سراج الدین ظفر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سراج الدین ظفر
پیدائش 25 مارچ 1912ء
جہلم، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)
وفات 6 مئی 1972(1972-05-06)ء (60 سال)
کراچی، پاکستان
آخری آرام گاہ گورا قبرستان، کراچی
قلمی نام سراج الدین ظفر
پیشہ شاعر، افسانہ نگار
زبان اردو
نسل پنجابی
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
اصناف نظم، غزل، افسانہ، مضامین
نمایاں کام غزال و غزل
زمزمۂ حیات
دریچے اور صحرا
سفر کی عطا
اہم اعزازات آدم جی ادبی انعام

سراج الدین ظفر (پیدائش: 25 مارچ 1912ء - وفات: 6 مئی 1972ء) اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور شاعر اور افسانہ نگار تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

سراج الدین ظفر 25 مارچ، 1912ء کو جہلم، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ ان کی والدہ بیگم زینب عبد القادر خود بھی اردو کی ایک مشہور مصنفہ تھیں اور ان کے نانا فقیر محمد جہلمی سراج الاخبار کے مدیر اور حدائق الحنیفہ جیسی بلند پایہ کتاب کے مصنف تھے۔[3]

ادبی خدمات[ترمیم]

سراج الدین ظفر نے افسانے بھی لکھے اور شاعری بھی کی۔ وہ لب و لہجے کے حوالے سے بے حد منفرد شاعر تھے۔ شباب اور شراب ان کا خاص موضوع تھا۔ نئی نئی زمینیں تلاش کرنا اور ادق قافیوں میں رواں دواں شاعری کرنا انہی کا اسلوب تھا۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے زمزمہ حیات اور غزال و غزل کے نام سے شائع ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ افسانوی مجموعہ آئینے اور مضامین کا مجموعہ نقوش ادب شائع ہوچکے ہیں۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  1. غزال و غزل(1968ء/شاعری)
  2. زمزمۂ حیات(شاعری)
  3. نقوش ادب(مضامین)
  4. آئینے(افسانے)

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیاپھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیا
وقت اپنا زر خرید تھا ہنگام مے کشیلمحے کو طول دے کے ابد ہم نے کر دیا
دل پند واعظاں سے ہوا ہے اثر پذیراس کو خراب صحبت بد ہم نے کر دیا
تسبیح سے سبو کو بدل کر خدا کو آجبالاتر از شمار و عدد ہم نے کر دیا
مصروں میں گیسوؤں کی فصاحت کا بھر کے رنگاپنی ہر ایک غزل کو سند ہم نے کر دیا
تشبیہ دے کے قامت جاناں کو سرو سےاونچا ہر ایک سرو کا قد ہم نے کر دیا[4]

غزل

بغیر ساغر و یار جواں نہیں گزرےہماری عمر کے دن رائیگاں نہیں گزرے
ہجوم گل میں رہے ہم ہزار دست دراز صبا نفس تھے کسی پر گراں نہیں گزرے
نمود ان کی بھی دور سبو میں تھی کل راتابھی جو دور تہ آسماں نہیں گزرے
نقوش پا سے ہمارے اگے ہیں لالہ و گلرہ بہار سے ہم بے نشاں نہیں گزرے
ظفر کا مشرب رندی ہے اک جہاں سے الگمری نگاہ سے ایسے جواں نہیں گزرے[5]

اعزازات[ترمیم]

سراج الدین ظفر کو ان کی کتاب غزال و غزل پر 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔[3]

وفات[ترمیم]

سراج الدین ظفر 6 مئی، 1972ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ کراچی میں فوجی قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[2][3][1]

حوالہ جات[ترمیم]