سرخ میرا نام (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سرخ میرا نام
MyNameIsRed.jpg
اشاعت اول (ترک)
مصنفاورحان پاموک
اصل عنوانBenim Adım Kırmızı
مترجمانگریزی: اردون گوکنر
اردو: ہما انور
ملکترکی
زبانترکی زبان
صنفتاریخی ناول
ناشرانگریزی: الفریڈ اے۔ کنوپف
اردو: جمہوری پبلیکیشنز
تاریخ اشاعت
1998 (اردو:2017ء)
تاریخ اشاعت انگریری
2001
طرز طباعتPrint (مجلد اور سستی اشاعت)
صفحات448 صفحات۔ (اصل ترک) 417 صفحات (پہلی انگریزی اشاعت۔)، (اردو ترجمہ: 440+16صفحات)

سرخ میرا نام (ترکی: Benim Adım Kırmızı) 1998ء ترکی زبان میں شائع ہونے والا اورحان پاموک کا ایک ناول ہے اس کا انگریزی ترجمہ اردون گوکنر نے 2001ء میں کیا۔ بعد میں پاموک کو 2006ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔ ناول سلطنت عثمانیہ میں 1591ء کے مصغر تصویروں (منی ایچرز) کے بارے میں ہے، اس ناول نے پاموک کی بین الاقوامی شہرت اور نوبل انعام حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ناول پر جیمز جوائس، فرانز کافکا، تھامس مین، نابوکوف اور مارسل پروست کے اثرات ہیں۔

فرانسیسی ترجمے نے بہترین غیر ملکی کتاب کا انعام اور اطالوی ترجمے نے گرینزین کوور اعزاز 2002ء میں حصال کیا جب کہ انگریزی ترجمے، مائی نیم از ریڈ، بین الاقوامی امپیک ڈبلن ادبی اعزاز 2003ء میں حیتا۔[1] اورحان پاموک کے ناول مائی نیم از ریڈ کے ہما انور کے کیے گئے اردو ترجمہ سرخ میرا نام کو 2015 میں یو بی ایل لٹریری ایکسی لینس ایوارڈ کے تحت بہترین ترجمہ قرار دیا گیا۔ [2] پاکستان میں اسے اردو میں جمہوری پبلیکیشنز نے شائع کیا۔

اشاعت کے بعد سے ناول 60 سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔[3]

خاکہ[ترمیم]

ناول کا مرکزی کردار سلطنت عثمانیہ میں مصغر تصویر ساز ہے، جو پہلے ہی باب میں قتل ہو جاتا ہے، ۔ جو قاری کو اپنے حالات بیان کرتا ہے۔ ناول ورائے فکشن طرز پر ہے، جس میں کردار بار بار یوں حوالے دیتے ہیں جیسے قاری کتاب کا حصہ ہو۔

ناول کے ہر باب راوی مختلف ہے اور عموما ہر باب کے درمیان میں موضوعاتی اور تاریخ وار تعلق ہے۔ اس کے علاوہ، غیر متوقع آوازیں استعمال کی جاتی ہیں، جیسے مقتول، ایک سکہ، شیطان، درویش اور سرخ رنگ۔ ان میں سے ہر ایک "غیر معمولی" راوی مخصوص کرداروں کی طرف سے شرکت کر رہا ہے، جو تفصیل کے ساتھ سولہویں کے فلسفیانہ نظام کو پیش کرتے ہیں۔ ناول اسرار، عشق اور فلسفیانہ پہیلیوں اور عثمانی سلطان مراد ثالث کے دور حکومت کے 1591ء کے موسم سرما کے ایام کی عکاسی کرتا ہے۔

ناول کا بڑا حصہ بیانیہ (راوی کی زبانی) ہے یہ راوی نفیس آفندی ہے، جو مقتول مصغر تصویر ساز ہے۔ قرہ (کالا) کے ماموں، نفیس آفندی ایک سنی مفسر قرآن ابن قیم کی کتاب الروح پڑھ رہا ہے، جس کے مطابق اسلامی نظریے کے طور پر مردے کی روح زمین پر رہتی ہے اور سن سکتی ہے۔ اس کتاب کے حوالہ جات پورے ناول میں ملتے ہیں۔

کردار[ترمیم]

  • نفیس آفندی، مقتول مصغر تصویر ساز، جو ناول کے پہلے ہی باب کے آغاز میں حیات بعد الممات پر بات کرتا ہے۔
  • قرہ (کالامصغر تصویر ساز اور جلد ساز۔ جو حال ہی میں فارس (ایران) سے 12 سال بعد لوٹا ہے۔ ﺍﻧﺸﺘﮯ کا بھتیجا۔
  • ﺍﻧﺸﺘﮯ ﺁﻓﻨﺪﯼ، قرہ کا خالو، جو وینس طرز کی مصوری کے انداز میں سلطان کے لیے ایک خفیہ کتاب کی تخلیق کا نگران ہے۔
  • شکورے، انشتے کی خوبصورت بیٹی جس سے قرہ پیار کرتا ہے; شکورے (شیریں کا ہم معنی ہے، جسے اردو میں 'میٹھی'، یہ پاموک کی ماں کا نام بھی ہے)۔
  • شوکت، شکورے کا بڑا بیٹا (اورخان کا بڑا بھائی)۔
  • اورحان، شکورے کا چھوٹا بیٹا (یہ پاموک کے نا مکا پہلا حصہ بھی ہے)۔
  • حسن، شکورے کا دیور۔
  • خیریے، انشتے کے کھر میں غلام لڑکی (نوکرانی یا کنیز)، انشتے کی باندی۔
  • استاد عثمان، سلطان کے مصغر تصویر سازی کا نگران۔ یہ کردار Nakkaş Osman پر مبنی ہے۔
  • تیتلی، قتل کے تین مشتبہ مصغر تصویر سازوں میں سے ایک۔ جو کتاب میں موت اور افسردہ عورت کی تصویر کشی کرتا ہے۔
  • بگلا، تین مشتبہ مصغر تصویر سازوں میں سے ایک۔ جو درخت اور کتے مصور کرتا ہے۔
  • زیتون، تین مشتبہ مصغر تصویر سازوں میں سے ایک۔ شیطان اور د ودرویش مصور کرتا ہے۔
  • ایستر، یہودی بنجارن، ایک رشتہ طے کرانے والی، عشقیہ خطوط پنچانے والی۔
  • نصرت حوجا، ایک قدامت پرست مسلمان رہنما جو تاریخی شخصیت پر مبنی ہے۔ جو کافی اور کافی خانوں، فحش کہانیوں اور علامتی تصویروں کے خلاف ہے۔

اشاعت کی معلومات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]