سریہ اسامہ بن زید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
-
سریہ اسامہ بن زید
سلسلہ سرایا نبوی
مقام ابنی
محل وقوع
نتیجہ
متحارب
مسلمان

سریہ اسامہ بن زید حضور اکرم ﷺ کی زندگی کا آخری سریہ ہے بروز پیر 26 صفر 11ھ کو روانہ کیا گیاجو آپ نے اپنی وفات اقدس سے صرف چند دن پہلے رومیوں سے جنگ کے لیے اپنی علالت ہی کے دوران اپنے دست مبارک سے جنگ کا جھنڈا باندھااوراسامہ بن زید کو سپہ سالار بنایا۔

قبل وصال روانگی[ترمیم]

ابھی یہ لشکر مقام جرف (اس کا معنی پانی کھود کر نکالنے کے ہیں)میں خیمہ زن تھااورعساکراسلامیہ کااجتماع ہوہی رہاتھاکہ وصال کی خبر پھیل گئی اوریہ لشکرمقام جرف سے مدینہ منورہ واپس آ گیا۔

بعد و صال روانگی[ترمیم]

وصال کے بعد ہی بہت سے قبائل عرب مرتد اوراسلام سے منحرف ہوکر کافر ہو گئے نیز مسیلمۃ الکذاب نے اپنی نبوت کا دعویٰ کر کے قبائل عرب میں ارتداد کی آگ بھڑکادی اوربہت سے قبائل مرتد ہو گئے۔ اس انتشار کے دور میں امیر المؤمنین ابوبکرصدیق نے تخت خلافت پر قدم رکھتے ہی سب سے پہلے یہ حکم فرمایا کہ جیش اسامہ یعنی اسلام کا وہ لشکر جس کو حضور اکرم ﷺنے اسامہ کی زیر قیادت روانہ فرمایا اوروہ واپس آ گیا ہے دوبارہ اس کو جہاد کے لیے روانہ کیا جائے۔ حضرات صحابہ کرام بارگاہ خلافت کے اس اعلان سے انتہائی متوحش ہو گئے اورکسی طرح بھی یہ معاملہ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایسی خطرناک صورت حال میں جبکہ بہت سے قبائل اسلام سے منحرف ہوکر مدینہ منورہ پر حملوں کی تیاریاں کر رہے ہیں اور جھوٹے مدعیان نبوت نے جزیرۃ العرب میں لوٹ ماراوربغاوت کی آگ بھڑکا رکھی ہے۔ اتنی بڑی اسلامی فوج کا جس میں بڑے بڑے نامور اورجنگ آزما صحابہ کرام موجود ہیں ملک سے باہر بھیج دینا اورمدینہ منورہ کو بالکل عساکر اسلامیہ سے خالی چھوڑکر خطرات مول لینا کسی طرح بھی عقل سلیم کے نزدیک قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ صحابہ کرام کی ایک منتخب جماعت جس کے ایک فرد عمر بن الخطاب بھی ہیں، بارگاہ خلافت میں حاضر ہوئی اورعرض کیا کہ اے جانشین پیغمبر!ایسے مخدوش اورپر خطر ماحول میں جبکہ مدینہ منورہ کے چاروں طرف مرتدین نے شورش پھیلا رکھی ہے یہاں تک کہ مدینہ منورہ پر حملہ کے خطرات درپیش ہیں۔

خلیفہ اول کی ثابت قدمی[ترمیم]

صحابہ نے اسامہ کے لشکر کو روانگی سے روک دینے کا مشورہ دیا تاکہ اس فوج کی مدد سے مرتدین کا مقابلہ کیا جائے اوران کا قلع قمع کر دیا جائے ۔ یہ سن کر آپ نے جوش غضب میں تڑپ کر فرمایا کہ خدا کی قسم! مجھے پرندے اچک لے جائیں یہ مجھے گوارا ہے لیکن میں اس فوج کو روانگی سے روک دوں جس کو اپنے دست مبارک سے جھنڈا باندھ کر حضوراکرم ﷺ نے روانہ فرمایا تھا یہ ہرگز ہرگزکسی حال میں بھی میرے نزدیک قابل قبول نہیں ہو سکتا میں اس لشکر کو ضرور روانہ کروں گا اوراس میں ایک دن کی بھی تاخیر برداشت نہیں کروں گا۔ چنانچہ آپ نے تمام صحابہ کرام کے منع کرنے کے باوجود اس لشکر کو روانہ کر دیا۔

روانگی کے اثرات[ترمیم]

جب جوش جہاد میں بھرا ہوا عساکر اسلامیہ کا یہ سمندر موجیں مارتا ہوا روانہ ہوا تو اطراف وجوانب کے تمام قبائل میں شوکت اسلام کا سکہ بیٹھ گیا اورمرتد ہوجانے والے قبائل یا وہ قبیلے جو مرتد ہونے کا ارادہ رکھتے تھے، مسلمانوں کا یہ دل بادل لشکر دیکھ کر خوف ودہشت سے لزرہ براندام ہو گئے اورکہنے لگے کہ اگر خلیفہ وقت کے پاس بہت بڑی فوج ریزروموجود نہ ہوتی تو وہ بھلا اتنا بڑالشکر ملک کے باہر کس طرح بھیج سکتے تھے؟اس خیال کے آتے ہی ان جنگجو قبائل نے جنہوں نے مرتد ہوکر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تھا خوف ودہشت سے سہم کر اپنا پروگرام ختم کر دیا بلکہ بہت سے پھر تائب ہوکر آغوش اسلام میں آ گئے اورمدینہ منورہ مرتدین کے حملوں سے محفوظ رہا اور حضرت اسامہ بن زید کالشکرمقام اُبنیمیں پہنچ کر رومیوں کے لشکرسے مصروف پیکار ہو گیا اور وہاں بہت ہی خوں ریزجنگ کے بعد لشکر اسلام فتح یاب ہو گیا اوراسامہ بے شمار مال غنیمت لے کر چالیس دن کے بعد فاتحانہ شان وشوکت کے ساتھ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے اوراب تمام صحابہ کرام انصار ومہاجرین پر اس راز کا انکشاف ہو گیا کہ اسامہ کے لشکر کو روانہ کرنا عین مصلحت کے مطابق تھا کیونکہ اس لشکر نے ایک طرف تورومیوں کی عسکری طاقت کوتہس نہس کر دیا اوردوسری طرف مرتدین کے حوصلوں کو بھی پست کر دیا۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مدارج النبوت جلد دوم ،عبد الحق محدث دہلوی ،ج2، ص475 شبیر برادرز لاہور