سرزمین پونت


سرزمینِ پونت قدیم مشرقی افریقہ کا ایک معروف علاقہ تھا جسے مصری تہذیب میں ایک اہم تجارتی مرکز سمجھا جاتا تھا۔ قدیم مصری اس خطے کی طرف متعدد بحری مہمات بھیجتے تھے تاکہ وہاں سے آبنوس، خوشبودار رال (لوبان و مر)، سونا، ہاتھی دانت، جنگلی جانور، غلام اور دیگر قیمتی اشیاء حاصل کی جا سکیں، جن کے بدلے میں مصر کی مصنوعات فراہم کی جاتی تھیں۔
پونت سے سب سے اہم برآمد ہونے والی شے مر (Myrrh) تھی، جو مذہبی رسومات میں انتہائی اہم سمجھی جاتی تھی۔ خاص طور پر ملکہ حتشپسوت کی پونت مہم تاریخی طور پر بہت مشہور ہے۔ قدیم مصری اس خطے کو “تا نتر” (یعنی دیوتاؤں کی سرزمین) بھی کہتے تھے۔ بعض ماہرینِ مصر شناسی جیسے والیس بڈج اور فلنڈرز پیٹری نے اس اصطلاح کی مختلف تشریحات پیش کیں اور بعض نے اسے مصری تہذیب کی ممکنہ “اصل سرزمین” سے بھی جوڑنے کی کوشش کی۔[1]
کچھ محققین جیسے جیمز بریسٹڈ نے یہ بھی تجویز کیا کہ “دیوتاؤں کی سرزمین” کی اصطلاح صرف پونت تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ شام خصوصاً لبنان جیسے علاقوں کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی، جہاں سے خوشبودار لکڑی اور دیگر مذہبی اشیاء مصر لائی جاتی تھیں۔ پونت کا ذکر مصری اساطیر اور ادب میں بھی ملتا ہے، مثلاً “جہاز کے تباہ ہونے کی کہانی” جو غالباً بارہویں خاندان کے دور سے تعلق رکھتی ہے۔ جدید دور میں “پونت” کا نام افریقہ کے شمال مشرقی خطے میں بھی استعمال ہوا، خاص طور پر صومالیہ کے ایک خود مختار علاقے پونٹ لینڈ پونٹ لینڈ کے نام میں۔[2]