سرمد صہبائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار اور ڈائریکٹر سرمد صہبائی ، جو آج کل امریکہ میں ہیں


ان کے والد اثر صہبائی صاحب دیوان شاعر تھے اس لیے گھر میں ادبی ماحول تھا۔ تمام اہم ادبی مجلے ان کے ہاں آتے تھے۔ اس ماحول میں جس صنف کو انہوں نے تخلیقی اظہار کے لئے چنا وہ شاعری تھی ۔1951ء میں سرمد صہبائی لاہور آگئے۔ کالج کے لیے نگاہ انتخاب گورنمنٹ کالج جاکر ٹھہری۔

سرمد صہبائی کی شاعری کی کتاب’’ ان کہی باتوں کی تھکن‘‘ 1976ء میں چھپی اور کافیوں پر مشتمل کتاب’’ نیلی کے سورنگ‘‘ 1986ء میں شائع ہوئی۔ چند سال قبل ان کا نیا مجموعہ ’’ پل بھر کی بہشت ‘‘ شائع ہوا۔ حالیہ برسوں میں کم ہی کسی شعری مجموعے کو اتنی پذیرائی ملی ہو جتنی اس کتاب کے حصے میں آئی۔ شاعری کے علاوہ وہ اردو اور پنجابی میں ڈرامہ نگاری بھی کرتے رہے ہیں۔ اردو ڈراموں کا مجموعہ’’ کٹھ پتلیوں کا شہر‘‘ 1975ء میں شائع ہوا۔ پنجابی ڈراموں میں توں کون‘ پنجواں چراغ اور طوطا راما شامل ہیں۔ سٹیج کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی پر بھی کئی ڈرامے پروڈیوس کر چکے ہیں۔ ان ڈراموں میں’’ بچوں کا پارک‘‘، ’’ نیا قانون‘‘، ’’ آخری دن‘‘، ’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘ اور’’سوگندھی‘‘ شامل ہیں۔

’’ فنکار گلی‘‘ کے نام سے ایک ان کی ٹیلی فلم کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت پذیرائی ملی۔۔ ان کی فلم ماہ منیر جلد ریلیز ہونے والی ہے ۔

سرمد صہبائی کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے

ہمیں مرنے کی خواہش اور وہ مرنے نہیں دیتا

عجب ظالم ہے دیتا ہے عذاب آہستہ آہستہ

داغ ہے سینے پہ اک تعویذ کالے عشق کا

کیوں نہ پھر رکھیں اسے ہم عمر بھر باندھے ہوئے

عجب اک خلوتِ دیدار میں گم ہو گئیں آنکھیں

دم حیرت نہیں کھلتا کہ یہ میں ہوں کہ تو عریاں

بستی دھوپ آنگن میں سمٹ کر سو رہی ہے

ہوا کے دوش پر پیڑوں کے سر رکھے گئے ہیں

حوالہ جات[ترمیم]

تخلیق صفحہ، کامران اعظم سوہدروی