام کرنا شروع کر دیاتھا۔ 1935ء میں انہوں نے لندن میں ہندوستانی ترقی پسند مصنفین کی انجمن قائم کی۔ باضابطہ طور پر مینی فیسٹو تیار کیا۔ جب نومبر 1935 میں ہندوستان واپس آئے تو انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ میں وکالت شروع کر دی۔ انڈین نیشنل کانگریس کے رکن کی حیثیت سے پنڈت جواہر لعل نہرو کے ساتھ تحریک میں معاونت کی۔ چونکہ سجّاد ظہیر کا وژن آفاقی تھا اس لیے انہیں بیرون ممالک میں خصوصی طور پر مسلم سماج کو جوڑنے کی ذمہ داری دی گئی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب انہوں نے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کانگریس سوشلسٹ پارٹی اور آل انڈیا کسان سبھا جیسی تنظیموں کی تشکیل کی۔ انڈرگراﺅنڈ ہو کر کمیونسٹ لیڈروں جیسے آرڈی بھاردواج کامریڈ سی پی جوشی وغیرہ کے ساتھ کام کیااپنے موقف کی ترجمانی کے لیے ماہنامہ ”چنگاری“ نکالا اور اس کے مدیر بھی رہے۔ سجّاد ظہیر کی تاریخ ساز فتوحات کے لیے 1936 کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس کے روح رواں ہوئے۔ لکھنومیں اس تاریخی کانفرنس کی صدارت منشی پریم چند نے کی اور سجّاد ظہیر اس انجمن کے سکریٹری ہوئے۔ ملک گیر سطح پر شامل مندوبین کی موجودگی میں منشی جی نے یادگار خطبہ پیش کیا اور اپنی تقریر میں پریم چند نے خصوصی طور پر زور دیا کہ— ”ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت، ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے، سُلائے نہیں کیونکہ اب زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی۔“ پریم چند کے اس واضح نظریے سے خاص تبدیلیاں رونما ہوئیں اور سجّاد ظہیرکا بڑا مقصد پورا ہوا مگر اس کے لیے وہ لگاتار عملی اقدامات کرتے رہے۔ پا بندیاں لگیں یا قید میں رہے تب بھی مختلف ناموں سے اخباروں میں لکھتے رہے۔ 1942میں جب کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے پابندی ہٹی تو باضابطہ طور پر اس عوامی تحریک کو وسعتیں عطا کیں ”قومی جنگ“ اور ”نیازمانہ“ جیسے اخباروں کے مدیر اعلیٰ بھی رہے۔ سجّاد ظہیر نے باضابطہ طور پر 1927 سے بیرون ممالک کی سیّاحی شروع کر دی تھی جس کا مقصد عالمی سطح پر مختلف زبانوں کے ادیبوں دانشوروں، فنکاروں کوانجمن سے وابستہ کرنا تھا۔ عملی طور پر انہوں نے 1943میں یہ کامیابی حاصل کی کہ ہندوستان کی مختلف زبانوں کے دانشوروں کو انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ کیا۔ حالانکہ تقسیم کے بعد کمیونسٹ پارٹی کے فیصلے کے مطابق وہ پاکستان چلے گئے اور پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری بنائے گئے۔ یہ عجیب سانحہ تھا کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے خود کو وقف کرنے کے باوجود عوام کو ذہنی غلامی سے نجات دلانے کا بڑا مسئلہ درپیش تھا۔ انہیں 1951میں حکومت پاکستان نے راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا اوراس طرح حیدرآباد سندھ، کوئٹہ اور دوسری جیلوں میں ساڑھے چار برس انتہائی صعوبتیں جھیلتے رہے۔ ان کی صحت پر بھی اس کا برا اثر پڑالیکن مقصد حیات کو کبھی فوت نہیں ہونے دیا۔ ان کا عزم اتنا بلند تھا کہ جیل کی اذیتوں میں اور بھی مستحکم ہوتا رہا۔ حافظ کی شاعری پر تحقیق کا بھی یہی دور تھا ساتھ ہی ان کی لافانی کتاب ”روشنائی “بھی اسی دوران لکھی گئی۔ جب وہ پاکستان جیل سے آزاد ہوئے تو 1955 میں ہندوستان واپس لوٹے۔ سجّاد ظہیر کے ہندوستان میں آنے کی خبر سے ہندوستانی ادیبوں، فنکاروں میں پھر سے نئی توانائی پیدا ہو گئی۔ سجّاد ظہیر نے بھی اسے شدت سے محسوس کیا اور پھر اپنے مینوفیسٹو پر کام کرنے لگے۔ یعنی پھر ہندوستان میں انجمن ترقی پسندمصنفین کو فعال کیا گیا اور وہ اس کے جنرل سکریٹری بھی ہوئے۔ سجّاد ظہیر کی کوشش تھی کہ سارے عالم میں ہندوستانی ادب کو محترم کیا جائے ساتھ ہی ہم عالمی ادبیات سے حتی الامکان استفادہ بھی کریں۔ اسی لیے انہوں نے 1958 میں روس (تاشقند) میں منعقد ایفرو ایشین رائٹرس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس تنظیم کے اغراض و مقاصد بھی ترقی پسند مصنفین کی انجمن کے استفادے کے لیے انتہائی سودمند تھے۔ اس لیے دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی تاشقند کی اس تنظیم کا برانچ قائم ہوا اور سجّاد ظہیر سکریٹری منتخب ہوئے۔ اس ایسو سی ایشن کے ذریعہ خصوصی طور پر ہندسوویت دوستی کو استحکام عطا کرنے کی بھی کوشش کی گئی اور اس کے اثرات دور رس رہے۔ چونکہ سجّاد ظہیر اب یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ باضابطہ طور پرنئے افکار اور ملّی مفاد کے پیش نظر ایک اخبار ایسا ہونا چاہیے جو نئی ترقی پسندی کی ترجمانی کر سکے۔ اسی لیے وہ 1959 میں ایک اخبار”عوامی دور“جسے ”حیات“ کے نام سے بھی جانا گیا، چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے اپنے مقاصد کی تکمیل کا خوبصورت وسیلہ بنایا۔ سجّاد ظہیر کو بخوبی علم تھا کہ عالمی سطح پر ہندوستان ایک بڑی طاقت کے روپ میں قائم ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اسی لیے بعض بڑی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ یہ ملک مضبوط ترین ہو جائے۔ فسطائی طاقتیں صرف ہندوستان کوہی کمزور نہیں کر رہی تھیں بلکہ اس کی زد میں دوسری عالمی بستیاں بھی تھیں۔ اسی لیے جنگ ایک بڑا مسئلہ تھا اور اسے روکنے کے لیے امن سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے 1962 میں اسلحہ بندی اور امن عالم کی کانفرنس کا انعقاد ماسکو میں کیا گیا۔ سجّاد ظہیر نہ صرف اس میں شامل ہوئے بلکہ ایفرو ایشین رائٹرس ایسو سی ایشن کو بھی مزید مستحکم کیا۔ سجّاد ظہیر نے ادیبوں، شاعروں، فنکارو ں اور دوسرے دانشوروں کے تعاون سے روس، برطانیہ، فرانس، بلجیم، پاکستان، افغانستان، کیوبا، ویتنام، سری لنکا، عراق، شام جرمنی، پولینڈ، ڈنمارک، سوئزرلینڈ، آسٹریلیا، اٹلی، لبنان، الجزائر، مصر، ہنگری، بلغاریہ، چیکوسلوواکیہ اور رومانیہ میں امن عالم کی تحریک کو نئی معنویت عطا کرتے ہوئے اس تحریک کا سر بلند کیا ساتھ ہی ترقی پسندی کا آفاقی تصور ایک خوبصورت تعبیر بن کر ابھرا۔ اس طرح انہوں نے ملی مفاد کے پیش نظر دنیا کے بیشتر ممالک میں کام کرتے رہے۔ وہ شاید باخبر تھے کہ میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگر سفر، سفر ہے میرا انتظار مت کرنا 13ستمبر 1973 کو جب حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا تو وہ روس کے سفر پر تھے۔ الما آتا روس سے ان کی لاش ہندوستان لائی گئی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ اوکھلا نئی دہلی کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔ ادبی و علمی کارنامے— سجّاد ظہیرکی شہرت کا اپنا کوئی مسکن نہیں۔ مکمل طور پر ان کی وسعتوں کا اندازہ دور گہرائیوں میں ڈوب کر بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ مگر تنظیمی اور ادبی سطح پر ان کی معرکہ آرائیوں سے کوئی بھی دیانتدار سماج یقینا استفادہ کر سکتا ہے۔ 1935میں اس معاملے میں بہت اہم ہے کہ یہ وہ دور تھا جب ترقی پسند ادبی تحریک کو مقصد یت عطا کرنے کی کوشش جاری تھی۔ اسی دوران ان کا افسانوی مجموعہ ”انگارے“ ڈراما ”بیمار“ اور ناول ”لندن کی ایک رات“منظر عام پر آتا ہے۔ حالانکہ ”انگارے“ میں شامل افسانے پہلے شائع ہوچکے تھے اور ان افسانوں کے اثرات کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ کوئی بھی بامقصد زندگی خود کو متحرک کرنے کے لیے ان تخلیقات سے ضرور گزرنا چاہتی تھی۔ برٹش سرکار کے نشانے پریہ افسانے بھی رہے۔ اسی طرح ان کا ڈراما”بیمار“ اور ناول ” لندن کی ایک رات“کو اردو کا ادبی سرمایہ قابل صداحترام تصور کرتا ہے۔ ان تخلیقات نے سجّاد ظہیر کو اردو ادب میں انتہائی استحکام بخشا ہے۔ جبکہ ان کی نثری نظموں کا مجموعہ ”پگھلا نیلم“ جو 1964 میں شائع ہوا اسے بھی متن اور ہئیتی تجربے کے لیے ہمارے ادب کا ناگزیر حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔ چونکہ عالمی ادبیات پر سجّاد ظہیر کی گہری نگاہ تھی اسی لیے انہوں نے شیکسپیئر (اوتھیلو)، رابندر ناتھ ٹیگور (گورا)، خلیل جبران (پیغمبر) کے علاوہ دوسرے کئی فنکاروں کی تخلیقات کے ترجمے بھی کیے ساتھ ہی مختلف سماجی، ملی، سیاسی، ثقافتی، ادبی موضوعات پر مضامین لکھے۔ ملک اور بیرون ملک کے اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ 1942میں اسیری کے دوران جیل سے اپنی بیوی رضیہ سجاد ظہیر کے نام فرط جذبات سے لبریز انتہائی خوبصورت خطوط لکھے جسے ”نقوش زنداں‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ سجّاد ظہیر کے پسندیدہ شاعروں میں حافظ سرفہرست تھے۔ ان کی تحریروں میں حافظ جابجا نظر آتے ہیں۔ 1942 میں ہی ”ذکر حافظ“ کے نام سے حافظ کی شاعری پر ان کا بیش بہا تحقیقی مقالہ شائع ہوااور اس کتاب کی اتنی اہمیت ہے کہ حافظ پر مستند گفتگو اس کے بغیر معتبر نہیں ہوسکتی۔ ”روشنائی“ جو ترقی پسند مصنّفین کی تاریخ سے منسوب ہے، سجّاد ظہیر کی مقبول ترین کتابوں میں ایک ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے مسلّم ہے کہ ترقی پسند تحریک کی مستند تاریخ کے ساتھ اس کی معنویت کا اس سے بہتر احاطہ اب تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔ ”روشنائی“عوامی بیداری اور مقصد حیات کی تکمیل کے لیے ایک ضروری کتاب ہے۔ اب بھی نئی دنیا اس سے تحریک حاصل کر رہی ہے۔ محض سو برسوں میں نہ جانے کتنی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ ہر لمحہ دنیا میں تغیر آ رہا ہے۔ ہمارا عہد اب کوئی سمت متعین نہیں کرتا بلکہ تغیر ہی کسی راہ کا تعین کرتی ہے۔ سجّاد ظہیر نے اس حقیقت کو زمین پر لانے کی کوشش کی تھی جو انسان کو اور خصوصی طور پر عام انسان کو پوری دنیامیں افضلیت عطا کر سکے۔ انہیں بخوبی اندازہ تھا کہ ترقی پسندی ہی ہمیشہ تغیرات کو معنویت سے روشناس کرواسکتی ہے۔ متعصب رویے تو تیز رفتار زندگی کی نذر ہوجاتے ہیں۔ اب کسے فرصت ہے کہ مذہب، ذات، فرقے کی فرسودہ روایتوں میں اپنے تابناک مستقبل کو دفن کرے۔ بس حقیقت نگار ہی نئی دنیا کا علمبردار ہو سکتا ہے۔ ایسے میں سجّاد ظہیر کا نظریہ ہی ہماری رہنمائی کے لیے معاون ہے۔