سریبرینیتسا کا قتل عام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
سریبرینیتسا و ژيپا کا معرکہ
Srebrenica massacre map.jpg
تاریخ 6 جولائی تا 25 جولائی 1995ء
مقام بوسنیا و ہرزیگووینا
نتیجہ Operation Deliberate Force
متحارب
Flag of Republika Srpska.svg سرپسکا
10th Sabotage Detachment
Flag of Bosnia and Herzegovina (1992-1998).svg بوسنیا و ہرزیگووینا
Flag of the Netherlands.svg نیدرلینڈز

سریبرینیتسا (Srebrenica تلفظ: [srɛbrɛnitsa] ) بوسنیا و ہرزیگووینا کا ایک شہر ہے۔ یہ شہر بوسنیا و ہرزیگووینا کے علاقے سرپسکا میں شامل ہے جو قدرے آزاد ہے۔ سرپسکا سرب اکثریتی علاقہ ہے مگر سریبرینیتسا ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ 1995ء میں سرب افواج نے اس شہر پر قبضہ کر کے ایک ہی دن میں آٹھ ہزار سے زیادہ مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ بوسنیا و ہرزیگووینا کو دو علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں سے ایک وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا کہلاتا ہے اور دوسرا سرپسکا کہلاتا ہے۔ 24 مارچ 2007ء کو سریبرینیتسا کی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی جس میں سرپسکا سے علیحدگی اور وفاق بوسنیا میں شمولیت منظور کی گئی۔ اس میں سربوں نے حصہ نہیں لیا تھا۔ سریبرینیتسا میں بوسنیائی مسلمان 63 فی صد سے زیادہ ہیں۔ یہاں سونے، چاندی اور دیگر کانیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 1995ء کے قتلِ عام سے پہلے یہاں فولاد کی صنعت بھی مستحکم تھی۔ 12 و 13 جولائی 1995ء کو سرب افواج نے اس شہر پر قبضہ کیا اور ایک ہی دن میں آٹھ ہزار مردوں اور لڑکوں کا قتل عام کیا۔ اس کے علاوہ علاقہ سے جان بچا کر بھاگنے والے ہزاروں افراد کی بیشتر تعداد مسلمان علاقے تک پہنچنے کی کوشش کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ یہ قتل عام شہر میں اقوام متحدہ اور نیٹو (NATO) افواج کی موجودگی میں ہوا جو اس پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ ہیگ کی جرائم کی عالمی عدالت ( International Criminal Tribunal for the former Yugoslavia۔ICTY) نے 2004ء میں اس قتل عام کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا۔

پس منظر[ترمیم]

سابقہ ملک یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد 15 اکتوبر 1992ء کو بوسنیا و ہرزیگووینا نے اپنی آزادی کا اعلان کر دیا جسے یورپی اتحاد نے 6 اپریل 1992ء کو اور امریکہ نے اس سے اگلے دن تسلیم کر لیا۔ اس نئے ملک میں بوسنیائی نسل کے مسلمان غالب اکثریت میں تھے مگر ان کے علاوہ سرب نسل کے لوگ اور کروشیائی نسل کے لوگ بھی موجود تھے جو زیادہ تر عیسائی تھے۔ ان تینوں گروہوں میں اقتدار اور طاقت کی کشمکش شروع ہو گئی۔ سرب اور کروشیائی لوگ سابقہ ملک یوگوسلاویہ کی فوج اور پولیس میں اکثریت میں تھے چنانچہ ان کے پاس وافر اسلحہ تھا اور انہیں کسی تربیت کی ضرورت بھی نہ تھی۔ بوسنیائی مسلمانوں تک اسلحہ پہنچنے نہ دیا گیا بلکہ کروشیا جو خود ایک نیا ملک تھا اسے بوسنیا و ہرزیگوینا کا سارا ساحلِ سمندر بھی دے دیا گیا جس کی باریک پٹی نقشہ میں نمایاں نظر آتی ہے۔ سرب نسل پرستوں نے بوسنیائی مسلمانوں کے ساتھ ایک جنگ شروع کر دی۔ 1992ء میں ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی شروع کی گئی۔ ابتداء ان علاقوں سے کی گئی جو دو سرب علاقوں کے درمیان آتے تھے تاکہ ان دو سرب علاقوں کو جوڑ کر بوسنیا و ہرزیگووینا سے علیحدگی کے بعد ایک نئی مملکت بنائی جا سکے۔ اس سرب علاقے کا نام آج سرپسکا ہے اور جہاں قتل عام شروع کیا گیا اس کا نام پودرنجی (Podrinje) ہے۔ اس کے علاوہ یہی کام مشرقی بوسنیا میں بھی کیا گیا۔ ہزاروں مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا اور گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے۔ صرف قریبی علاقہ براتوناتس (Bratunac) میں 1992ء کی ابتداء ہی میں 1156 مسلمان شہید ہو چکے تھے۔ [1] بین الاقوامی جرائم کی عالمی عدالت (ICTY) کے مطابق پہلے قصبہ یا دیہات یا شہر پر قبضہ کیا جاتا اس کے بعد سرب افواج، پولیس، پیراملٹری قوتیں اور بعض جگہ عام سرب دیہاتی سب نے ایک ہی طریقۂ واردات اختیار کیا یعنی مسلمانوں کے گھروں کو جلا کر اور گرا کر مکمل طور پر تباہ کیا جاتا، مردوں اور عورتوں کو علیحدہ کیا جاتا۔ اس دوران تشدد کی وجہ سے بے شمار اموات ہوئیں۔ مردوں کو ایک سابقہ قید خانوں میں رکھا جاتا اور قید کے دوران اکثر کو قتل کیا گیا۔[2]


1992ء میں ہی سرب قوتوں نے سریبرینیتسا پر قبضہ کر کے بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا یا علاقہ سے نکال دیا۔ مئی 1992ء میں بوسنیائی مسلمانوں نے ناصر اوریس (Naser Orić) کی قیادت میں سریبرینتسا کو دوبارہ حاصل کر لیا مگر سرب لوگوں بشمول افواج نے علاقہ کو گھیرے میں لیے رکھا۔ 16 اپریل 1993ء کو اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے سربرینیتسا کو محفوظ علاقہ قرار دے دیا اور تمام قوتوں کو ادھر سے نکلنے کا کہا اور اس طریقہ سے سربرینیتسا مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر اقوام متحدہ کی افواج کے ہاتھ میں آگیا جو 18 اپریل 1993ء کو سریبرینتسا میں داخل ہو گئے۔ بوسنیائی افواج جو علاقہ میں موجود تھیں انہیں غیر مسلح کرنے کی کوششیں جاری رہیں مگر اس علاقے کے اردگرد سرب افواج کے پاس ٹینکوں سمیت تمام اسلحہ موجود رہا۔ اقوام متحدہ مسلمانوں کو یقین دلاتی رہی کہ سریبرینتسا ایک محفوظ علاقہ ہے اس لیے وہاں ہتھیار لانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سربوں کا یہ محاصرہ 1995ء کے شروع تک جاری رہا جس سے سریبرینیتسا کے بوسنیائی مسلمان بالکل بے یارومددگار اور کمزور ہوگئے۔

1995ء کی ابتداء[ترمیم]

1995ء کے شروع میں علاقے کی تمام رسد کاٹ دی گئی خصوصاً اسلحہ اور کھانے پینے کی چیزوں کے۔ اسلحہ کی رسد کاٹنے میں اقوامِ متحدہ برابر کی شریک رہی۔ علاقے میں اقوام متحدہ کی افواج کی اکثریت نیدرلینڈز کی افواج پر مشتمل تھی۔ 1995ء کے شروع ہی سے ایک منصوبہ کے تحت جب اقوام متحدہ کی افواج کا کوئی رکن چھٹی پر جاتا تو اسے واپس نہ بھیجا جاتا۔ یہ سلسلہ غیر محسوس طریقہ سے جاری رہا حتیٰ کہ نیدرلینڈز کی افواج کی تعداد صرف 400 رہ گئی۔[3]

مارچ 1995ء میں رودوان کرادیتش (Radovan Karadžić) جو سرپسکا کا صدر تھا اس نے حکم جاری کیا کہ سریبرینیتسا کا گھیرا سخت کیا جائے اور اس کا رابطہ گھیرے میں لیے گئے ایک دوسرے علاقے زیپا ( Žepa) سے مکمل طور پر کاٹ دیا جائے۔ [4] اس وقت علاقے میں کچھ مسلح بوسنیائی مسلمان ناصر اوریس (Naser Orić) کی قیادت میں موجود تھے مگر اقوام متحدہ کی افواج کے حکم کے مطابق انہیں علاقے سے نکل جانے کے لیے کہہ دیا گیا۔ ان کو ہیلی کاپٹروں پر بٹھا کر ایک اور علاقے توزلا (Tuzla) بھیج دیا گیا۔ رہ جانے والی بوسنیائی افواج سے اسلحہ لے کر انہیں 28 ڈویژن کے اختیار میں دے دیا گیا۔ یوں تمام علاقہ سربوں کے رحم و کرم پر رہ گیا۔[5] لوگ بھوک سے مرنا شروع ہو گئے اور انسانی صورتحال نہائت باگفتہ بہ ہو گئی۔ [6]

6 سے 11 جولائی 1995ء سریبرینیتسا پر سربوں کا قبضہ[ترمیم]

9 جولائی 1995ء کو سرپسکا کے صدر نے جب یہ دیکھا کہ اقوام متحدہ نے سریبرینیتسا کے بوسنیائی مسلمانوں کو بالکل غیر مسلح کر دیا ہے اور اس مسئلے پر عالمی برادری کوئی ردِ عمل نہیں دکھا رہی تو اس نے سربوں کو سریبرینیتسا پر قبضہ کا اختیار دے دیا۔[7] 10 جولائی 1995ء کو سربوں نے جنرل راتکو ملادیچ ( Ratko Mladić) کی قیادت میں باقاعدہ حملہ شروع کیا۔ نیٹو (NATO) نے کچھ ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے پہاڑوں پر کچھ فائرنگ کی مگر بعد میں یہ کہہ کر رک گئے کہ اس سے سریبرینیتسا میں موجود 400 نیدرلینڈز کی افواج کو نقصان ہو سکتا ہے۔ خود نیدرلینڈز کی فوج نے کوئی ردِ عمل نہ دکھایا بلکہ سربوں کی فتح کے بعد ان کے ساتھ شراب پینے کی 'ٹوسٹ' (toast ) کی یورپی رسم ادا کی۔ [8] جنرل راتکو ملادیچ نے شہر پر قبضہ کے بعد تمام عمارات کو جلایا اور مسلمانوں کے سائن بورڈ تک اتروادیے اور یہ کہا کہ آج موقع ہے کہ ترکوں کے یورپی علاقوں پر قبضہ کا بدلہ لیا جائے۔ جنرل راتکو ملادیچ آج بھی آزاد ہے اور مبینہ طور پر سربیا میں رہتا ہے۔[9]

12۔13 جولائی 1995ء اور قتل عام[ترمیم]

بوسنیائی مسلمانوں میں سے کچھ کی شناخت کے بعد ان کی تدفین سے پہلے کا منظر۔ یہ شناخت قتل عام کے کئی سال بعد ہوئی۔

شہر پر قبضہ کے بعد سرب افواج نے نیدرلینڈز افواج (ڈچ فوج) و اقوام متحدہ کی فوج کے ساتھ ان ہزاروں غیر مسلح اور بے یارو مددگار لوگوں کے مستقبل پر بات چیت کی جو محصور اور اب ان کے قبضے میں تھے۔ نیدرلینڈز افواج (ڈچ فوج) کی ایک عمارت جو پوٹوچاری (Potočari) میں تھی اس میں سینکڑوں لوگوں نے پناہ لی۔اس میں جگہ ختم ہو گئی تو ہزاروں لوگ اس عمارت کے باہر اردگرد کے کارخانوں میں آ گئے۔ ایک اندازہ کے مطابق 25،000 سے زیادہ لوگ تھے۔[10]

12 جولائی 1995ء کو سرب افواج نے شہر کی عمارتوں اور گھروں کا آگ لگا دی۔ اور سینکڑوں لوگوں کو قتل کیا جو صرف ایک ابتداء تھی۔ لاشوں کو ٹرکوں پر لاد لاد کر دوسری کسی جگہ لے جا کر دفنایا گیا جن کی خراب شدہ لاشیں کے ثبوت کئی سال بعد ملے۔ کئی گواہوں نے عالمی عدالت میں بیان دیے کہ ان کے سامنے ہجوم سے سرب افواج لوگوں کو لے جاتے رہے جو اس کے بعد نظر نہ آئے۔ کئی لوگوں نے لاشیں ٹرکوں پر جاتے ہوئے دیکھیں اور سربوں کو عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے دیکھا۔ کئی بچوں کے گلوں کو خنجروں اور چاقو سے کاٹ دیا گیا۔[11] [12] بے شمار عورتوں سے ان کے بچوں کے سامنے زنا بالجبر کیا گیا [13] ایک گواہ نے بتایا کہ ایک سرب نے ایک بوسنیائی عورت کے ساتھ زنا بالجبر کیا جس کے دوران اس کا بچہ رویا تو اس سرب نے چاقو سے اس بچہ کا حلق چیر ڈالا۔[14] بیسیوں لوگوں نے یہ مناظر دیکھ کر خوف کے مارے خود کشی کر لی۔[15]

قتل عام[ترمیم]

12 جولائی کی صبح سے لوگوں نے بوسنیائی محفوظ علاقوں تک جانے کی کوشش کی۔ سربوں نے 14 سال سے 70 سال تک کے تمام مردوں کو نہ جانے دیا اور عورتوں سے علیحدہ کرتے رہے۔[16] [17] ان مردوں کو علیحدہ لے جا کر ایک بڑی عمارت میں رکھا جاتا رہا جس کا نام سربوں نے وائٹ ہاؤس رکھا ہوا تھا۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان کو قتل کیا جاتا رہا ہے۔[18] اقوام متحدہ کے ایک فوجی کرنل جوزف (Colonel Joseph Kingori) نے محسوس کیا کہ بڑی تعداد میں لوگ وائٹ ہاؤس کے پیچھے لے جائے جا رہے ہیں جو دوبارہ نظر نہیں آتے۔ اس کے ادھر جا کر صورتحال کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ مگر سرب افواج نے اسے مزید آگے نہ جانے دیا اور قتل عام جاری رہا۔[19]

سربوں نے لوگوں کے ناک کان وغیرہ ان کی زندگی میں کاٹے اور ان کو قتل کرنے کے بعد بلڈوزروں کی مدد سے ان کی لاشوں کو بڑی مشترکہ قبروں میں ڈالا۔ ایک فرانسیسی پولیس آفیسر جیں غینے رویز (Jean-René Ruez) کے مطابق بے شمار لوگ بلڈوزروں کی مدد سے زندہ بھی دفن کیے گئے جن میں ان گنت بچے بھی شامل تھے۔[20] دس سے پندرہ ہزار بوسنیائی مرد ایسے تھے جنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ سربوں کے ہاتھ لگنے کی بجائے فرار ہو کر پہاڑوں کے پار بوسنیائی محفوظ علاقے تزلہ ( Tuzla ) تک پہنچ سکتے ہیں۔ وہ رات کی تاریکی میں جانا شروع ہوئے مگر دن کے وقت جب وہ ایک پہاڑی سڑک پر قافلہ کی صورت میں رواں تھے، سربوں نے توپوں اور مشین گنوں کی مدد سے ان پر گولے برسانا شروع کیے۔ ان پندرہ ہزار افراد میں سے صرف پانچ ہزار افراد محفوظ علاقہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یوں مرنے والوں کی تعداد کسی طرح بھی 18،000 سے کم نہیں ہے جس میں سے آٹھ ہزار صرف سربرینیتسا کے قریب پوٹوچاری میں مارے گئے۔[21] [22]

تزلہ ( Tuzla ) کا فاصلہ سربرینیتسا سے 55 کلومیٹر تھا۔ جو تمام تر پہاڑوں پر مشتمل تھا۔ اس میں کئی سڑکیں تھیں مگر ان پر سربوں نے پہلے ہی توپیں اور مشین گنیں پہنچا دی تھیں۔ بوسنیائی لوگوں جو تعداد میں تیس ہزار سے زیادہ تھے ان میں سے صرف پندرہ ہزار فرار کی جرات کر سکے۔ شدید گرمی اور حبس کے اس سفر میں پہلے چند افراد آگے گئے تاکہ دوسروں کی رہنمائی کر سکیں۔ اس کے بعد 100 افراد کا ایک چھوٹا قافلہ تھا جو سابقہ فوجیوں پر مشتمل تھا پھر باقی لوگ تھے۔ ان میں کچھ کلومیٹر کا فاصلہ رکھا گیا۔ مگر اس کے باوجود دو تہائی لوگ شہید ہو گئے۔ کچھ لوگ راستے کی تکلیفوں کا شکار ہوئے، کچھ نے خودکشی کر لی مگر ہزاروں سربوں کی توپوں کا شکار ہو گئے۔ ان کا شکار جنگلی جانوروں کی طرح پورا دن کیا گیا اور سربوں نے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ کوئی بچ کر جانے نہ پائے۔ جس جگہ انسانوں کا یہ شکار کھیلا گیا اسے کیمینیکا (Kamenica ) کی پہاڑیوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بچ جانے والے کچھ لوگ ادرچ کے پہاڑ (Mount Udrc) پر پہنچے تو ان کا دوسری مرتبہ شکار کیا گیا کیونکہ کچھ سرب فوج پہلے سے وہاں موجود تھی۔ ان سے جو لوگ بچے ان کی اکثریت سناگوو (Snagovo) کے مقام پر شہید کی گئی۔ اس پندرہ ہزار کے قافلے میں سے صرف چار ہزار افراد 16 جولائی 1995ء کی شام کو تزلہ (Tuzla) پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ جبکہ دو ہزار کے قریب جنگلوں میں چھپے ہوئے تھے جن کا سرب ابھی شکار کر رہے تھے۔یہ شکار 22 جولائی 1995ء تک جاری رہا۔

جنگ کے بعد[ترمیم]

10 اگست 1995ء کو امریکی وزیر خارجہ میڈیلین آلبرائیٹ نے اقوام متحدہ میں سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر دکھائیں جس میں نووا کسابا کے نزدیک مسلمانوں کو مار کر ایک ہی جگہ دفن کیا گیا۔ جنگ کے بعد وہاں سے 33 لاشیں نکلیں۔ مگر دو سال کے بعد دوبارہ تلاش سے 400 سے زیادہ لاشیں نکالی گئیں۔ تصویر دکھانے کا مقصد امریکی مقاصد کا حصول تھا۔

28 اگست 1995ء کے مارکال کے قتل عام کے بعد نیٹو (NATO) کی افواج نے بوسنیا و ہرزیگووینا پر بمباری شروع کی۔ جو تقریباً ایک ماہ جاری رہی۔ یہ زیادہ تر ان علاقوں پر تھی جو سربوں اور لڑنے والے مسلمانوں پر مشتمل تھی اور بظاہر اس کا مقصد جنگ کا خاتمہ تھا۔ آخر نومبر 1995ء میں جنگ کا خاتمہ ہوا۔ کئی سال تک دنیا کو مکمل طور پر معلوم ہی نہ تھا کہ سربرینیتسا میں کیا قیامت ٹوٹی مگر کئی سال بعد باتیں سامنے آنا شروع ہوئیں۔ 2004ء میں سرپسکا کے سربوں کی سرکاری شماریات کے مطابق قتل ہونے والوں میں سے ان لوگوں کی تعداد 8731 تھی جن کے نام معلوم ہو سکے ہیں۔ یہ سرکاری اعداد و شمار ہیں لیکن ہزاروں کی تعداد ایسی ہے جن کے نام معلوم نہیں ہو سکے اور نہ ہی ان کا شمار ہو سکا ہے۔

پیش منظر[ترمیم]

10 نومبر 2004ء کو بوسنیا کے سرب علاقے سرپسکا کی حکومت نے سرکاری طور پر ان جرائم کو قبول کرتے ہوئے معافی مانگی اور ایک رپورٹ شائع کی جس میں ان واقعات کو سرب تاریخ پر بدنما دھبے سے تشبیہہ دی گئی۔[23]

2 جون 2005ء کو ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جو خفیہ طور پر بنائی گئی تھی جس میں یہ دکھایا گیا کہ ایک آرتھوڈوکس عیسائی پادری نے سرب سپاہیوں کو کیسے نجات کی خوشخبری دیتے ہوئے قتل عام کی حمایت کی جس کے بعد ان سپاہیوں نے کچھ غیر مسلح افراد جن کے اجسام پر مار پیٹ کے نشان تھے اور وہ بندھے ہوئے تھے ان کو قتل کر کے ان کی لاشیں ٹھکانے لگائیں۔ قاتلوں میں سربیا کی پولیس اور فوج کے افراد شامل تھے۔ ایک ماں نے تو اس ویڈیو میں اپنے بیٹے کے قتل کا منظر دیکھا اور کہا کہ اسے پہلے ہی معلوم تھا اور یہ بھی معلوم تھا کہ اس کے بیٹے کی لاش کو جلایا گیا تھا۔[24]

2006ء تک 42 مشترکہ بڑی قبریں دریافت ہو چکی تھیں جن میں بنیادی طور پر سربرینیتسا کے بوسنیائی مسلمانوں کو دفن کیا گیا تھا۔ 22 مزید مشترکہ قبروں کے بارے میں کچھ معلومات ہیں۔ 11 اگست 2006ء کو کامنیکا کے پہاڑ کے پاس ایک قبر دریافت کی گئی جس میں 1000 لوگ دفن تھے۔ ابھی تک صرف ان دریافت شدہ قبروں سے ملنے والے 2070 لوگوں کے نام معلوم ہو سکے ہیں۔ جبکہ 7000 ایسی لاشیں ہیں جن کی ابھی شناخت نہیں ہو سکی۔[25]

2009ء میں بوسنیا کی حکومت نے ہر سال 11 جولائی کو قومی سوگ کا دن منانے کا فیصلہ کیا۔ 2009ء کا قومی سوگ ان 500 لاشوں کا اجتماعی جنازہ پڑھ کر شروع کیا گیا۔[26]

دعائے سریبرینیتسا[ترمیم]

سریبرینیتسا سے 6 کلومیٹر شمال میں ایک گاؤں کے پاس 7 ہزار مسلمان شہداء کی یادگاری لوح نصب ہے جس پر رئیس العلماء بوسنہ کی طرف سے "دعائے سریبرینیتسا" رقم ہے:

اے ہمارے رب! ہم تجھ سے غم میں رحمت اور قصاص میں زندگی اور سانحہ سریبرینیتسا پر ماؤں کے آنسوؤں میں چھپی دعا کا سوال کرتے ہیں، کہ ایسا سانحہ دوبارہ برپا نہ ہو۔ اے حالات بدلنے والے! ہمارے حالات بدل کر بہتر کر دے۔ اور ہماری آخری پکار یہی ہے کہ بے شک تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے

یہ دعائیہ لوح 11 جولائی 2001ء کو نصب کی گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ بوسنیائی سرکاری شماریات (Bratunac Municipality Officials, "Truth about Bratunac (Istina o Bratuncu)". 1995 )
  2. ^ ICTY: The attack against the civilian population and related requirements عالمی عدالت کا بیان
  3. ^ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ ۔ 15 نومبر 1999ء
  4. ^ اقوام متحدہ 2004ء (ICTY. "Prosecutor vs Krstic, Appeals Chamber Judgement". United Nations. 19 April 2004)
  5. ^ اقوام متحدہ۔ 2 اگست 2001ء (ICTY. "Prosecutor vs Krstic, First Judgement". United Nations.)
  6. ^ بلقان واچ (BALKAN WATCH The Balkan Institute July 10, 1995 A Weekly Review of Current Events Volume 2.26 Week in Review July 3–9, 1995)
  7. ^ اقوام متحدہ۔ 2 اگست 2001ء (ICTY. "Prosecutor vs Krstic, First Judgement". United Nations.)
  8. ^ بی بی سی کا دستاویزی پروگرام یوٹیوب پر
  9. ^ بی بی سی کا دستاویزی پروگرام یوٹیوب پر
  10. ^ اقوام متحدہ۔ 2 اگست 2001ء (ICTY. "Prosecutor vs Krstic, First Judgement". United Nations.)
  11. ^ اقوام متحدہ۔ 2 اگست 2001ء (ICTY. "Prosecutor vs Krstic, First Judgement". United Nations.)
  12. ^ پوٹوچاری کے جرائم از اقوام متحدہ
  13. ^ پوٹوچاری کے جرائم (ICTY)
  14. ^ سربرینیتسا کے لوگوں کا نیدرلینڈز اور اقوام متحدہ پر مقدمہ
  15. ^ پوٹوچاری کے جرائم از اقوام متحدہ
  16. ^ http://www.un.org/icty/transe33/000726ed.htm پوٹوچاری میں مردوں اور عورتوں کی علیحدگی
  17. ^ http://www.un.org/icty/transe88/070206ED.htm مردوںکی علیحدگی۔ اقوام متحدہ
  18. ^ پوٹوچاری کے جرائم از اقوام متحدہ
  19. ^ اقوام متحدہ۔ 2 اگست 2001ء (ICTY. "Prosecutor vs Krstic, First Judgement". United Nations.)
  20. ^ سربرینیتسا میں شیطینیت از گراہم جونز سی این این
  21. ^ http://www.un.org/icty/krstic/TrialC1/judgement/krs-tj010802e-1.htm#IIA7b بوسنیائی مسلمانوں کا قافلہ
  22. ^ http://193.173.80.81/srebrenica/ نیدرلینڈز انسٹیٹیوٹ آف وار
  23. ^ بوسنیا کی رہورٹ از ایسوسی ایٹڈ پریس
  24. ^ http://www.domovina.net/tribunal/ictytv/050601_milosevic_eng.ram جرائم کی عالمی عدالت۔ویڈیو
  25. ^ http://ww4report.com/node/2187 سربرینیتسا۔ گیارہ سال بعد بھی انصاف نہیں۔ ورلڈ وار فور رپورٹ
  26. ^ روزنامہ جنگ - تازہ خبریں، 11 جولائی 2009ء

متعلقہ مضامین[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]