سردار عبدالرب نشتر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سردار عبدالرب نشتر
Abdul Rab Nishtar.jpg
 

گورنر پنجاب دوسرے
مدت منصب
2 اگست 1949 – 24 نومبر 1951
وزیر اعظم لیاقت علی خان
Fleche-defaut-droite-gris-32.png فرانسس موڈی
ابراہیم اسماعیل چندریگر Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 13 جون 1899  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پشاور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 فروری 1958 (59 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مزار قائد  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت مسلم لیگ  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ
جامعہ پنجاب
ایڈورڈز کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سردار عبد الرب نشتر (2 اگست 1949ء | 24 نومبر 1951ء) پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر رہے۔ وہ 13جون 1899ء کو پشاور کاکڑ افغان خاندان کے سربراہ مولوی عبدالحنان خان کے گھر پیدا ہوئے۔[1]

ابتدائی دور اور تعلیم[ترمیم]

انہوں نے ابتدائی تعلیم مشن اسکول اور بعد میں سناتن دھرم ہائی اسکول ممبئی سے حاصل کی۔ ۤآپ نے بی اے جامعہ پنجاب سے کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری 1925ء میں حاصل کی۔خطے کی روایت کے مطابق سردار عبدالرب نشتر کا تعلق بالادست طبقے سے نہیں تھا بلکہ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے نارتھ ویسٹرن ریلوے (برصغیر کی تقسیم سے قبل خطے کی ریلوے مختلف زون میں منقسم تھی) کے ایک ٹھیکے دار کے صاحبزادے تھے کاروباری پس منظر اور مذہبی اقدار کی پاسداری ہی اس خاندان کی شناخت تھی۔ ننھے عبدالرب کی پیدائش سے قبل ان کی والدہ نے خواب میں ایک رشتے دار خاتون کو دیکھا جو فریضہ حج کی ادائیگی کے فوراً ہی بعد انتقال کر گئی تھیں، اُس خاتون نے کہا: ’تمھارے ہاں ایک لڑکا ہونے والا ہے، اس کا نام عبدالرب رکھنا۔نومولود کی والدہ اور خاندان نے خواب میں ملنے والی بشارت کا پاس رکھا۔ پشاور شہر میں بود و باش رکھنے والے اس خاندان کا یہ چشم و چراغ اپنے مزاج کی تین خوبیوں سے پہچانا گیا۔ سماجی اور اصلاحی سرگرمیوں میں دلچسپی، تعلیمی کارکردگی میں کسی قدر کمزوری اور عزم مصمم۔ وہ کم عمری میں ہی سماجی، اصلاحی اور ثقافتی سرگرمیوں میں گہری دلچسپی لیا کرتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک تنظیم بھی بنا رکھی تھی۔ یہ تنظیم نوجوانوں کے لیے علمی وادبی سرگرمیوں کا اہتمام کیا کرتی تھی۔[2]

نامساعد حالات کے باوجودتعلیم جاری رکھی[ترمیم]

انٹرمیڈیٹ کے امتحانات نشتر کی زندگی میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ امتحانات کے دن قریب آئے تو وہ بیمار پڑ گئے لیکن اس کے باوجود امتحان دیا۔ نتیجہ آیا تو معلوم ہوا کہ ایک مضمون میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ضمنی امتحان میں بھی کامیاب نہ ہو پائے تو والد نے فیصلہ کیا کہ تعلیم اس نوجوان کے بس کی بات نہیں، لہٰذا انہوں نے اسے معمولی درجے کی کوئی ملازمت دلانے کا فیصلہ کیا۔اس فیصلے کا ایک پس منظر شاید یہ بھی تھا کہ ان دنوں خاندان کے مالی حالات بھی کچھ اچھے نہ تھے۔ والد کے اس حوصلہ شکن فیصلے کے باوجود نوجوان عبد الرب نے کسی کے علم میں لائے بغیر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ خاموشی سے منشی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے بی اے بھی کر لیا۔اہلخانہ کے لیے یہ خبر کسی خوشگوار دھماکے سے کم نہ تھی۔ چنانچہ والد نے خوش ہو کر انہیں علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ دلا دیا۔ علی گڑھ سے وہ قانون کی ڈگری لے کر لوٹے اور پشاور میں وکالت کرنے لگے۔

بکار خویش مرد کارِ آشنا تنگ است[ترمیم]

اسی زمانے میں والدہ کی طرح انہوں نے بھی ایک خواب دیکھا جس میں انہوں نے اپنے دادا مرحوم کو فارسی کا ایک مصرع پڑھتے ہوئے سُنا:

  • بکار خویش مرد کارِ آشنا تنگ است

اس خواب کو انہوں نے اشارہ سمجھا کہ خالی بیٹھنا مردانگی نہیں لہٰذا وہ میدان سیاست میں کود گئے۔ تھوڑے ہی عرصے کے بعد انہوں نے بلدیاتی انتخاب میں حصہ لیا اور بھاری اکثریت کے ساتھ میونسپل کمیٹی پشاور کے رکن منتخب ہو گئے۔ یہ زمانہ تحریک خلافت کا تھا۔ آزادی پسندوں کے جذبات آسمان پر پہنچے ہوئے تھے۔ اسی زمانے میں 'وار کونسل' نامی ایک تنظیم قائم ہوئی جس کا مقصد ایسی سرگرمیوں کا فروغ تھا جن سے غیر ملکی حکمرانوں کی معیشت متاثر ہو تاکہ انہیں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکے۔ حکمرانوں کی نگاہ میں وار کونسل کی احتجاجی سرگرمیاں اشتعال انگیز تھیں کیونکہ یہ شراب خانوں کی پکٹنگ کرتے اور غیر ملکی ساز و سامان کی خریداری کی حوصلہ شکنی کرتے۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایک روز گولی چل گئی اور پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار میں کئی لوگ ہلاک کر دئیے گئے۔ پھر احتجاج ہوا، اور اس احتجاج میں میونسپل کمیٹی کا نوجوان رکن عبد الرب نشتر پیش پیش تھا۔ عبد الرب نے صرف احتجاجی سرگرمیوں میں ہی حصہ نہیں لیا بلکہ قصہ خوانی بازار کا نام تبدیل کرکے 'بازارِ شہیداں' رکھ دیا۔میونسپل کمیٹی کا رکن اس زمانے میں سیاسی کارکن سے زیادہ انتظامیہ کا حصہ تصور کیا جاتا تھا لہٰذا ان کی یہ سرگرمیاں ناپسندیدہ قرار پائیں اور انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ نشتر اور ان کے ساتھیوں کو اس زمانے میں کوئی سال بھر کی قید برداشت کرنی پڑی لیکن ان کے لیے یہ ایک خوش گوار تجربہ تھا[3]

ان کے جیل کے دو ساتھیوں نے الطاف حسن قریشی کو بتایا 'نشتر صاحب جیل کے دنوں میں بہت خوش خوش دکھائی دیتے تھے۔ وہاں شعر و شاعری کی نشستیں جما کرتیں اور وہ ساتھیوں کی آواز میں آواز ملا کر مولانا ظفر علی خان کی ایک نظم بہ آواز بلند گایا کرتے:

گاندھی نے آج جنگ کا اعلان کر دیا

باطل سے حق کو دست و گریبان کر دیا

رہائی کے بعد کا منظر نامہ[ترمیم]

رہائی کے بعد تقریباً پانچ برس کے عرصے میں وہ صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کی ایک معروف سیاسی شخصیت بن چکے تھے اور قومی سطح کی قیادت کے ساتھ ان کے رابطے استوار ہو رہے تھے۔ اس زمانے میں وہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر محمد علی جناح نے انہیں مبارکباد کا خط لکھا۔ یہی زمانہ ہے جب ان کی سیاسی زندگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔ ان کے انداز فکر میں اس واقعے سے کچھ پہلے ہی تبدیلی رونما ہو چکی تھی۔ محمد علی چراغ نے اپنی کتاب 'اکابرین تحریک پاکستان' میں اس سلسلے میں انڈین نشینل کانگریس کے ممتاز رہنما جواہر لال نہرو کی ایک تقریر کا ذکر کیا ہے اور ان کے نشتر کا ایک مکالمہ نقل کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جواہر لال نہرو نے پشاور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ ہندو سبھا (نامی ایک تنظیم) کا خاتمہ کر چکے ہیں۔ اب وہ مسلم لیگ کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں تاکہ ہندوستان میں صرف ایک ہی جماعت کا وجود برقرار رہے، وہی برصغیر کے باشندوں کی نمائندگی کرے۔ محمد علی چراغ نے لکھا ہے کہ یہ اس تقریر کے بعد کی بات ہے جب جواہر لال نہرو نے نشتر کو آل انڈیا کانگریس میں شمولیت کی دعوت دی۔ سیاسی سرگرمیوں میں شرکت اور اس دوران میں کانگریس، جمیعت علمائے ہند، مسلم لیگ اور دیگر سیاسی تنظیموں سے تعاون کے باوجود نہرو کو انہوں نے حیران کن جواب دیا۔ انہوں نے کہا ’مجھے افسوس ہے کہ میں اس موقع پر کانگریس میں شامل نہیں ہو سکتا۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ پنڈت جی آپ جس جماعت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، میں اس کا رکن ہوں۔‘

انگریزی لباس ترک کر دیا[ترمیم]

اسی زمانے میں کسی معاملے میں کسی نوجوان کے ساتھ ان کے اختلافات ہو گئے۔ الطاف حسن قریشی نے ان کے صاحبزادے کے حوالے سے لکھا ہے کہ اُس نوجوان نے ان کی ٹائی پکڑ کر طنزیہ انداز میں کہا: 'باتیں تو تم قوم کی خدمت کی کرتے ہو لیکن لباس انگریزی پہنتے ہو۔'اس جملے نے تلوار کی کاٹ کا کام کیا۔ کہتے ہیں کہ اس دن کے بعد کسی نے انہیں انگریزی لباس میں نہیں دیکھا۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

وہ 1927ء سے 1931ء تک آل انڈیا کانگریس کے رکن رہے اور 1929ء سے 1938 تک پشاور میونسپل کمیٹی کے کمشنر رہے۔ بعد میں اۤپ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1932ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل کے رکن بنے۔ آزادی کے بعد پاکستان کی پہلی کابینہ میں آپ بطور وزیر مواصلات شامل ہوئے۔ بعد میں آپ کو صوبہ پنجاب کا گورنر مقرر کیا گیا آپ سیاست میں اصولوں کے پابند تھے۔ اور قانون کی عملداری آپ کا پسندیدہ اصول تھا۔آپ کواسلام سے بہت زیادہ محبت تھی۔ ہندوؤں کی جانب سے شدھی اور سنگھٹن کی تحریکوں کے مقابلے میں آپ نے اداراہ تبلیغ اسلام بنایا۔ شاہی قلعہ لاہور کا دروازہ انگریزوں نے عوام کے لیے بند رکھا ہوا تھا۔ جب آپ گورنر بنے تو آپ نے اسلامی فن تعمیر کے اس عظیم شاہکار کو عوام کے کھول دیا۔کانگریس میں شمولیت کے سلسلے میں سردار عبدالرب نشتر کا یہ جواب اس کی قیادت کے لیے نہایت حوصلہ شکن تھا۔ یہی سبب تھا کہ کچھ عرصے کے بعد گاندھی جی خود سرحد کے دورے پر پہنچے۔ انہوں نے خصوصی طور پر نشتر سے ملاقات کرکے غلط فہمیوں کے ازالے کی کوشش کی لیکن نشتر اس دوران میں اپنے راستے کا تعین کر چکے تھے یعنی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر چکے تھے۔ یہ زمانہ سرحد میں کانگریس کی حکومت کا تھا۔ سنہ 1943ء میں کانگریس کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور سردار اورنگ زیب خان کی قیادت میں مسلم لیگ کی حکومت قائم ہوئی۔ نشتر کو اُن کی کابینہ میں مالیات کی وزارت ملی۔ 1946ء میں کانگریس اور مسلم لیگ نے ہندوستان کی مشترکہ عبوری حکومت بنائی۔ نشتر کو اس حکومت میں مواصلات کی وزارت دی گئی۔ سردار عبد الرب کی زندگی کا یہ وہی زمانہ ہے جب ان کی شہرت پورے برصغیر میں پہنچ رہی تھی۔ اس زمانے میں انہوں نے مسلم لیگ کے قائد محمد علی جناح کے ساتھ تقسیم برصغیر کے ضمن میں ہونے والی تقریباً ہر اہم سرگرمی میں شرکت کی۔ خاص طور پر دو اور تین جون 1947ء کے ان غیر معمولی اجلاسوں میں جن میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کے فارمولے کا اعلان کیا۔ سردار عبدالرب نشتر کی سیاسی سرگرمیاں اپنی جگہ اپنی وزارت کے زمانے میں انہوں نے ایک ایسا کام کیا جس کی اہمیت میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مولوی عبد الحق نے انجمن ترقی اردو کے ماہانہ مجلے قومی زبان میں لکھا: ’جب صاحب موصوف کے ذمے وزارت مواصلات کا کام تھا تو اس وقت ریلوے اور ڈاک خانہ جات میں اردو کی ترویج ہوئی۔ ریلوے کا نظام الاوقات اردو میں چھاپا گیا۔ سٹیشنوں پر اردو میں بورڈ نصب ہوئے اور ریلوے کے ٹکٹوں پر شہروں کے نام اور کرائے کی صراحت اردو میں کی گئی۔ ڈاک کے ٹکٹ اور منی آرڈر فارموں پر بھی اردو نظر آنے لگی۔ جب پنجاب تشریف لے گئے تو صوبائی حکومت اور اضلاع کے دفاتر میں اردو کی ترویج کا بیڑا اٹھایا۔‘ ان کی گورنر شپ میں ہی یہ پہلی بار ہوا کہ پنجاب کا بجٹ اردو میں پیش کیا گیا۔انگریزی اور ہندی سے واقفیت نہ رکھنے والے اردو داں طبقات کے لیے ان کا یہ فیصلہ تو اہمیت رکھتا ہی ہے، برصغیر میں اردو کی ترویج کے سلسلے میں بھی اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے انہیں مرکزی حکومت میں وزیر بنایا گیا بعد میں انہیں گورنر کی حیثیت سے پنجاب بھیج دیا گیا۔ گورنر کی حیثیت سے ان کی تقرری کئی اعتبار سے ایک تاریخی واقعہ تھا۔ ماہ نامہ قومی زبان نے لکھا: ’سردار صاحب سوا سو سال کے بعد پنجاب کے پہلے مسلمان گورنر ہیں۔‘

ایک مثالی گورنر[ترمیم]

مسلم اکثریتی علاقے میں ایک طویل مدت کے بعد مسلمان گورنر کا تقرر اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے لیکن سردار عبدالرب نشتر کے عوامی مزاج کی وجہ سے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ الطاف حسن قریشی نے آئی جی پنجاب قربان علی خان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ اپنی گورنر شپ کے زمانے میں سردار صاحب سکیورٹی کو اطلاع دیے بغیر اکثر سڑکوں پر نکل جایا کرتے تھے جس سے ان کے حفاظتی عملے کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ الطاف حسن قریشی نے ان کی وفات پر اردو ڈائجسٹ میں اس کی بڑی دلچسپ تفصیلات درج کی ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ دن ڈھلتے ہی جب وہ دفتر کی ذمہ داریاں نمٹا چکے ہوتے، سڑکوں پر نکل آتے۔ عام لوگوں سے گپ شپ کرتے۔ چھابڑی فروشوں سے ان کے احوال پوچھتے، گورنر کا یہ معمول دیکھ کر عوام بھی اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو جاتے۔ وہ اطمینان سے ان کی شکایات سنتے، ضرورت ہوتی تو موقع پر ہی احکامات بھی جاری کر دیا کرتے۔ان کے اس مٹر گشت میں ممتاز ادیب مولانا صلاح الدین احمد بھی شامل ہو جایا کرتے تھے۔ انتظار حسین نے لکھا ہے کہ لاہور کی مال پر چہل قدمی کرنے والوں میں مولانا کا مرتبہ بڑا بلند ہے۔ اس مٹر گشت میں نشتر کے ادبی ذوق کی تسکین بھی ہو جاتی اور اعلیٰ حکام تک رسائی نہ رکھنے والوں کو ایک حکمراں تک رسائی بھی حاصل ہو جاتی۔

سرگودھا کے دورے میں سادگی[ترمیم]

سرگودھا کے ایک دورے کے موقع پر اپنی مصروفیات نمٹانے کے بعد وہ چپکے سے شہر کے کسی علاقے میں جا نکلے جہاں ایک بوڑھی خاتون گھر کے دروازے پر کھڑی کسی کا انتظار کر رہی تھیں۔ نشتر نے ادب سے انہیں سلام کیا اور آگے بڑھ گئے۔ ایک خوشحال اور وجیہ و شکیل شخص کو یوں ادب سے سلام کرتا دیکھ کر وہ خاتون بہت متاثر ہوئیں۔ وہ لپک کر آگے بڑھیں اور انھیں واپس اپنے گھر میں لا کر بٹھایا اور دعائیں دینے لگیں۔ وہ جانے لگے تو اصرار کر کے دوبارہ بٹھایا اور کہا: 'بیٹا کچھ کھا کر جاؤ۔'نشتر اس گھر کی واحد ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئے اور لسی کے دو گلاس پی کر اجازت لی۔

لاہور میں باغ جناح کا واقعہ[ترمیم]

ثروت صولت نے لاہور کے باغ جناح کا ایک واقعہ لکھا ہے۔ انہوں اس واقعے کے ایک عینی شاہد کے حوالے سے لکھا ہے کہ باغ جناح میں سائیکل چلانے والے ایک لڑکے نے اپنی سائیکل ان سے ٹکرا دی۔ اس سے پہلے کہ سکیورٹی حکام اس لڑکے کی مرمت کرتے، گورنر نے آگے بڑھ کر لڑکے کو سہارا دیا اور پیار سے سمجھایا کہ وہ احتیاط سے سائیکل چلایا کرے۔بغیر پیشگی اطلاع کے بازاروں میں نکلنے کی طرح سردار نشتر اکثر مختلف مساجد میں بھی عام نمازی کی طرح پہنچ جایا کرتے تھے اور لوگوں میں گھل مل جاتے تھے۔انتقال سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے، وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔ ڈاکٹروں نے مکمل آرام کی ہدایت کر رکھی تھی۔ لوگوں سے ملاقاتیں بھی کم ہو گئی تھیں۔ ان ہی دنوں وزیر اعظم آئی آئی چندریگر ان کی خیریت معلوم کرنے آئے اور کچھ دیر بیٹھ کر چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد مسلم لیگ گارڈز کے سالار سردار علی جان آ گئے۔ انہوں نے عادت کے مطابق کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو جمیل نشتر نے انہیں ملنے سے روک دیا اور ڈانٹا کہ تمہیں ان کے آرام کا خیال نہیں؟ جمیل نشتر نے بتایا کہ اس تکرار کی آواز والد صاحب تک پہنچی تو انہوں نے مجھے بلا کر ڈانٹا اور کہا: 'جب وزیر اعظم آئے تو تم نے انہیں اندر آنے دیا اور جب علی جان آیا تو تم نے اسے اس لیے روک دیا کہ وہ ایک غریب آدمی ہے۔ بلاؤ، اسے بلاؤ۔ میرا سرمایہ یہی مخلص کارکن ہیں۔ میں رندگی بھر امتیازات کے خلاف لڑتا رہا۔ کیا تم آخری وقت میں میری کمائی ضائع کر دینا چاہتے ہو؟'سردار عبد الرب نشتر کھلے عام بازاروں میں کیوں نکل جاتے تھے اور عام لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے تھے؟ اس کا ایک سبب تو مسلم حکمرانوں کی وہ روایت ہے جس کے ذریعے وہ براہ راست عوام سے رابطہ استوار کر کے ان کے مسائل حل کیا کرتے تھے لیکن اس کا ایک سبب ان کے مزاج کی درویشی اور سادگی بھی تھی۔ یہ ان کا مزاج ہی تھا کہ انہوں نے گورنر ہوتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو طبقہ امرا کے ایچی سن کالج میں داخل نہیں کرایا۔ ان کے بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھتے رہے۔ ممتاز سیاسی رہنما سردار شیر باز خان مزاری مرحوم نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ نشتر صاحب کا ایک بیٹا ان کے ساتھ گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا اور سائیکل پر کالج آیا کرتا تھا۔سردار مزاری کے اس بیان کی تصدیق حیدر امام کے ایک مضمون سے ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے بچوں سے کہہ رکھا تھا: 'لاکھوں پاکستانیوں کی طرح تم بھی اپنی اصلیت نہ بھولو۔' یہی سبب تھا کہ گھر میں ذاتی اور سرکاری کاریں ہونے کے باوجود وہ سائیکل پر سکول کالج جایا کرتے تھے۔

قومی پرچم اور قائد اعظم کو مشورہ[ترمیم]

وہ ٹیلی فون کے استعمال میں بھی بڑے محتاط تھے۔ آغا شورش کاشمیری نے لکھا ہے کہ مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے ان کی میز پر دو ٹیلی فون ہوا کرتے تھے۔ ایک پارٹی کا اور دوسرا ذاتی۔ ایک بار ان کے صاحبزادے جمیل نشتر کو کہیں فون کرنا تھا۔ جو فون سامنے آیا ، انہوں نے اسی کا ڈائل گھما دیا۔ نشتر نے فوری طور پر انہیں روک دیا اور بتایا کہ یہ فون مسلم لیگ کا ہے۔ جمیل کہنے لگے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کیوں کہ لوکل کال پر تو کوئی خرچ نہیں آتا۔ اس جواب پر انھوں نے کمال کی بات کہی:'غلط استعمال کی عادت تو پڑتی ہے۔'یہی سبب تھا کہ وہ اتنے طویل پیشہ دارنہ اور سیاسی کیریئر کے باوجود اپنا ذاتی مکان بھی تعمیر نہ کر سکے۔بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے دیگر قائدین کو ان کی سیاسی بصیرت پر بہت اعتماد تھا۔ 3 جون 1957ء کو جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کا اعلان کیا، اس وقت دونوں آزاد ریاستوں کے قومی پرچموں کے بارے میں بھی انہوں نے سوال کیا۔سردار نشتر نے یہ واقعہ اپنے ایک مضمون میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: 'ایک دن قائد اعظم نے فرمایا کہ وائسرائے نے ان کے ساتھ پاکستان کے پرچم کے متعلق بحث چھیڑی اور پوچھا کہ بھارتی نمائندے تو اس بات پر رضا مند ہیں کہ باقی نو آبادیوں کی طرح اپنے جھنڈے میں پانچواں حصہ برطانوی پرچم یعنی یونین جیک کے لیے مخصوص کر دیں۔ وائسرائے نے قائد اعظم سے پاکستان کے رویے سے متعلق استفسار کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ اپنے رفقائے کار سے مشورہ کر کے مطلع کریں گے۔'نشتر کے مطابق بانی پاکستان نے اس سلسلے میں ان سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ آزادی کے پرچم میں غلامی کی یادگار کو کیسے جگہ دی جا سکتی ہے؟ اس طرح فیصلہ ہو گیا کہ پاکستان کے پرچم میں یونین جیک کو جگہ نہیں دی جائے گی۔سنہ 1949ء میں اُن دنوں جب قرارداد مقاصد زیر غور تھی، اسمبلی کے اندر اور تند و تیز مباحث کا سلسلہ جاری رہتا۔ زیر بحث مسائل میں ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ آیا پاکستان کے صدر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ضروری ہوگی یا نہیں؟ یہ ایک مشکل مرحلہ تھا۔ دونوں طرف بھاری بھرکم شخصیات تھیں جو اپنی اپنی رائے کے حق میں مضبوط دلائل رکھتی تھیں۔الطاف حسن قریشی نے لکھا ہے کہ اس موقع پر نشتر نے جو تقریر کی، اس نے ایوان کا رنگ بدل دیا اور صدر پاکستان کے لیے مسلمان ہونا ضروری قرار پایا۔ جب وہ گورنر تھے، پہلی بار پنجاب میں عام انتخابات ہوئے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی موجودگی میں کسی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا: 'نشتر صاحب نے انتخابات میں بالکل ہماری مدد نہیں کی۔ وہ تو نرے گورنر ہی رہے۔'سردار عبد الرب نشتر نے جواب دیا: 'کیا تمہیں معلوم نہیں کہ گورنر بنتے وقت میں نے ایک حلف بھی اٹھایا تھا۔ وہ مجھے بددیانتی اور جانب داری کی اجازت نہیں دیتا۔'

1945-46 کے انتخابات[ترمیم]

1945-46 کے انتخابات میں سرحد سے مسلم لیگ کے دو امیدوار تھے یعنی سردار عبدالرب نشتر اور خان عبدالقیوم خان۔ ان انتخابات میں ہر ووٹر کو دو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا تھا۔ اس موقع پر طے پایا تھا کہ ہر ووٹر ایک ووٹ سردار نشتر کو اور دوسرا خان قیوم کو دے گا۔ پولنگ کے دوران کسی نے اطلاع دی کہ خان قیوم کے ووٹر معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دونوں ووٹ انہیں کو ڈال رہے ہیں، کیا ہم بھی ایسا ہی کرلیں؟ سردار نشتر نے سختی سے منع کر دیا۔سردار عبدالرب نشتر کی اسی سیاسی بصیرت، راست بازی ، ادب اور خاص طور پر شاعری میں دلچسپی، سادگی اور عوام دوستی کی وجہ سے انہیں کئی دلچسپ خطاب دیے گئے۔ممتاز ادیب خواجہ حسن نظامی نے لکھا: 'نشتر قد وقامت کے اعتبار سے قطب صاحب کی لاٹھ اور رنگ و روغن کے لحاظ سے تاج محل ہیں۔'اس زمانے کے ایک ممتاز اخبار 'پرتاب' نے لکھا 'پنجاب کے جناح کا نام برکت علی ہے تو سرحد کے جناح عبدالرب نشتر ہیں۔سرحد کے جناح کا خطاب ان کی شخصیت پر کئی اعتبار سے سجتا ہے لیکن ان کے مزاج کی ایک اور خوبی انھیں علامہ اقبال کے حلقہ ارادت میں بھی شامل کرتی ہے اور یہ خوبی ہے، شاعری۔ انہوں نے نوجوانی میں ہی شعر کہنا شروع کر دیے اور برصغیر ممتاز شاعر اکبر الہٰ آبادی سے اصلاح لی۔ ان پر استاد کا ظریفانہ رنگ تو نہ چڑھ سکا، اقبال کی فکر غالب آگئی۔ ان کے کئی اشعار اقبال کے رنگ میں ہیں۔

  • ترے وعدے پہ یقین کس طرح آئے ہم کو
  • لب اقرار میں پنہاں ترا انکار بھی ہے
  • کہتی ہے دشمن ایمان سے یہ تیغ ترکی
  • تری سرکار سے بڑھ کر کوئی سرکار بھی ہے
  • رنگ لائے گا یہ فریاد طوفاں نشتر
  • چشم خوں بار بھی ہے اور آہ شرر بار بھی ہے

شعر و ادب سے دلچسپی رکھنے والے اس سیاست دان کی اقتدار سے محرومی کے بعد بھی عوام سے گھلنے ملنے کی عادت برقرار رہی۔ وہ سرشام کراچی کی سڑکوں پر نکل آتے اور عوام میں گھل مل جاتے۔ ابراہیم جلیس نے لکھا: آخری دنوں میں، میں انہیں ہر شام وکٹوریہ روڈ پیدل چلتا ہوا دیکھا کرتا تھا۔ راستہ چلنے والے انہیں بڑے ادب و احترام سے سلام کرتے تھے۔'

وہ بکاؤ مال نہیں تھے[ترمیم]

ملاقاتی اٹھ کر گیا تو بوڑھے شخص نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے ایک شعر پڑھا:

  • بس اتنی سی خطا پر رہبری چھینی گئی ہم سے
  • کہ ہم سے قافلے منزل پر لٹوائے نہیں جاتے

دکھ کی کیفیت میں شعر پڑھنے والے اس شخص کو دنیا اُن کے اونچے شملے والی پگڑی اور ’تلوار مارکہ‘ مونچھوں سے پہچانتی تھی اور انہیں سردار عبد الرب نشتر کے نام سے مخاطب کیا جاتا تھا۔ سردار صاحب سے ملنے کے لیے آنے والا شخص تھوڑے ہی دن پہلے تک سردار صاحب کا کولیگ تھا اور یہ دونوں بزرگ شخصیات وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی کابینہ کے رُکن تھے۔ اس اعتبار سے یہ دونوں سفر و حضر کے ساتھی تھے لیکن محمد علی بوگرا کے وزیر اعظم بنائے جانے کے بعد جب نئی کابینہ کی تشکیل ہوئی تو دونوں کے راستے جدا ہو گئے۔ اقبال احمد صدیقی نے لکھا ہے کہ سردار عبد الرب نشتر کے یہ پرانے ساتھی نئے وزیر اعظم کی طرف سے اُن (نشتر) کے لیے ایک پیشکش لے کر آئے تھے۔ انہوں نے کہا ’خواجہ صاحب کی کابینہ کو تو قصہ پارینہ سمجھیے۔ یہ تو اب بحال نہیں ہو سکتی۔‘

اس جملے پر میزبان نے کوئی خاص ردعمل ظاہر نہ کیا مگر کچھ ثانیوں کے بعد انہوں نے اپنے مہمان کی طرف دیکھا۔ میزبان کی خاموشی سے ممکن ہے، مہمان کا اعتماد کسی قدر کمزور ہوا ہو لیکن انہوں نے بات مکمل کی: 'لیکن جہاں تک آپ کا تعلق ہے جو منصب چاہے حاصل کر لیجیے۔ جس ملک کی سفارت پسند کریں، پیش خدمت ہوگی۔ امریکا، برطانیہ، روس یا جہاں آپ جانا پسند کریں۔'مہمان یہ پیشکش کرکے خاموش ہو گئے۔ سردار عبد الرب نشتر اس بات پر بھی خاموش رہے تو مہمان نے ایک بار پھر زبان کھولی: ’میں یہ پیام لے کر آیا ہوں، اس کا خاطر خواہ جواب لے کر ہی جاؤں گا۔‘ سردار عبد الرب نشتر کو کی جانے والی پیشکش کا ایک پس منظر تھا۔ گورنر جنرل چوہدری غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین کی وزارت تحلیل کر کے اور بعد میں آئین ساز اسمبلی توڑ کر جمہوریت کشی کی جو روایت قائم کی تھی، اس کی وجہ سے پاکستان کی بانی جماعت کے حوصلے پست ہو گئے تھے۔

24 اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی کو توڑنے اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا اقبال احمد صدیقی نے لکھا ہے کہ اس مشکل دور میں بہت سے لوگ مصلحت انگیزی کا شکار ہوئے اور خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ یہ صورتحال سردار عبد الرب نشتر کے لیے قابل قبول نہ تھی۔ چنانچہ انھوں نے علم احتجاج بلند کر دیا اور مشرقی اور مغربی، ملک کے دونوں حصوں میں جلسے جلوسوں کا اہتمام کرکے آمریت مسلط کرنے والی حکومت کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔ چودھری غلام محمد نے کچھ عرصے کے بعد جب اسمبلی بھی تحلیل کر دی تو مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا۔ حکمرانوں کے خوف سے کوئی وکیل مقدمہ لینے کو تیار تھا اور نہ اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین خان کے پاس اتنے وسائل تھے کہ وہ گورنر جنرل کے فیصلے کو چیلنج کر سکتے۔ اس مرحلے پر سردار عبد الرب نشتر آگے بڑھے اور انہوں نے اسمبلی اور جمہوریت کی بحالی کے لیے پاکستان کی تاریخ کے پہلے مقدمے کی عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیروی شروع کر دی۔( انہوں نے بعدازاں یہ مقدمہ جیت لیا تھا۔)

یہ پس منظر تھا جس میں حکومت نے انہیں خاموش کرانے کے لیے وزارت اور سفارت کی پیشکش کی۔ سردار نشتر نے محمد علی بوگرا کے پیغام بر کی بات اطمینان کے ساتھ سُنی اور ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا: 'شکریہ۔ میں وزارت کا بھوکا ہوں نہ سفارت کا۔ عیش و نعم کی زندگی میں نے کبھی بسر کی ہی نہیں۔ لہٰذا وزارت اور سفارت میسر نہ آئیں تو مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘ یہ جواب سُن کر پیغام لانے والا شخص زیادہ دیر تک بیٹھ نہ سکا اور اٹھ کر چلا گیا لیکن اپنے میزبان کو دکھی کر گیا۔ ان صاحب کے اٹھتے ہی نشتر نے کہا: ’جانے کیوں یہ لوگ ہر شخص کو بکاؤ مال سمجھ لیتے ہیں۔‘ اسی دکھ کی کیفیت میں انہوں نے اپنا شعر پڑھا جو پاکستان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لیے کلید کی حیثیت رکھتا ہے اور ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

وفات[ترمیم]

ایک صبح کراچی کی ان سڑکوں پر جہاں وہ اکثر ٹہلا کرتے تھے وکٹوریہ روڈ پر اخبار کے ایک ہاکر نے آواز لگائی: 'سردار نشتر وکٹوریہ روڈ پر ٹہلنے کبھی نہیں آئیں گے۔'ان کی وفات کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ عوام چاہتے تھے کہ بانی پاکستان کے بااعتماد ساتھی کی تدفین مزار بانی پاکستان کے احاطے میں ہو لیکن وزیر اعظم فیروز خان نون نے وہاں مسلح پولیس کھڑی کر دی۔ لاکھوں لوگ اکٹھے ہوگئے اور حکومت کو عوام کی خواہش کے سامنے سر جھکانا پڑا۔وفات کے بعد محترمہ فاطمہ جناح کی اجازت سے مزار قائد کے احاطے میں سردار عبد الرب نشتر خان لیاقت علی خان اور بابائے قوم کے ساتھ سپرد خاک ہوئے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ انمول ستارہ اس فانی دنیا کو الوداع کہہ گیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]


سیاسی عہدے
ماقبل by گورنر پنجاب
1951– 1949
مابعد 
  1. Rab، Abdur (https://en.wikipedia.org/wiki/Abdur_Rab_Nishtar). "Nishtar". https://en.wikipedia.org/wiki/Abdur_Rab_Nishtar. Nishtar. اخذ شدہ بتاریخ https://en.wikipedia.org/wiki/Abdur_Rab_Nishtar.  روابط خارجية في |website= (معاونت)
  2. https://www.bbc.com/urdu/pakistan-60369451
  3. https://www.bbc.com/urdu/pakistan-60369451