سرائیکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سرائیکی وسیب سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

پاکستان میں سرائیکی زبان والے وادی سندھ کے بالائی میدان کے علاقے کو سرائیکستان کہتے ہیں۔ سرائیکی پاکستان کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے۔ سرائیکستان ایک جغرافیائی خطہ ہے۔ اس کی تاریخ بہت قدیم ہے۔

سرائیکستان میں کل 15 اضلاع شامل ہی،راجن پور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان'لیہ،بھکر سرائیکستان کے اہم علاقے ہیں۔ سراٸکستان کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ سلطنت ملتان'جو اس وقت کے علاقوں جن میں بھکر ، ڈیرہ غازیخان شامل ہے، پر مشتمل تھی اور اس سلطنت کو عرب مورخ "بیت الزاھب" یعنی سونے کا گھر کے نام سے یاد کرتے ہیں' سراٸکستان کی قدیم تاریخ کی گواہی دیتا ہے۔ اور یہ وہی سلطنت ہے جسے انسانی تاریخ کی پہلی مہذب سلطنت کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ سلطنت مغلیہ عہد میں بھی آٹھویں بڑے صوبے کی حیثیت سے جانی جاتی تھی اور یہ کہا جاتا تھا کہ دلی اس کا کا حکمران وہی ہو گاا جس کا ملتان ہوگا۔ تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سراٸکستان کی تاریخ بہت قدیم ہے۔

سرائیکستان کی زبان[ترمیم]

سرائیکی سرائیکستان کی اہم زبان ہے۔ سرائیکی زبان و کلچر کی ترویج کے لیے ہزاروں کتابیں سرائیکی ،اردو ،انگریزی اور دوسری زبانوں میں لکھی گئیں۔ سیکڑوں شعراہ کرام نے نہ صرف اپنا کلام سرائیکی میں لکھا بلکہ سرائیکی وسیب کے لوگوں کی محرومیوں اور دکھ درد کو ایوان بالا تک پہنچانے کے لیے اپنے کلام کو ذریعہ بنایا۔ سرائیکی ادبی تنظیم سرائیکی لوک سانجھ جس میں وسیب کے بڑے بڑے نام شامل رہے اپنی جدوجہد کا سفرفکری سوچ سے شروع کیا۔ اس تنظیم میں فدا حسین گاڈی،صوفی شاعر ڈاکٹر اشو لال ،عاشق بزدار ،ارشاد تونسوی ،ظہور دمانی مرحوم ،سرائیکی شاعر سعید اختر سیال ،صابر چشتی مرحوم ،مظہر لشاری ،حبیب موہانہ ،بلند اقبال ،ظفر درانی ،ڈاکٹر رفیق سندھی فقیر ،احسن واگا ،رفعت عباس ،مظہر تابش ،احسان رحمانی راجنپوری جیسے شعرا اور ادیب اور کالمنگار کے علاوہ درجنوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی سرائیکی عوام کی الگ شناخت اور سرائیکی صوبے کے حصول کی جدوجہد میں وقف کر دی۔ آج’’سرائیکی لوک سانجھ‘‘ کا سفر فکر سے سیاست تک پہنچ گیا ہے۔