سرمایہ کاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
  • کسی، ملک کی قومی آمدنی کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ قومی آمدنی (الیف) مساوی ہوتی ہے اس کے اخراجات ضروریات (ض) جمع اخراجات سرمایاکاری (ک) کے۔ اس اصول کے تحت الیف = ض + ک کے۔ اس مساوات کی دونوں طرح کی علامتیں تبدل پزیر ہیں۔ اس لئے اگر ہم کسی ملک کی قومی آمدنی کو زیادہ بڑھانا چاہتے ہیں، جس کا دوسرے الفاظ میں یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ ہم اس ملک کی پیداواریا ماحصل بڑھانا چاہتے ہیں اور اس طرح بے روزگاری یا پوشیدہ بے روزگاری سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ملک کے معیار زندگی کو بڑھانے کے خواہاں ہیں تو ہمیں ملک کے اخراجات ضروریات یا سرمایا کاری یادونوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا ہوگا۔ مختلف ملک ترقی کی مختلف منزلوں پر یہ فیصلہ کریں گے، کہ آیا اخراجات ضروریات یا سرمایا کاری یا دونوں میں زیادہ اضافہ کرنا ہوگا۔ کیوں کہ صرف اور سرمایا کاری وونوں تبدل پزیر علامات ہیں۔ حکومت ملک کی معیشت کواس طرح متاثر کر سکتی ہے کہ یا تو اخرجات ضروریات بڑھ جائیں اور یا سرمایا کاری یا دونوں تاکہ ایک کم ترقی یافتہ ملک کم سے کم مدت میں ترقی یافتہ ہوجائے اور ایک ترقی یافتہ ملک اپنے آپ کو کساد بازارہ اور خوشحالی کے مد جزر Trade Sycle سے بچا سکے۔
  • اس تجزیہ کے مقصد کے لئے آسان ترین خاکہ مسز جون رابنسن Mrs JoanRabinson نے اپنے ایک لیکچر ’اقتصادی ترقی کا نظریہ‘ The Theory of Ecnomic Deveploment میں جو کراچی

یونیورسٹی میں میں ۰۱ اگست 1955 میں دیئے گئے میں پیش کیا۔

* اوسط مزدوری ==== 1 ==== G ==== Rs ==== C ==== P ==== W ==== Y ==== K ==
  • پہلا سال============ 500 === 100== 60.0 === 40.0 == 80.0 == 20.0 ==== 4% ==
  • دوسرا سال=========== 520 === 104 = 4. 62 === 41.6 == 83.2 == 20.8 ==== 4% ==
  • اوسط مزدوری === 1.1
  • پہلا سال============ 550 === 100 = 66.0 === 34.0 ==== 83.0 ==== 17.0 ==== 3% ==
  • دوسرا سال=========== 567 === 103 = 68.0 === 35.0 ==== 85.5 ==== 17.5 ==== 3% ==
  • اوسط مزدوری === 0.9
  • پہلا سال========== 450 ==== 100 ==== 54.0 ==== 46.0 ==== 77.0 ==== 23.0 ==== 5 % ==
  • دوسرا سال= ======= 473 ==== 105 ==== 56.7 ==== 48.3 ==== 8.8 ==== 24.1 ==== 5 % ==
  • K= موجودہ مشینری کی قیمت Value of Phsical Capital
  • Y= قومی آمدنی فی سال National Income per year
  • W= سالانہ مجموعی اجرت یا سالانہ مجموعی مزدور Total Wage per year
  • P= سالانہ مجموعی منافع Total Profits per year
  • C= سالانہ اخراجات ضروریات Consumption per year
  • SیاI = سالانہ بچت یا سالانہ اخراجات سرمایاکاری Saving or Investment per year
  • G = شرح ترقی سالانہDevlploment Rate per year
  • فرض کریں کہ ایک سال میں اوسط مزدوری ’1‘ہے۔ ملک میں موجودہ مشینری ’K‘ 500 ہے۔ مزدوروں کا قومی آمدنی ’Y‘ میں حصہ 60 فیصد ہے۔ اس لئے مجموعی مزدوری ’W‘ 60 ہے اور جو حصہ

سرمایاکار کو ملتا ہے 40 فیصد ہے۔ اس لئے مجموعی منافع ’P‘ 40 ہے۔ ملک میں اخراجات ضروریات’C‘ 80 فیصد ہے۔ بچت کا رجحان 20 فیصد ہے اور یہ کہ تمام کا تمام دوبارہ سرمایاکاری پر خرچ کر دیاجاتا ہے۔ اس لحاظ سے مجموعی بچت یا سرمایا کاری 20 فیصد ہے۔ ہم یہ بھی فرض کرتے ہیں کہ مجموعی بچت سرمایاکار ہی کرسکتا ہے اور ایک مزدور بچت نہیں کرسکتا ہے۔

  • پہلے سال میں شرح ترقی مشینری میں اضافہ 20 کو شروع سال کی سرمایاکاری 500 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی یعنی 500 / 20 جو 4 فیصد کے برابرہے۔

دوسرے سال میں سرمایاکاری ’K‘ 500 جمع 20 ہو جائے گی۔ قومی آمدنی ’Y‘ 100 جمع 4 کے حساب سے ترقی 104 ہوجائے گی۔ مزدوری ’W‘ 104 کی 60 فیصد کے حساب سے62,4 کے برابر ہوگی۔ نفع ’P‘ 104 کا 40 فیصدی کے حساب سے 41,6 کے برابر ہو گا۔ اخراجات ضروریات ’C‘ 104 کا 80 فیصد یعنی 83,2کے برابر ہوگی۔ بچت ’S‘ یا سرمایا کاری I 104 کا 20 فیصد یعنی 20,2 ہوں گے۔ دوسرے سال میں شرح ترقی سرمایاکاری میں اضافہ 20,8 کو دوسرے سال میں شروع کی سرمایاکاری 520 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی یعنی 520 / 20,8 جو چار فیصد کے برابر ہے۔ ملک کی معشت 4 فیصد سالانہ سے ترقی کرتی رہے گی، اگر اوسط مزدوری 1 رکھی جائے۔

  • اب فرض کریں ایک سال میں مزدوروں کی اوسط 1,1 تک بڑھا دی جاتی ہے اور اس سال میں مجموعی سرمایاکاری ’K‘ 550 ہے۔ قومی آمدنی ’Y‘ 100 ہے، مجموعی مزدوری ’W‘ 10 فیصد بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اوسط مزدوری اس سال 1,1 ہو گئی ہے، اس لئے یہ ا ب 66 ہوجاتی ہے۔ مجموعی نفع ’P‘ قومی آمدنی 100 اور مجموعی مزدوری کا اوسط کا فرق یعنی 34 ہے۔ اب یہ بھی فرض کریں کہ سرمایاکاروں Entrepreneurs اخرجات صرف رجحا ن2 / 1 ہے۔ یعنی جب ان کی آمدنی میں 6 کی کمی ہوجاتی ہے تو ان کی ضروریات میں 3 کی تخفیف ہوجاتی ہے۔ لیکن مزدورں کی آمدنی میں 6 کا اضافہ ہوگیاہے اور انہوں نے وہ سب آمدنی خرچ کردی کیوں، کہ ہم فرض کرچکے ہیں کہ مزدور طبقہ بچت نہیں کرتا ہے، اس لئے اخراجات میں ضروریات میں اضافہ صرف 6 تفریق 3 یعنی 3 ہے۔ اس لئے مجموعی اخراجا ت صرف ’� C‘ 83 ہے۔ ہم نے فرض کیا ہے کہ تمام بچت سرمایا کار طبقہ class Entrepreneurs کرتا ہے۔ ان کی مجموعی آمدنی ’P‘ میں 6 کی تخفیف ہوگئی ہے اور انہوں نے اپنے اخراجات ضروریات میں 3 کی کمی کردی ہے، جیسا کہ ہم نے بتایا ہے۔ اس لئے وہ اپنی بچت میں بھی 3 کمی کردیں گے تاکہ وہ اپنی آمدنی کی 6 تخفیف پورا کرسکیں۔ اس لئے بچت ’S‘ یا سرمایاکاری ’I‘ 20 تفریق 3 یعنی 17 ہوگا۔ پہلے سال کی ترقی، سرمایاکاری میں اضافہ 17 کو سال کی سرمایاکاری 550 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی، یعنی 500 / 17 جو تین فیصدی کے برابر ہے۔

اس طرح ملک کی معیشت میں 3 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کرتی رہے گی۔ اگر اوسط مزدوری 1,1 رکھی جائے۔

  • فرض کریں کسی سال مزدوری گھٹ کر 0,9 فیصد رہ جاتی ہے اور اس سال مجموعی سرمایاکاری ’K‘ 450 ہے۔ قومی آمدنی ’Y‘ 100، مجموعی مزدوری ’W‘ 10 فیصد کم ہونے کی وجہ سے 54 ہے تو مجموعی نفع ’P‘ مجموعی قومی آمدنی 100 اور مجموعی آمدنی 54 کا فرق یعنی 46 ہوگا۔ پہلے یہ فرض کرلیاگیا ہے کہ سرمایاکار طبقہ کا رجحان صرف 2 / 1 ہے۔ اس لئے جب ان کی آمدنی میں 6 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے توان کے اخراجات صرف میں بھی 3 فیصدکا اضافہ ہوجاتا ہے۔ لیکن مزدوروں کی آمدنی میں 6فیصد کی تخفیف ہوگئی ہے اور وہ اپنی تمام آمدنی خرچ کرڈالتے ہیں، اس لئے اخراجات ضروریات 80 جمع 3 منفی 6 = 77 ہو گا۔ سرمایاکار طبقہ اپنی اضافہ آمدنی کا نصف حصہ یعنی 3 فیصد اپنے اخراجات صرف میں لے آیا ہے۔ اس لئے باقی ماندہ 3 فیصد کو وہ بچت ’S‘ یا سرمایا کاری ’I‘ پر لگائیں گے، اس لئے بچت ’S‘ یا سرمایاکاری ’I‘ 20 فیصدجمع 23 فیصد کے برابر ہوگی، پہلے سال کی شرح ترقی سرمایا کاری میں اضافہ 23 کو شروع سال کی سرمایا کاری 450 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی یعنی 450 / 23 جو 5 فیصد کے برابر ہے۔

دوسرے سال سرمایاکاری ’K‘ 450 جمع 23 کا اضافہ = 473 ہوگا۔ قومی آمدنی ’Y‘ 100 جمع 5 فیصد کے حساب میں سے ترقی = 105 ہوگی۔ مزدوری ’W‘ 105 کی 54 فیصد = 56,7 ہوگی۔ نفع ‘ P‘ 105 کا 46 فیصد = 48,3 فیصد ہوگا۔ اخراجات ’C‘ صرف 105 کا 77 فیصد = 80,8 ہوگا۔ بچت ’S‘ یا سرمایاکاری’I‘ 105 کا 23 فیصد = 24,1 ہوگی۔ دوسرے سال میں شرح ترقی سرمایا کاری میں اضافہ46,1 دوسرے سال میں شروع کی سرمایا کاری 43 پر تقسیم کرکے حاصل ہوگی، یعنی 473 / 24,1 جو پانچ فیصد کے برابر ہے۔ اس طرح ملکی معیشت 5 فیصد سالانہ کے حساب سے ترقی کرتی رہے گی بشرطیکہ اوسط مزدوری 0,9 فیصد برقرار رکھی جائے۔

  • مندرجہ بالا تجزیہ سے واضح ہوتا ہے کہ شرح ترقی کی زیادتی یعنی 5 فیصد کے لئے اوسط مزدوری کم ہونا چاہیے اور منافع زیادہ ہونا چاہیے اور اس شرح کی ترقی کو برقرار رکنے کے لئے ضروری کہ یہ سب کا

سب منافع تخلیق سرمایاکاری Capital Farmatiom میں خرچ کیا جائے۔ کم ترقی یافتہ ممالک اسی صورت میں ترقی کرسکتے ہیں کہ وہ اپنی مزدوری کم رکھیں اور نتیجا اخراجات بھی کم رکھیں گے۔ کیوں کہ ہم نے یہ فرض کیاہے کہ مزدور با لکل بچت نہیں کرتے ہیں اور اپنی تمام آمدنی خرچ کردیتے ہیں۔

  • لیکن مزدور طبقہ کو اس صبر آزما مصیبت میں مبتلا کرکے کوئی ترقی پزیر ملک اسی صورت میں ترقی کرسکتا ہے، جب کہ تمام کا تمام منافع ترقی کے لئے سرمایا کاری میں لگایا جائے۔ اس قسم کی ضمانت کے لئے

شخصی کاروبار پر پورے طور پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے ترقی پزیر ممالک کو ترقی کے ابتدائی مراحل پر حکومتی مداخلت کی زیادہ ضرورت ہے۔

  • حکومتی سرمایاکاری
  • پروفیسر نرکسے Prf Essor Nurkse اپنی تصنیف کم ترقی پزیر ممالک میں تخلیق سرمایا کے مسائل‘Problems of Capital Formation in Uderderdeveloped Countries میں لکھتے ہیں کہ“ جاپان پر نظر ڈالو ترقی کے ابتدائی دور میں بالخصوص 1870 سے1890 کے زمانے میں حکومت نے ترقی کے لئے سرمایاکی فراہمی میں نمایاں حصہ لیا۔ آخر ان کاموں کے لئے سرمایاکس طرح حاصل کیا گیا؟ سخت محصول نافذ کرکے، خصوصیت سے زراعت پیشہ آبادی پر، کبھی کبھی جبری قرضوں سے، جو شہری آبادی کے متوسط سرمایاکاروں سے وصول کئے جاتے تھے اور توسیع زر سے، لیکن یہ توسع زر اس پیمانے پر نہیں ہوتی تھی کہ افراط زر کا خطرہ پیداہوجاتا، کیوں کہ یہ توسیع ملک میں صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ روپیہ کی فراہمی کی ضرورت پوری کرتی تھی۔“
  • ڈبلیو آرتھر لیوس W Arthur Lewis نے ’اقتصادی ترقی کا نظریہ‘ Theory of Ecnomic Growth میں لکھا ہے کہ ترقی پزیر ممالک کی قومی آمدنی ۴ یا۵ فیصد ہے۔ ترقی پزیر ممالک میں یہ اخراجات

قومی آمدنی کے ۲۱ سے ۳۱ فیصد تک ہوتے ہیں۔ مجموعی سرمایاکاری میں ۰۲ فیصدمیں ٹوٹ پھوٹ کے اخراجات اخراجات ۷ یا ۸ فی صد ہوتے ہیں۔ کیوں کہ کسی ملک کی پیداوار کا انحصارا س ملک میں موجود سرمایاکاری پرہوتا ہے، اس لئے ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک کی پیداوار میں دن بدن فرق برھتا جارہا ہے،جس کا متیجہ یہ ہے کہ ترقی پزیر ممالک کی ترقی یافتہ ممالک کے برابر آنے کی امیدیں دن بدن کم ہوتی جارہی ہے۔ ترقی کے موجودہ فرق ہی کو کم از کم برقرار رکھنے کے لئے ترقی پذیرممالک کو اپنی بچت یعنی تخلیق سرمایا کو ۵ فیصد سے بڑھا کر ۲۱ فیصدکرنا ہوگا۔ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے اور یہ صرف حکومت ہی پورا کرسکتی ہے کہ سرمایاکاری کے شعبہ میں کمی کوپورا کرسکے۔ کیوں کہ نجی سرمایادار کسی تجویز کو نفع بخش ہونے کی صورت میں اپنائیں گے، نہ کہ اقتصادی ترقی ضرورت محسوس کرکے۔ جب کوئی ملک اس قدر ترقی کرلے کہ تخلیق سرمایا کی زیادہ گنجائش نہ رہے اور اس کے لئے ترقی کی کم شرح کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا خاکہ میں مثال کے طور پر 3 فیصد، تو اس قسم کی معیشت میں مزدوری زیادہ ہو نی چاہیے اور شرح منافع کم۔ تاکہ مزدور پیشہ قومی آمدنی کا نسبتأئ زیادہ حصہ ضروریات پر خرچ کرسکیں اور ترقی کی کم شرح کو برقرار رکھ سکیں۔ اس طرح کساد بازاری دور کرنے میں مدد ملتی ہے، کیوں کہ ہم نے فرض کیا ہے کہ وہ اپنی آمدنی صرف پر خرچ کرلیتے ہیں۔

  • 29 تا 1933 کی عالمی کساد بازاری کے زمانے سے جب حکومت کی مداخلت کو نہ پسند کرنے والے ممالک خالص پرانے سرمایادارانہ Laissez Faire طریقوں پر عمل پیرا ہوکر ترقی کرنے کے بعدشدید کساد بازاری اور عام بے روزگاری Unemplyment کے جان لیوا درد میں مبتلا ہوگئے تھے۔ حکومت کے اس حق کو مان لیا کہ وہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشت کی رہنمائی کرسکتی ہے یا ان کے اقتصادی معالات میں مداخلت کرسکتی ہے۔ یہ کساد بازاری تجارتی مدو جزر کا ایک مظہر تھی، جو حکومت کی مداخلت سے مبرا سرمایادارانہ نظام معیشت کاجز و لاینفک ہے۔ جس کا وقوع اس دور میں ہوا، جب کہ اقتصادی معاملات میں حکومت کی مداخلت شجر ممنوع کی حیثیت رکھتی تھی۔ لیکن اس مرتبہ کسادبازاری اتنی شدید تھی کہ سرمایادارانہ ممالک کو اپنا نقطہ نظر بدلنا پڑا اور حکومت کو ملک کے اقتصادی معاملات میں مداخلت کا حق منظور کیا اور دنیابھر کے ترقی یافتہ ممالک نے اس کے لئے قوانین مرتب کئے۔
  • ماہرین معاشیات نے ریاضیاتی زائچہ کے ذریعے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچادی ہے کہ تعمیر عامہ یا سرمایا کاری کے ابتدائی اضافہ شدہ بڑھتی ہوئی قومی آمدنی کی وجہ سے طلب اشیائے ضروریات میں 10 فیصدی کو قائم رکھنے کے لئے مجموعی ثانوی سرمایا کاری میں 100 فیصدی اضافہ کرنا ضروری ہے۔ اس لئے وہ کہ نجی سرمایا کاروں کے مقابلہ خود بخود سرمایا کاری کے عمل یعنی حکومت کے وسیلہ سے سرمایاکاری کی حمایت کرتے ہیں۔ کیوں کہ نجی ادارے نفع کے چکر میں پڑ کر ثانوی سرمایاکاری میں یکساں شرح کو برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں۔ جہاں تک حکومت کی ابتدائی سرمایا کاری کا تعلق ہے کینز Keynes اس کے لئے رفع عامہ کے شعبے میں سرمایاکاری کی سفارش کرتا ہے۔
  • کینز Keynes کا کہنا ہے کہ کساد بازاری کے زمانے میں جب حکومت سرمایا کاری پر روپیہ لگاتی ہے تو وہ مزدور جنہیں روزگارEmplyment ملتا ہے اپنی آمدنی سے اشیائے ضرورت پر خرچ کرتے ہیں، اس لیے اشیائے ضروریات کی طلب بڑھتی ہے۔ تاجر کارخانوں کو آڈر دیتے ہیں۔ کارخانہ دار اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، اس لیے وہ اپنی مجموعی پیدا وار میں اضافہ کردیتے ہیں۔ اس مقصد کی خا طر وہ زیادہ مزدور لگادیتے ہیں اور زیادہ مشینری کا آڈر دیتے ہیں۔ مشینیں تیار کرنے والے کارخانے بھی زیادہ مشینیں بنانے لگتے ہیں۔ جس کے لیے انہیں زیادہ مزدور لگانے پڑتے ہیں اس طرح روزگار میں ہر طرف اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور نتیجتأئ قومی آمدنی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ کینز Keynes اس حاصل ضرب کو جو قومی آمدنی کے تغیر اور ابتدائی خرچ کے تغیر کا تناسب ہے (یہاں مراد اس خرچ سے ہے جو حکومت کی سرمایاکاری کے متعلق ہے) مضروب فیہ Multiplier کہتا ہے۔ اس تناسب کی دائمی بقا یعنی قومی آمدنی یا سطح روزگار کے استقلال کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس بچت کو جو اضافہ شدہ آمدنی سے حاصل ہو دوبارہ سرمایاکاری پر لگایا جائے یا دوسرے الفاظ میں ابتدائی خرچ جو سرمایا کاری پر خرچ ہوا ہو کی وجہ سے طلب اشیائے ضروریات میں جو بیشی ہوئی اس کو برقرار رکھنے کے لیے ثانوی سرمایا کاری ضروری ہے۔
  • بے روز گاری جو قدیم مکتب کا لازمی نقص ہے اس کو دور کرنے کے لیے ریاست کی مداخلت ضروری ہے کہ وہ سرمایا کاری یعنی تعمیرات عامہ کے پروگراموں کو اختیار کریں۔ اس مکتبہ خیال کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب کوئی فرد نفع و نقصان کی تحریک سے محرک ہو کر قوم کی اقتصادی سعی میں حصہ لیتا ہے تب فرد کا فائدہ قوم سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے اور یہ کہ ان دونوں میں قدرتی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔ آدم اسمتھ Adem Smith نے اس کو قدرتی حرکت کہا ہے۔ لیکن کینز Keynes نے اس کو غلط ثابت کردیاہے۔ اس کا کہنا ہے جب کوئی شخص بچت کرتا ہے تو یہ بچت اس کی اپنی ذات کے مفید ہو سکتی ہے، لیکن جب تمام معاشر ہ ضروریات اور سرمایا کاری کی مدوں سے بچانا شروع کردے تو قومی آمدنی اور نتیجیتأئ جیسا کہ کینز Keynes نے مساوات آمدنی کے ذریعے ظاہر کیا ہے کہ مجموعی قومی بچت گرجاتی ہے۔
  • قدیم معاشیات دانوں کا یہ خیال تھا کہ تعمیرات عامہ مثلأئ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر تجارتی اشیاء کی قیمت میں تخفیف کا باعث ہوتی ہے۔ کیوں کہ کرایا بار برداری کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح غریب سے غریب اشخاص بھی یہ چیزیں حاصل کرسکتے ہیں اور اس طرح ان کا معیار زندگی بہتر ہوجا تا ہے۔ لیکن کینزKeynes نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس علاوہ یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ سرمایا کاری قومی دولت میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے اور ملک میں مکمل روزگار کے مواقع پیدا کر دیتی ہے۔
  • پروفیسر ہن سن Pro Hansen اپنی کتاب ’مالی نظریہ اور مالیاتی پالیسی‘ Monetary Theory and Fiscal Policy میں لکھتا ہے کہ ”ان لوگوں نے جو عوامی قرضے کی مسلسل تخفیف کے بارے میں

نہایت چرب زبانی سے گفتگو کرتے ہیں۔ مقدار زر سے تعلق کی حکمت عملی کی پیچیدگیوں پر غور کئے بغیر حقائق کو نظر انداز کردیا ہے۔ ایک پھولتی ہوئی مشیت کے لیے کثیر زر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تجارت کے مروجہ مالی رواج بہ شمول رائج شدہ مالی و بینکاری اداروں کے مد نظر جیسا تجربہ بناتا ہے۔ اب ہم اس مسئلہ کے فیصلہ کن مراحل پر پہنچ گئے ہیں، جب آپ زیادہ قومی آمدنی اور کامل روزگار کے خیال سے اپنی معیشت کی ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں، تب آپ کو رسد زر یا مقدار زر میں اضافہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

  • ایک وقت میں معاشرے کے اخراجات اور ضروریات تقریبأ بندھے ہوتے ہیں۔ اس لیے جو کچھ بچت یا ذخیرہ اندوزی ہوتی ہے وہ سرمایا کاری کی مدمیں ہوتی ہے۔ اس بچت کو سرمایا کاری میں لگانے کے لیے (اور اگر روزگار Emplyment کامل کے مقاصد کے لیے سرمایاکاری بڑھانے کی ضرورت بھی ہو تو اس کے لیے بھی) کینز Keynesسرکاری سرمایا کاری تعمیر عامہ میں کرنے کی سفارش کرتا ہے۔

کم ترقی یافتہ ملکوں میں سرمایا کاری، نفس کشی اور رضاء کارانہ بچت کے اقدامات زیادہ نہیں ہوتے ہیں اور چوں کہ سماجی پیداوار اضافے کے لیے حکومتی سرمایا کاری ضروری ہے۔ اس کے لیے ترقی کی رفتاربڑھانے کے لیے حکومت خسارے کی سرمایا کاری کرتی ہے۔ یہ اقدام طلبی دباؤ اور رسدی سکراؤ دونوں ہی افراد زر کا باعث بنتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے حصول کے لیے زرکی اضافی شرحوں پر اندرونی قرضوں اوربھاری پر بیرونی قرضہ جات سے پورے کئے جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں افراط زر ناقابل برداشت ہو جاتا ہے۔ قومی قرض میں غیر ملکوں کو واجب الادا رقوم زیادہ پریشان کن حالات کی حامل ہوتی ہیں۔ کیوں کہ اس پر سود کی ادائیگی زرمبادلہ میں ادا کرنی پڑتی ہے اور بیرونی کرنسیوں کی قدر کاانحصار کھلی منڈی پر ہو تا ہے۔

  • ماخذ
  • نصیر احمد شیخ اسلامی دستور اور اسلامی اقتصادیات کے چند پہلو۔ 1959 نصیر احمد شیخ میکلوڈ روڈ کراچی
  • 1997 کی اسٹیٹ بنک کی سالانہ رپورٹ جنگ کراچی، 6 جون1997)