سراندیبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مصور بیٹھے ہوئے پرندے کی تصویر کھینچ رہا تھا۔ بعد میں اس نے "سراندیبی" دریافت کیا کہ ایک ہد ہد پیچھے اُڑتا ہؤا تصویر میں آ گیا ہے جب بعد میں اس نے تصویر بنا کر دیکھا۔

سراندیب سری لنکا کا پرانا نام ہے جو عربوں میں رائج تھا۔ مشہور فارسی لوک کہانی "سراندیب کے تین شہزادے" مقبول ہوئی تو یہ لفظ فرانسیسی اور انگریزی میں آیا۔ انگریزی میں یہ اب "serendipity" کہلاتا ہے، اور اس سے مراد اتفاقاً اور خوش قسمتی سے کچھ دریافت کرنا ہے جبکہ تلاش کسی بالکل مختلف چیز کی ہو۔ ہوریس والپول نے 1754ء میں یہ لفظ انگریزی میں مقبول کیا، وہ اپنے خط میں لکھتا ہے:

ایک دفعہ میں نے بدھو پری کہانی پڑھی بنام "سراندیب کے تین شہزادے":جب یہ عزت مآب سفر کرتے تو ہمیشہ دوران سفر نئی دریافتیں کرتے جاتے، حادثہ تاً اور دانشمندانہ، ان چیزوں کی جن کی ان کو تلاش نہیں تھی: مثلاً ان میں سے ایک کو پتہ چلا کہ ایک اونٹ جو دائیں آنکھ سے کانا تھا، حالیہ دنوں میں ایک راہ پر چلتا رہا ہے کیونکہ گھاس بائیں طرف زیادہ کھایا ہؤا تھا اور دائیں طرف کی نسبت بری حالت میں تھا-- اب تمہیں "سراندیبی" کا معنی پتہ چلا؟ ...........

سائنس اور طرزیات میں کردار[ترمیم]

سراندیبی میں کلیدی کردار "دانشمندی" کا ہے جس کی مدد سے بے ضرر حقائق کا ربط سمجھ کر مفید نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ کچھ سائنسدان اور موجد حادثاتی دریافتوں کا ذکر نہیں کرتے، دوسرے کھلے عام اس کا اعتراف کرتے ہیں: اصل میں سراندیبی سائنسی دریافتوں اور ایجادوں کا بڑا جُز ہے۔ یہ یاد رہنا چاہیے کہ سرندیبی دریافتیں سائنسی ترقی میں خاصی اہمیت کی حامل ہیں اور اکثر اوقات ادراک میں اہم چھلانگ کی بنیاد بنتی ہیں۔ مختلف سائنسی شعبہ جات میں سرندیبی دریافتوں کا حصہ بہت زیادہ تفاوت ہے۔ علم الادویہ اور کیمیاء میں سراندیبی غالباً زیادہ عام ہے۔

سائنس اور طرزیات میں مثالیں[ترمیم]

علم الادویہ[ترمیم]

علم الفلکیات[ترمیم]

سراندیبی واقعات[ترمیم]

  1. ایک روز نیوٹن باغ میں ٹہل رہا تھا کہ اچانک سر پر پکا ہوا سیب گرا۔ ذرا دیر کو نیوٹن کا دماغ ہل گیا اور اس نے سیب ہاتھ میں لے کر سوچنا شروع کیا کہ ہر شے اوپر سے نیچے ہی کیوں آتی ہے ؟ یوں کششِ ثقل کا نظریہ اتفاقاً وجود میں آیا۔ بقول انشا جی اگر اس دن نیوٹن وہ سیب کھا جاتا تو کششِ ثقل جانے کب دریافت ہوتی؟
  1. انیسویں صدی تک فوجی و سویلین مقاصد کے لیے نائٹرو گلیسرین عام استعمال ہوتی تھی۔ سنہ 1833ء کے کسی ایک دن الفریڈ نوبل نائٹرو گلیسرین کو حادثاتی طور پر پھٹنے سے روکنے کے ممکنہ طریقوں پر غور کر رہا تھا کہ اچانک نائٹرو گلیسرین کا کنستر لیک ہوگیا اور وہ بغیر جلے لکڑی کے برادے میں جذب ہونے لگی۔ جب برادہ خشک ہوگیا تو الفریڈ نوبیل نے اسے آگ دکھا کے پھاڑا۔ یوں بے لگام نائٹرو گلیسرین کی جگہ کنٹرولڈ ڈائنا مائیٹ وجود میں آ گیا۔
  1. سنہ 1839ء کے کسی ایک روز ربڑ، سلفر اور سیسے کا آمیزہ ایک کیمسٹ چارلس گڈ ائیر کے ہاتھ سے اتفاقاً پھسل کر فائر اسٹوو پرگر پڑا۔ مگر آمیزہ پگھلنے کے بجائے ٹھوس شے بن گیا جس کی بیرونی سطح سخت اور اندرونی سطح نرم رہی۔ یوں حادثاتی طور پر دنیا کا پہلا ویلنکنائزنگ ٹائر بن گیا اور اس کے بعد آٹوموبیل کی صنعت بھی خوب پھلی پھولی۔
  1. الیگزینڈر فلیمنگ سنہ 1928ء میں انفلوئنزا کے موذی وائرس کو کنٹرول کرنے کے طریقوں پر کام کر رھا تھا۔ پھر وہ دو ہفتے کی چھٹیوں پر چلا گیا۔ واپسی پر اس نے دیکھا کہ چھٹی پر جانے سے پہلے لیبارٹری کی جس ڈش میں اس نے بیکٹیریاز کلچر کیے تھے۔اس ڈش پر پھپوند جم گئی تھی اور اس پھپھوند نے بیکٹیریاز کی افزائش روک دی تھی۔ فلیمنگ نے پھپوند کی ماہیت پر تمام توجہ مرکوز کردی۔ یوں پنسلین دریافت ہوئی اور اس دریافت سے اینٹی بائیوٹک انڈسٹری کا دروازہ کھل گیا۔
  1. سنہ 1945ء میں انجینیئر پرسی سپنسر رے تھیون کمپنی کے لیے ایسا میگنیٹرون بنانے کی کوشش کر رہے تھے جو تابکار شعاعوں کو بہتر طور پر منعکس کر سکے۔ تجربے کے دوران ایک دن کیا ہوا کہ پرسی کی جیب میں رکھی چاکلیٹ پگھل گئی۔ پرسی نے حیران ہو کر شعاعی ٹیوب کے سامنے مکئی کے دانوں سے بھرا پیالہ رکھا تو دانے بھن گئے مگر پیالے کو کچھ بھی نہ ہوا۔ یوں اتفاقیہ طور پر وہ دریافت ہاتھ لگ گئی جسے ہم اور آپ آج مائیکرو ویو کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔
  1. 90ء کے عشرے میں دوا ساز کمپنی فائزر نے انجائنا کے مریضوں کی شریانیں مستحکم رکھنے کے لیے سلیٹرنلی نامی کیمیکل کا ٹرائل شروع کیا۔ مگر یہ کچھ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا، بلکہ جن لوگوں پر تجربہ کیا گیا ان پر الٹا اثر ہوا۔ یعنی عدم ایستادگی کے شکار مریضوں کے دورانِ خون کی رفتار میں اضافے سے ان کی قوتِ ایستادگی بحال ہونے لگی۔ چنانچہ تحقیق کا رخ بھی مڑ گیا اور چار ہزار رضاکاروں کے کلینکیل ٹرائل کے بعد ویاگرا کی نیلی ٹیبلٹ کا ظہور ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. آرس تکنیکا، 31 دسمبر 2009ء، "The key to astronomy has often been serendipity"