سریہ حمزہ ابن عبد المطلب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سریہ حمزہ ابن عبد المطلب یا سریہ سیف البحر سب سے پہلا سریہ ہےجو رمضان بمطابق 623ء میں ہوا جسے حضورﷺ نے ہجرت کے سات مہینہ بعد حمزہ بن عبدالمطلب رضي الله عنه.png کی زیر قیادت رمضان میں قریش کے تجسس کے لیے روانہ کیا تھا۔ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفید پرچم عنایت کیا جسےابو مرثد کناز بن حصین غنوی رضي الله عنه.png نے تھام لیا۔ اس سریہ میں شریک صحابہ کرام کی تعداد کل 30 تھی اور سب مہاجر تھے۔

واقعات[ترمیم]

قریش مکہ کا تجارتی قافلہ شام سے واپس مکہ مکرمہ آرہا تھا۔ اس قافلہ میں بشمول ابوجہل 300 آدمی تھے۔ سیف البحر کے ساحل پر مقام عیص (بحر احمر کے درمیاں ینبع اور مروہ کے درمیان ایک جگہ)پہونچتے ہی دونوں لشکر آمنے سامنے صف آرا ہوگئے۔ لیکن قبیلہ جہینہ کے سردارمجدی بن عمرو جہنی کی سفارتی کوششوں سے (جو مسلمانوں اور قریش کا حلیف تھا)یہ جنگ ٹل گئی اور قریش مکہ کا قافلہ مکہ مکرمہ لوٹ گیا اور مسلمان مدینہ منورہ واپس آگئے۔ [1]

ماقبل:
نہیں
سرایا نبوی
سریہ حمزہ ابن عبد المطلب
مابعد:
سریہ عبیدہ ابن حارث
  1. الرحیق المختوم صفحہ 270