سراقہ بن مالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سراقہ بن مالک
(عربی میں: سراقة بن مالك ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 6ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جزیرہ نما عرب  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 645 (44–45 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سراقہ بن مالک اور سراقہ بن جعثم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

سراقہ نام، ابو سفیان کنیت،نسب نامہ یہ ہے،سراقہ بن مالک بن جعثم بن مالک بن عمرو بن تیم بن عدلج ابن مرہ بن عبد مناۃ بن علی بن کنانہ عملجی کنانی۔

قبل از اسلام[ترمیم]

ہجرت میں مدینہ سے نکلنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کا تعاقب انہیں نے کیا تھا، شبِ ہجرت میں جب آنحضرتﷺ مشرکین کو غافل پاکر مدینہ سے نکل گئے اورمشرکین کو اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی، تو انہوں نے اعلان کیا کہ جو شخص محمدﷺ اورابوبکر کو قتل کردیگا یا انہیں زندہ پکڑ لائیگا اس کو گراں قدر(١٠٠،اونٹ)انعام دیا جائے گا، سراقہ اپنے قبیلہ بنی مدلج کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر ان سے کہا کہ میں نے ابھی ساحل کی طرف کچھ سیاہی دیکھی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ محمدﷺ اوران کے ساتھی تھے، سراقہ کو یقین ہو گیا، لیکن انعام کی طمع میں انہوں نے تردید کی کہ نہیں وہ لوگ نہیں ہیں، تم نے فلاں فلاں شخص کو دیکھا ہوگا، جو ابھی ہمارے سامنے گئے ہیں، تھوڑی دیر کے بعد سراقہ اٹھ کر گھر گئے اورلونڈی سے کہا کہ وہ گھوڑا تیار کرکے انہیں آکے ایک مقام پر دے اورنیزہ سنبھال کر چپکے سے گھر کی پشت سے نکلے، لونڈی سے گھوڑا لیا اور لوگوں کی نظر بچا کر نکل گئے اورگھوڑا دوڑاتے ہوئے آنحضرتﷺ کے پاس پہنچ گئے ،جیسے ہی قریب پہونچے گھوڑے نے ٹھوکرلی، اوریہ نیچے گر گئے اسے انہوں نے بدشگونی پر محمول کیا، استخارہ کے تیر ساتھ تھے، فوراً انہوں نے ترکش سے نکال کر استخارہ دیکھا کہ وہ رسول اللہ کو گزند پہنچاسکتے ہیں یا نہیں، استخارہ خلاف نکلا، لیکن انعام کی طمع میں انہوں نے استخارہ کی پروا نہ کی اورگھوڑے پر سوار ہوکر پھر آگے بڑھے، اب اتنے قریب پہنچ گئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی تلاوت کی آواز انہیں سنائی دینے لگی، رسول اللہ ﷺ ہمہ تن تلاوت میں مصروف تھے، لیکن ابوبکر بار بار مڑ مڑ کے دیکھتے جاتے تھے،اتنے میں سراقہ کے گھوڑے کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور وہ گر پڑے، پھر گھوڑے کو ڈانٹ کر اٹھایا،جب اس نے اپنے پاؤں زمین سے نکالے تو بڑا غبار بلند ہوا، اس دوسری بد شگونی پر انہوں نے پھر تیروں سے استخارہ کیا،اس مرتبہ بھی مخالف جواب ملا، اب انہیں اپنی ناکامی کا پورا یقین ہو گیا اوران کے دل میں بیٹھ گیا کہ رسول اللہ ﷺ کو ضرور کامیابی ہوگی؛چنانچہ انہوں نے آواز دیکر روکا،آپ رک گئے اورسراقہ نے پاس جاکر کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کی گرفتاری پر انعام مقرر کیا ہے اوران کے ارادوں سے آپ کو خبردار کیا اور جو کچھ زاد راہ ساتھ تھا اس کو آپ کے سامنے پیش کیا، آپ نے اسے قبول نہیں فرمایا، البتہ یہ خواہش کی کہ وہ کسی کو آپ کی اطلاع نہ دیں اس کے بعد سراقہ نے درخواست کی کہ انہیں ایک امان نامہ مرحمت فرمایا جائے،آپ نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا،انہوں نے چمڑے کے ٹکڑے پر امان نامہ لکھ کر دیا اورسراقہ لوٹ گئے۔[1]

انتظام[ترمیم]

اس واقعہ کے آٹھ سال بعد جب مکہ فتح ہوچکا اورمشرکین کی قوتیں ٹوٹ چکیں اور حنین وطائف کی لڑائیاں ختم ہولیں اس وقت سراقہ رسول اللہ ﷺ سے جب کہ آپ حنین اور طائف کے معرکوں سے واپس آ رہے تھے راستہ میں مقام جعرانہ میں ملے اور رسول اللہ ﷺ کا عطا کیا ہوا امان نامہ پیش کرکے اپنا تعارف کرایا کہ یہ تحریر آپ نے مجھے دی تھی اور میں سراقہ بن جعثم ہوں، آپ نے ارشاد فرمایا آج ایفائے عہد اورنیکی کا دن ہے،سراقہ اس وقت مشرف باسلام ہو گئے۔

ذات نبوی سے استفادہ[ترمیم]

سراقہ بہت آخر میں اسلام لائے،اس لیے انہیں صحبت نبویﷺ سے استفادہ کا بہت کم موقع ملا، لیکن قبولِ اسلام کے بعد زیادہ تر مدینہ میں رہے، اس لیے تلافی مافات کا کچھ نہ کچھ موقع مل گیا تھااور اس موقع سے انہوں نے پورا فائدہ اُٹھایا،آنحضرتﷺ خود انہیں تعلیم و تربیت دیا کرتے تھے،ایک مرتبہ آپ نے فرمایا،سراقہ میں تمہیں جنتیوں اوردوزخیوں کی پہچان بتاؤں؟عرض کیا ہاں، ارشاد فرمایا تندخو اتراکرچلنے والا اورمتکبر دوزخی ہے اورزیردست ضعیف اورناتواں جنتی ہے۔ [2] سراقہ خود بھی پوچھ پوچھ کر استفادہ کیا کرتے تھے،آخری سوال انہوں نے آنحضرتﷺ کے مرض الموت میں کیا، پوچھا یا رسول اللہ اگر کوئی بھٹکا ہوا اونٹ میرے اونٹ کے حوض پر آئے ،جسے میں نے خاص اپنے اونٹ کے لیے بھرا ہواورمیں اس میں بھٹکے ہوئے اونٹ کو پانی پلادوں تو کیا مجھ کو اس کا کوئی اجر ملے گا، فرمایا کیوں نہیں ہر جاندار کو پانی پلانے میں ثواب ہے۔ [3]

حجۃ الوداع[ترمیم]

حجۃ الوداع میں آنحضرتﷺ کے ساتھ تھے؛چنانچہ جب آنحضرتﷺ مقام عسفان میں پہنچے،تو سراقہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺہمیں اس نومولود قوم کی طرح تعلیم دیجئے جو گویا ابھی ظہور میں آئی ہے،ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ(ص) بےفرمایا،نہیں ہمیشہ کے لیے ۔[4]

ایک پیشین گوئی[ترمیم]

آنحضرتﷺ نے ایک مرتبہ ان سے فرمایا تھا کہ سراقہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، جب تم کسریٰ کے کنگن پہنو گے؛ چنانچہ عمر فاروق کے زمانہ میں جب مدائن فتح ہوا اورکسریٰ کا خزانہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور کسریٰ کے ملبوسات عمر کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے سراقہ کو بلاکر کسری کا تاج ان کے سرپر رکھا اور اس کے کنگن پہنا کر اس کا پٹکا ان کی کمر میں باندھا۔[5]

وفات[ترمیم]

عثمان بن عفان کے عہدِ خلافت میں 24ھ میں وفات پائی۔

فضل وکمال[ترمیم]

گو سراقہ کو ذات نبویﷺ سے استفادہ کا بہت کم موقع ملا، تاہم ان سے انیس19 حدیثیں مروی ہیں،جابر،ابن عمر ابن مصیب،مجاہد اورمحمد بن سراقہ نے ان سے روایت کی ہے۔ [6] شاعر بھی تھے ؛چنانچہ آنحضرتﷺ کے تعاقب میں جو واقعات پیش آئے ان کی داستان ابو جہل کو نظم میں سنائی تھی

  1. بخاری،جلداول،باب بنیان الکعبۃ باب ہجرۃ النبی ﷺ واصحابہ ابی المدینۃ
  2. (مسند احمد بن حنبل:4/175)
  3. (ایضاً)
  4. مسند احمد بن حنبل:4/175
  5. اصابہ:2/69
  6. (تہذیب الکمال:161)