سریندر سائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سریندر سائی
(اڑیہ میں: ବୀର ସୁରେନ୍ଦ୍ର ସାଏ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Surendra Sai 1986 stamp of India.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 23 جنوری 1809  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سمبلپور ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 مئی 1884 (75 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

سریندر سائی بھارت کی ریاست اوڈیشا کے ایک مشہور مجاہد آزادی رہ چکے ہیں۔ ان کی اور ان کے معاون ساتھیوں کی کوششوں کی وجہ سے اور کئی دوسروں نے برطانیویوں کی مزاحمت کی اور کامیابی سے مغربی اوڈیشا کے علاقے کو ایک عرصے تک برطانوی حکمرانی سے بچائے رکھا تھا، حالاں کہ اس کی وجہ سے ان کے کچھ ساتھیوں کو انگریز حکومت نے خاموشی سے مار ڈالا، کچھ کو سزائے کالا پانی کے لیے اس وقت کم آبادی والے خطرناک انڈمان و نکوبار جزائر بھیجا گیا تھا۔ کچھ ساتھی اور خود سریندر سائی اسیری کی حالت ہی میں دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔

پیدائش[ترمیم]

اوڈیشا کا سمبلپور ضلع سریندر سائی کا مقام پیدائش ہے۔ وہ یہاں 23 جنوری 1809ء میں پیدا ہوئے جو لپنگا کے نزدیک جھارسوگوڑا کے راستے میں سمبلپور کے شمال میں 40 کیلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ان کے والد کا نام دھرما سنگھ تھا۔ وہ اپنے والدین کی سات اولاد میں سے ایک تھے۔[1]

انگریزوں سے کڑی مزاحمت[ترمیم]

سریندر سائی اور ان کے ساتھی مادھو سنگھ، کُنال سنگھ، کُنجل سنگھ، آئری سنگھ، بَیری سنگھ، اُدانت سنگھ، اُجل سائی، کاگیشور داؤ، سالے گرام بریہا، گوویند سنگھ، پہاڑ سنگھ، رجی سنگھ گھسیا، کمل سنگھ، ہٹی سنگھ، سالک رام بریہا، لوک ناتھ پانڈا/ گڑتیا، مرتیونجے پانی گرہی، جگ بندھو ہوٹا، پدم ناوے گرو، تری لوچن پانی گرہی اور کئی دوسروں نے برطانیویوں کی مزاحمت کی اور کامیابی سے مغربی اوڈیشا کے علاقے کو ایک عرصے تک برطانوی حکمرانی سے بچائے رکھا تھا۔ اس وجہ سے وہ برطانوی حکومت کے لیے باعث فکر بنے ہوئے تھے جب کہ آج بھی اوڈیشا میں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے۔[2]

برطانوی حکومت کی سخت سزائیں[ترمیم]

سریندر سائی اور ان کے ساتھیوں میں سے زیادہ تر آزادی کے لیے عام معلومات کے بغیر ہی اپنی جان کھو بیٹھے تھے۔ کئی کو انگریزوں نے پھانسی بھی دی؛ کچھ لوگ سزائے کالا پانی کے دوران میں اپنی جان کھو چکے تھے۔ سریندر سائی اسیرگڑھ قید میں 23 مئی 1884ء کو گزر گئے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. N. K. Sahu (1985)۔ Veer Surendra Sai (انگریزی زبان میں)۔ Dept. of Culture, Govt. of Orissa۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. "Associates of Veer Surendra Sai" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Orissa Govt۔