سرایا نبوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقالات بسلسلۂ
محمد ﷺ
محمد
Mohammad SAV.svg
باب محمد


سرایا عربی زبان کے لفظ سریۃ کی جمع ہے جس کے معنی فوج کی ٹکڑی کے آتے ہیں۔
سرایا نبوی جن کو محمدﷺ نے اپنے دور نبوت میں دشمنوں کی جانب روانہ کیا، لیکن بذات خود شرکت نہیں کی۔

سریہ کی اصطلاحات[ترمیم]

  • سَرِیّہ رات کے وقت جانے اورساریہ دن کے وقت نکلنے کیلئے بولا جاتا ہے۔
  • اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس میں لشکر کا جانا پوشیدہ ہوتا ہے۔
  • سریہ ایک لشکر کا حصہ ہوتا جو اس لشکر سے نکلتا ہےاور اسی میں واپس آتا ہےانکی تعداد100 ایک سو سے 500پانچ سو تک ہوتی ہے
  • 500 سےزیادہ کیلئے منسر بولا جاتا ہے
  • اگر 800 سے زیادہ ہو تو اسے جیش کہتے ہیں
  • 4000 سے زیادہ ہوں تو اسے جحفل کہتے ہیں
  • خمیس بہت بڑے لشکر کو کہتے ہیں
  • جو سریہ سے جدا ہو اسے بعث کہتے ہیں
  • الکتیبہ جو جمع رہے منتشر نہ ہو[1]

اہم سرایا[ترمیم]

رضي الله عنه.png تھے۔

رضي الله عنه.png تھے۔

رضي الله عنه.png تھے۔

رضي الله عنه.png تھے۔ حضور ﷺ نے ان کو ایک خط دے کر روانہ کیا تھا اور یہ ہدایت کی تھی کہ اس خط کو دو دن کے بعد کھولیں۔ جس میں تحریر تھا کہ طائف اور مکہ کے درمیان واقع نخلہ پہونچ کر قریش کے قافلہ کی خبرگیری کریں لیکن مدبھیڑ ہوگئی تھی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. المواہب اللدنیہ جلد اول صفحہ 218 فرید بکسٹال لاہور