سدھیر (پاکستانی اداکار)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سدھیر
معلومات شخصیت
پیدائش 25 جنوری 1921  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 جنوری 1997 (76 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
زوجہ زیبا، اداکارہ (1964–1966)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلم ساز،  فلم ہدایت کار،  اداکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان ہندی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
نگار ایوارڈ

شاہ زمان المعروف سدھیر، لالہ سدھیر (انگریزی: Sudhir) (پیدائش: 25 جنوری 1921ء- وفات: 19 جنوری 1997ء) پاکستانی فلمی صنعت کے مشہور و معروف اداکار، ہدایتکار اور فلم سازتھے۔ انہیں ایکشن اور جنگجو ہیرو بھی کہا جاتا ہے کیونکہ زیادہ تر کردار انہوں نے ایک بہادر اور لڑاکا انسان کے ادا کیے۔

حالات زندگی و فنی خدمات[ترمیم]

سدھیر 1922ء کو لاہور، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے[1][2]۔ ان کا اصل نام شاہ زمان خان آفریدی تھا لیکن فلمی صنعت میں سدھیر اور لالہ سدھیر کے نام سے مشہور ہوئے۔ لالہ سدھیر کی فلمی زندگی کا آغاز تقسیم ہند سے پہلے بمبئی میں بننے والی فلم فرض سے ہوا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد انہوں نے ہدایت کار شیخ محمد حسین کی فلم ہچکولے سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا، تاہم ان کی اصل شہرت کا آغاز ہدایت کار سبطین فضلی کی فلم دوپٹہ سے ہوا۔ اس فلم میں ہیروئن کا کردار ملکہ ترنم نورجہاں نے ادا کیا تھا۔[3]

سدھیر کی 1954ء میں بننے والی فلم سسی پہلی اردو فلم تھی جو گولڈن جوبلی ثابت ہوئی۔ 1956ء میں دلا بھٹی، ماہی منڈا اور 1957ء میں یکے والی بہت کامیاب فلمیں ثابت ہوئیں۔ صرف یکے والی نے اتنا بزنس کیا کہ اس کے فلم ساز باری ملک نے باری اسٹوڈیو کے نام سے بہت بڑا فلم اسٹوڈیو تعمیر کیا۔ 1956ء میں سدھیر نے فلم باغی میں کام کیا جس کے ہدایتکار اشفاق ملک تھے۔ اس فلم کو چین میں خصوصی ایوارڈ بھی ملا[2]۔ ان کی دیگر مقبول فلموں میں بغاوت، جی دار، حکومت، چاچا خوامخواہ، ڈاچی، ماں پتر، ابا جی، چٹان، حاتم، جانی دشمن، لاٹری، ٹھاہ، جھومر اور ان داتا شامل ہیں۔[1]

سدھیر نے 200 سے زائد فلموں میں اپنے وقت کی معروف ہیروئینوں کے مقابل مختلف کردار کیے، جن میں نورجہاں، صبیحہ خانم، مسرت نذیر، یاسمین، آشا پوسلے، لیلیٰ، راگنی، زیبا، دیبا، شمیم آرا، ریحانہ، نیئر سلطانہ، حسنہ، نیلو، نجمہ، فردوس، نغمہ، سلونی، شیریں، بہار بیگم اور رانی نمایاں ہیں۔[1]

شادی[ترمیم]

سدھیر نے پانچ شادیاں کیں، دو شادیاں خاندان میں ہوئیں، تیسری اداکارہ شمی سے ہوئی، چوتھی شادی فلم اداکارہ زیبا سے کی جو جلد ہی ختم ہو گئی۔ زیبا نے بعد میں فلم اداکار محمد علی سے شادی کی۔[2]

بحیثیت اداکار مشہور فلمیں[ترمیم]

  • ہچکولے
  • ماہی منڈا
  • یکے ولی
  • دلا بھٹی
  • سسی
  • ڈوپٹہ* کرتار سنگھ
  • ماں پتر
  • ڈاچی
  • ٹھاہ
  • لاٹری
  • انار کلی
  • مرزا صاحباں
  • باغی
  • حاتم
  • آنکھ کا نشہ
  • جھومر
  • اَن داتا
  • چاچا خوامخواہ
  • جی دار
  • ساحل
  • نوراں
  • گل بکاؤلی
  • سوہنی
  • حکومت
  • مرزا غالب
  • دشمن کی تلاش

اعزازات[ترمیم]

سدھیر کو 1970ء میں پنجابی فلم ماں پتر اور 1974ء میں ایک اور پنجابی فلم لاٹری پر بہترین اداکار کا نگار ایوارڈ دیا گیا۔ 1981ء میں انہیں 30 سالہ فلمی خدمات پر حسن کارکردگی کے خصوصی نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔[1][2]

وفات[ترمیم]

سدھیر 19 جنوری، 1997ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]