سراج محفوظ داؤد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سراج محفوظ داؤد
داؤد 8 مئی 2006 کو ایک سیمنار سے خطاب کرتےہوئے
داؤد 8 مئی 2006 کو ایک سیمنار سے خطاب کرتےہوئے

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 1 جنوری 1931
وفات 10 مئی 2010(2010-50-10) (عمر  79 سال)
ناگپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
عملی زندگی
پیشہ وکیل

سراج محفوظ داؤد یا ایس ایم داؤد (1 جنوری 1931-10مئی2010) ایک وکیل تھا جو بعد میں ہندوستان کی عدالت عالیہ کا جج بنا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے انسانی حقوق کے مسائل کی عدالت خصوصی کے تحت تحقیقات کی۔ سراج محفوظ داؤد یکم جنوری 1931 میں پیدا ہوئے تھے۔ اس نے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کرنے کے لیے ناگ پور یونیورسٹی اٹینڈ کی۔ اس کے بعد ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ 1951 سے 1954 تک ناگپور میں ضلعی وکیل کی حیثیت سے خدمات سر انجام دی۔ ستمبر 1954 میں داؤد امراوتی، ودھراب میں اعلیٰ جماعت کا سول جج ، جونیئر ڈویژن اور جوڈیشل مجسٹریٹ بن گیا۔ فروری 1968 میں ان کی ترقی ہوئی اور وہ اسسٹنٹ جج بن گئے۔ اگست 1974 میں ڈسٹرکٹ جج کے طور پر ان کی ترقی ہوئی اور جنوری 1982 میں انتخاب گریڈ کے ضلعی جج بن گئے۔ انہوں نے مہاراشتڑا حکومت میں منتریالہ قانون اور جوڈیشنل ڈیپارٹمنٹ میں ڈپٹی اور جوئنٹ سیکرٹری کے طور پر بھی کام کیا۔ وہ دسمبر 1982 سے جولائی 1985 تک عدالت عالیہ بمبئی کے رجسٹرار رہے۔ جب انہیں بنچ آف ہائی کورٹ نے مقرر کیا جنوری 1993تک مسلسل کام کرتے رہے تھے۔ ریٹائرنگ کے بعد داؤد بھارت کی سپریم کورٹ کے سینئر وکیل بن گئے۔ حسبت سریش اور داؤد کو دسمبر 1992 اور جنوری 1993 میں ہونے والے بمبئی کے فسادات کی تحقیق کے لیے مقرر کیا گیا۔ انہوں نے اس رپورٹ کے حاصل شدہ نتائج "دی پیپلز پیڈ کے نام سے 1995 شائع کیے۔ انہوں نے بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن پر عدالت خصوصی کی طرف سے کام کیا جس نے 1992–93 کے فرقہ ورانہ فسادات اور اس سے ہونے والے انتشار کی تحقیق کی۔ اس تحقیقات کے بعد ایس ایم داؤد کو ستمبر 2001 میں مسلمانوں اور سماجی کارکنوں کے اجلاس کے لیے مدعو کیا گیا بجائے شیو سینا اور پولیس کے، جنہوں نے رپورٹ میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف سختی سے الزام عائد کیا تھا۔ گجرات میں نرمدا دریا پر سردار سروور ڈیم پروجیکٹ ایک بہت ہی متنازع منصوبہ تھا جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو بےگھر ہونا پڑتا۔

حوالہ جات[ترمیم]

ذرائع
  • "Honourable Mr. Justice Siraj Mohfuz Daud"۔ Bombay High Court۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-04-22۔
  • S. M. Daud (اپریل 2000)۔ "An Independent Enquiry into the Proposed Maroli-Umbergaon Port Project (Gujarat)"۔ The Indian People's Tribunal on Environment and Human Rights۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-04-22۔
  • John Byrne؛ Leigh Glover؛ Cecilia Martinez۔ Environmental Justice: Discourses in International Political Economy۔ Transaction Publishers۔ آئی ایس بی این 0-7658-0751-3۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Express News Service (5 اگست 2000). "2-day public hearing under judicial tribunal". Indian Express. http://www.indianexpress.com/Storyold/157800/۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-04-22. 
  • "Muslims attacked for silence"۔ Mid Day۔ 2001-09-24۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-04-22۔

"RIGHT TO FOOD: An Inquiry into the Public Distribution System in Mumbai" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Indian People's Tribunal on Environment and Human Rights۔ مارچ 2010۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-04-23۔

بیرونی روابط[ترمیم]