سرابند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سربنی
Portrait of Ahmad Shah Durrani.jpg
احمد شاہ ابدالی, who established the درانی سلطنت in 1747. The name of درانی tribe originates from that period
Hamid Karzai 2004-06-14 140x190.jpg
حامد کرزئی, تا حال of افغانستان، from Popalzai درانی قبلیہ
کل آبادی
(کئی لاکھ)
گنجان آبادی والے علاقے
افغانستان، پاکستان
زبانیں
پشتو، اردو، ہندکو، دری
مذہب
اسلام
متعلقہ نسلی گروہ
دیگر پشتون قبائل، دیگر Iranian peoples

سربنی افغانوں کے شجرہ نسب میں قیس کے بڑے لڑکے کا نام تھا۔[1] یہ کلمہ سرابند، سربن اور سڑبن کی شکل میں ملتا ہے۔ سھتی اقوام جو دریائے جیحوں اور سیحوں کے درمیان میں آباد تھیں۔ جو میساجٹی یعنی جیٹی کے نام سے مشہور ہوئیں۔ یہ مختلف ملکوں پر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے اسیریا و میدیا اور دوسری بہت سی سلطنتوں پامال کیا۔ انہیں سارومنسن (سورج کے پجاری) بھی کہا گیا ہے۔ کیوں کے یہ سورج کی پوجا کرتے تھے۔[2] اس علاقے کی قومیں مختلف ناموں سے مشہور ہوئیں۔ یعنی یوچی جو جیٹا میٹی یعنی جٹی مشہور ہوئے۔ یونانی انہیں اندوسیتھس جانتے تھے۔ مساجیٹی قوم یعنی جیٹ یا جٹ میں ایک قوم آسی یا اسو تھی۔ اس قوم کی اکثریت اندو نسل تھی۔ مگر ایک شاخ سوریا کے نام سے معروف تھی اور وہ اس گھوڑے کی پوجا کرتے تھے جو سورج کے نام پر چڑھایا جاتا تھا۔ قربانی کی یہ رسم سیھتی اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج جدی میں داخل ہوتا تھا۔ برصغیر میں سورج بنسی یہ رسم اسی طرح سے ادا کرتے تھے جس طرح سیتھی وسط ایشیا میں ادا کرتے تھے اور یہ رسم اشو مید کہلاتی تھی۔ اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ برسغیر کے سورج بنسی ان کے ہم نسل ہیں یا ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔[3] گھوڑے کو فارسی میں اسپ، سنسکرت میں اشو۔ اوستا اور پشتو میں اسپو کہتے ہیں۔ برصغیر کے سورج بنسی ابتدا میں صرف سورج کی پوجا کرتے تھے۔ جب کہ دوسرے دیوتاؤں کی پوجا بعد میں شروع کی۔ سراشٹر میں بے سمار سورج کے شوالے اس طرح ہیں جس طرح سیتھا کے علاقے میں تھے۔ سورج کی پوجا کی وجہ سے یہ علاقہ سارس یعنی سورج کی پوجا کرنے والوں کا علاقہ مشہور ہوا۔ قدیم جغرافیہ دان اسے سورس ٹرین یا ساسٹرین لکھتے ہیں۔ اسٹروبیو نے یہاں کے باشندوں کو سورس لکھا ہے۔ اس طرح سورت دیس مشہور ہوا، جس کے معنی سورج کو پوجا کرنے والوں کا علاقہ کے ہیں۔[4] برصغیر کے سورج بنسی سوریہ کہلاتے ہیں۔ سکندرکے حملے کے وقت کے یونانی مورخین نے لکھا ہے کہ متھرا اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو سور کہتے تھے۔ غوری ابتدا میں سور کہلاتے تھے۔ افغانوں کا ایک قبیلہ سوری ہے۔ بالاالذکر بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سر اور سور یہ قدیم زمانے میں سورج کے لیے استعمال ہوتے تھے اور ایک دوسرے کے متبادل کلمات ہیں جس کی بہت سی شکلیں ہیں۔ یہ کلمات افغانوں کے شجرہ نسب بالاالذکر صورتوں کے علاوہ اور دوسری صورتوں میں ملتا ہے۔ مثلاً سرکانی، سریا، سورانی، سرون، سرن سروان، سڑنی، سرپیال، سرکی، سانڈی، سوانی، سوکڑی، سورایگی، سوک، سودار، شرن، سرخبون وغیرہ کی شکل میں ملتا ہے۔ یہ کلمہ جو سر، سٹر، سور، شر وغیرہ اس کی شکلیں ہیں اور اس میں نسبتی کلمات لگائے گئے ہیں اور یہ نام راجپوتوں میں بھی ملتے ہیں۔ بالاالذکر کلمہ سر جس کی پشتو شکل سڑ ہے اور اس کے ساتھ بن یا بند کے معنی گروہ کے ہیں۔ یعنی سڑبن کے معنی سورج کے پجاری کے ہیں یعنی یہ قدیم زمانے میں سورج کی پوجا کرتے تھے۔ بعد مسلمان ہونے کے بعد وہ اس حقیقت کو بھول گئے اور یہ کلمہ ان کی روائیتوں میں زندہ رہا اور بعد میں جب شجرہ نشب ترتیب دیا گیا تو اسے نہ صرف اپنے شجرہ نسب میں جگہ دی بلکہ قبائیل کے ایک گروہ کا مورث اعلیٰ کی حثیت سے پیش کیا۔ بلکہ گمان غالب ہے اس کلمہ جو ان کی روائیتوں میں محفوظ تھا، اس کی نسبت سے ان میں گمان ہوا کے یہ بنی اسرائیل سے ان کا نسلی تعلق ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نعمت اللہ ہراتی، مخزن افغانی، 414
  2. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 72۔ 76
  3. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 76 تا 78
  4. جیمزٹاڈ۔ تاریخ راجستان جلد اول، 235۔ 237