سجاد باقر رضوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سجاد باقر رضوی
معلومات شخصیت
پیدائش 4 اکتوبر 1928  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اعظم گڑھ،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 13 اگست 1992 (64 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن ماڈل ٹاؤن، لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس،  پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مترجم،  شاعر،  ادبی تنقید نگار،  محقق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل غزل،  ترجمہ،  ادبی تنقید،  نظم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت اسلامیہ کالج لاہور،  اورینٹل کالج لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

ڈاکٹر سجاد باقر رضوی (پیدائش: 4 اکتوبر، 1928ء- وفات: 13 اگست، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، محقق، مترجم، نقاد اور ماہرِ تعلیم تھے جو اپنی کتاب مغرب کے تنقیدی اصول کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر سجاد باقر رضوی 4 اکتوبر، 1928ء کو برطانوی ہندوستان میں ضلع اعظم گڑھ کی تحصیل پھول پور کے گاؤں چمانواں میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید اولاد باقر تھا۔[1][2] 1942ء میں میٹرک اور 1946ء میں انٹرمیڈیٹ کا امتحان یوپی بورڈ سے بطور پرائیویٹ امیدوار پاس کیا۔[3] قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلے کراچی میں قیام اختیار کیا اور کراچی یونیورسٹی سے بی اے آنرز (انگریزی) اور ایم اے (انگریزی) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پھر انہوں نے اسی یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی بھی کیا بعد ازاں وہ لاہور منتقل ہو گئے جہاں وہ اسلامیہ کالج سول لائنز اور اورینٹل کالج جامعہ پنجاب سے وابستہ رہے۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

سجاد باقر رضوی نے بیک وقت تنقید بھی لکھی، شاعری بھی کی اور انگریزی زبان کی کتب کے اردو میں تراجم کرکے اردو ادب کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ بھی کیا۔ ان کا شمار ایسے نقادوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تنقید کو نہ صرف یہ کہ پڑھنے کے قابل بنایا، بلکہ انہوں نے فن پاروں کو پرکھنے کے لیے اصول و ضوابط بھی وضع کیے[4]۔ ان کی تنقیدی کتب مغرب کے تنقیدی اصول اور تہذیب و تخلیق اردو تنقید کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں تیشۂ لفظ اور جوئے معانی شامل ہیں جبکہ ان کے تراجم میں داستان مغلیہ، افتاد گان خاک، حضرت بلال اور بدلتی دنیا کے تقاضے کے نام سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پی ایچ ڈی کا مقالہ طنز و مزاح کے نظریاتی مباحث اور کلاسیکی اردو شاعری 1857ء تک بھی اشاعت پزیر ہوچکا ہے۔[1]

تصانیف[ترمیم]

تنقید[ترمیم]

  • 1966ء - مغرب کے تنقیدی اصول
  • 1966ء - تہذیب و تخلیق
  • 1988ء - وضاحتین
  • 1988ء - معروضات
  • 1988ء - باتیں
  • 1994ء - علامہ اقبال اور عرض حال

شعری مجموعے[ترمیم]

تراجم[ترمیم]

  • 1968ء - داستان مغلیہ
  • 1969ء - جدید ناول نگار (امریکا میں)
  • 1969ء - افتاد گان خاک
  • 1988ء - بلال
  • 1991ء - بدلتی دنیا کے تقاضے
  • 1996ء - جدید دنیا میں روایتی اسلام

متفرکات[ترمیم]

  • 1969ء - غالب - ذاتی تاثرات کے آئینے میں (مرتب)
  • 1988ء - قائد اعظم محمد علی جناح -معمار پاکستان

درسی کتب[ترمیم]

سجاد باقر رضوی کی شخصیت و فن پر تحقیقی مقالات[ترمیم]

سجاد باقر رضوی کی ادبی خدمات (پی ایچ ڈی مقالہ)، عارف محمود، پنجاب یونیورسٹی لاہور، 1997ء

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

جرم اظہارِ تمنا آنکھ کے سر آگیا چور جو دل میں چھپا تھا آج باہر آگیا
میرے لفظوں میں حرارت میرے لہجے میں مٹھاسجو کچھ ان آنکھوں میں تھامیرے لبوں پر آگیا
جن کی تعبیروں میں تھی اک عمر کی وارفتگی پھر نگاہوں میں انہیں خوابوں کا منظر آ گیا
شہر کے آباد سناٹوں کی وحشت دیکھ کر دل کو جانے کیا ہوا میں شام سے گھر آگیا
پہلے چادر کی ہوس میں پاؤں پھیلائے بہتاب یہ دکھ ہے پاؤں کیوں چادر سے باہر آگیا
ہم دوانوں کے لیے تھیں وسعتیں ہی وسعتیں ختم جب سحرا ہوا آگے سمندر آگیا
تم نے باقر دل کا دروازہ کھلا رکھا تھا کیوں جس کو آنا تھا وہ آخر درد بن کر آگیا

غزل

ہم راز گرفتاریٔ دل جان گئے ہیںپھر بھی تری آنکھوں کا کہا مان گئے ہیں
تو شعلۂ جاں نکہت غم صوت طلب ہے ہم جاںِ تمنا تجھے جان گئے ہیں
کیا کیا نہ ترے شوق میں ٹوٹے ہیں یہاں کفر کیا کیا نہ تری راہ میں ایمان گئے ہیں
اس رقص میں شعلے کے کوئی سحر تو ہوگاپروانے بڑی آن سے قربان گئے ہیں
کھینچے ہے مجھے دستِ جنوں دشت طلب میں دامن جو بچائے ہیں گریبان گئے ہیں
باقر ہے اسی گرد راہ دل کا پرستارجس راہ سے کچھ صاحبِ دیوان گئے ہیں

وفات[ترمیم]

سجاد باقر رضوی 13 اگست، 1992ء کو لاہور، پاکستان وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں ماڈل ٹاؤن کے جی بلاک کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 708
  2. عارف محمود: سجاد باقر رضوی کی ادبی خدمات (پی ایچ ڈی مقالہ)، ص 19، پنجاب یونیورسٹی لاہور، 1997ء
  3. عارف محمود: سجاد باقر رضوی کی ادبی خدمات (پی ایچ ڈی مقالہ)، ص 22، پنجاب یونیورسٹی لاہور، 1997ء
  4. عارف محمود: سجاد باقر رضوی کی ادبی خدمات (پی ایچ ڈی مقالہ)، ص 35، پنجاب یونیورسٹی لاہور، 1997ء
  5. عارف محمود: سجاد باقر رضوی کی ادبی خدمات (پی ایچ ڈی مقالہ)، ص 48، پنجاب یونیورسٹی لاہور، 1997ء