سراقہ بن مالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سراقہ بن مالک اور سراقہ بن جعثم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

سراقہ نام، ابو سفیان کنیت،نسب نامہ یہ ہے،سراقہ بن مالک بن جعثم بن مالک بن عمرو بن تیم بن عدلج ابن مرہ بن عبد مناۃ بن علی بن کنانہ عملجی کنانی۔

قبل از اسلام[ترمیم]

ہجرت میں مدینہ سے نکلنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کا تعاقب انہیں نے کیا تھا، شبِ ہجرت میں جب آنحضرتﷺ مشرکین کو غافل پاکر مدینہ سے نکل گئے اورمشرکین کو اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی، تو انہوں نے اعلان کیا کہ جو شخص محمدﷺ اورابوبکر کو قتل کردیگا یا انہیں زندہ پکڑ لائیگا اس کو گراں قدر انعام دیا جائے گا، سراقہ اپنے قبیلہ بنی مدلج کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر ان سے کہا کہ میں نے ابھی ساحل کی طرف کچھ سیاہی دیکھی ہے، میرا خیال ہے کہ وہ محمدﷺ اوران کے ساتھی تھے، سراقہ کو یقین ہو گیا، لیکن انعام کی طمع میں انہوں نے تردید کی کہ نہیں وہ لوگ نہیں ہیں، تم نے فلاں فلاں شخص کو دیکھا ہوگا، جو ابھی ہمارے سامنے گئے ہیں، تھوڑی دیر کے بعد سراقہ اٹھ کر گھر گئے اورلونڈی سے کہا کہ وہ گھوڑا تیار کرکے انہیں آکے ایک مقام پر دے اورنیزہ سنبھال کر چپکے سے گھر کی پشت سے نکلے، لونڈی سے گھوڑا لیا اور لوگوں کی نظر بچا کر نکل گئے اورگھوڑا دوڑاتے ہوئے آنحضرتﷺ کے پاس پہنچ گئے ،جیسے ہی قریب پہونچے گھوڑے نے ٹھوکرلی، اوریہ نیچے گر گئے اسے انہوں نے بدشگونی پر محمول کیا، استخارہ کے تیر ساتھ تھے، فوراً انہوں نے ترکش سے نکال کر استخارہ دیکھا کہ وہ رسول اللہ کو گزند پہنچاسکتے ہیں یا نہیں، استخارہ خلاف نکلا، لیکن انعام کی طمع میں انہوں نے استخارہ کی پروا نہ کی اورگھوڑے پر سوار ہوکر پھر آگے بڑھے، اب اتنے قریب پہنچ گئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی تلاوت کی آواز انہیں سنائی دینے لگی، رسول اللہ ﷺ ہمہ تن تلاوت میں مصروف تھے، لیکن ابوبکر بار بار مڑ مڑ کے دیکھتے جاتے تھے،اتنے میں سراقہ کے گھوڑے کے اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے اور وہ گر پڑے، پھر گھوڑے کو ڈانٹ کر اٹھایا،جب اس نے اپنے پاؤں زمین سے نکالے تو بڑا غبار بلند ہوا، اس دوسری بد شگونی پر انہوں نے پھر تیروں سے استخارہ کیا،اس مرتبہ بھی مخالف جواب ملا، اب انہیں اپنی ناکامی کا پورا یقین ہو گیا اوران کے دل میں بیٹھ گیا کہ رسول اللہ ﷺ کو ضرور کامیابی ہوگی؛چنانچہ انہوں نے آواز دیکر روکا،آپ رک گئے اورسراقہ نے پاس جاکر کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کی گرفتاری پر انعام مقرر کیا ہے اوران کے ارادوں سے آپ کو خبردار کیا اور جو کچھ زاد راہ ساتھ تھا اس کو آپ کے سامنے پیش کیا، آپ نے اسے قبول نہیں فرمایا، البتہ یہ خواہش کی کہ وہ کسی کو آپ کی اطلاع نہ دیں اس کے بعد سراقہ نے درخواست کی کہ انہیں ایک امان نامہ مرحمت فرمایا جائے،آپ نے عامر بن فہیرہ کو حکم دیا،انہوں نے چمڑے کے ٹکڑے پر امان نامہ لکھ کر دیا اورسراقہ لوٹ گئے۔[1]

انتظام[ترمیم]

اس واقعہ کے آٹھ سال بعد جب مکہ فتح ہوچکا اورمشرکین کی قوتیں ٹوٹ چکیں اور حنین وطائف کی لڑائیاں ختم ہولیں اس وقت سراقہ رسول اللہ ﷺ سے جب کہ آپ حنین اور طائف کے معرکوں سے واپس آرہے تھے راستہ میں مقام جعرانہ میں ملے اور رسول اللہ ﷺ کا عطا کیا ہوا امان نامہ پیش کرکے اپنا تعارف کرایا، کہ یہ تحریر آپ نے مجھے دی تھی اور میں سراقہ بن جعثم ہوں، آپ نے ارشاد فرمایا آج ایفائے عہد اورنیکی کا دن ہے،سراقہ اس وقت مشرف باسلام ہوگئے۔

حجۃ الوداع[ترمیم]

حجۃ الوداع میں آنحضرتﷺ کے ساتھ تھے؛چنانچہ جب آنحضرتﷺ مقام عسفان میں پہنچے،تو سراقہ نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کو اس نومولود قوم کی طرح تعلیم دیجئے جو گویا ابھی ظہور میں آئی ہے،ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے، یا ہمیشہ کے لیے فرمایا نہیں ہمیشہ کے لیے ۔[2]

ایک پیشین گوئی[ترمیم]

آنحضرتﷺ نے ایک مرتبہ ان سے فرمایا تھا کہ سراقہ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، جب تم کسریٰ کے کنگن پہنو گے؛چنانچہ عمر فاروق کے زمانہ میں جب مدائن فتح ہوا اورکسریٰ کا خزانہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور کسریٰ کے ملبوسات عمرکے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے سراقہ کو بلاکر کسری کا تاج ان کے سرپر رکھا اوراس کے کنگن پہنا کر اس کا پٹکا ان کی کمر میں باندھا۔[3]

وفات[ترمیم]

عثمان بن عفان کے عہدِ خلافت میں 24ھ میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بخاری،جلداول،باب بنیان الکعبۃ باب ہجرۃ النبی ﷺ واصحابہ ابی المدینۃ
  2. مسند احمدبن حنبل:4/175
  3. اصابہ:2/69