سد ذو القرنین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سد ذو القرنین سے منسوب جگہ

سد ذو القرنین ایک مشہور دیوار کا نام ہے اکثر مورخین اسلام اس کو سد یاجوج بھی کہتے ہیں۔ [1]جو مذہبی اور تاریخی حیثیت سے انتہائی شہرت کی حامل ہے اور محققین کی تحقیقات کے مطابق منگولیا میں واقع ہے ۔ لیکن آج تک اس راز سے صحیح طرح سے پردہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد دیوار چین ہے اور بعض کی رائے کچھ اور ہے۔

اسلامی نظریہ[ترمیم]

قرآن کریم نے سورہ کہف میں یاجوج و ماجوج کے ذیل میں ذو القرنین کے حالات بیان کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ جب ذو القرنین اپنی شمالی مہم کے دوران دو دیواروں (پہاڑوں) کے درمیان پہنچا تو وہاں اسے ایسی قوم ملی جس کی زبان اس کے لیے ناقابلِ فہم تھی۔ یہ دیوار قفقاز (Caucasus) کے علاقہ داغستان میں دربند اور داریال (Darial) کے درمیان بنائی گئی تھی۔ قفقاز اس ملک کو کہتے ہیں جو بحیرہ اسود (Black Sea) اور بحیرہ خزر (Caspian) کے درمیان واقع ہے۔ اس ملک میں بحیرہ اسود سے داریال تک تو نہایت بلند پہاڑ ہیں اور ان کے درمیان اتنے تنگ درے ہیں کہ ان سے کوئی بڑی حملہ آور فوج نہیں گزر سکتی۔ البتہ دربند اور داریال کے درمیان جو علاقہ ہے اس میں پہاڑ بھی زیادہ بلند نہیں ہیں اور ان میں کوہستانی راستے بھی خاصے وسیع ہیں۔ قدیم زمانے میں شمال کی وحشی قومیں اسی طرف سے جنوب کی طرف غارت گرا نہ حملے کرتی تھیں اور ایرانی فرمانروائوں کو اسی طرف سے اپنی مملکت پر شمالی حملوں کا خطرہ لاحق رہتا تھا۔ انہی حملوں کو روکنے کے لیے ایک نہایت مضبوط دیوار بنائی گئی تھی جو 50میل لمبی290 فٹ بلند اور 10فٹ چوڑی تھی۔ ابھی تک تاریخی طور پر یہ تحقیق نہیں ہوسکا ہے کہ یہ دیوار ابتداً کب اور کس نے بنائی تھی۔ مگر مسلمان مؤرخین اور جغرافیہ نویس اسی کو سدذوالقرنین قرار دیتے ہیں اور اس کی تعمیر کی جو کیفیت قرآن مجید میں بیان کی گئی ہے اس کے آثار اب بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔[2]

دیوار کا ڈھانچہ[ترمیم]

تاریخ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ یہ دیوار ذو القرنین نامی پیغمبر نے لوہے کو پگھلا کر تعمیر کی تھی۔ ابن جریر طبری نے اس کی ماہیت کے حوالے سے اس قسم کا مفہوم بیان کیا ہے کہ شاید یہ کوئی چمکدار اور مضبوط دیوار ہے۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر تیسیر القرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی
  2. تفہیم القرآن ابوالاعلی مودودی ج 3
  3. ابن جریر طبری، تاریخ طبری