سریہ محمد بن مسلمہ (ذو قصہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سریہ محمد بن مسلمہ (ذو قصہ)
سلسلہ سرایا نبوی
تاریخ ربیع الثانی 6 ہجری
مقام ذو قصہ (ذی القصہ)
محل وقوع
نتیجہ 10 میں سے 9 مسلمان شہید ہو گئے
خطۂ اراضی مدینہ منورہ
متحارب
مسلمان بنو ثعلبہ و بنو عوال
قائدین
محمد بن مسلمہ نامعلوم
قوت
10 100
نقصانات
9 شہید، ایک زخمی نامعلوم
زخمی حالت میں حضرت محمد بن مسلمہ کو ایک مسلمان نے بعد میں مدینہ پہنچا دیا، اس طرح وہ بچ گئے۔

سریہ محمد بن مسلمہ میں 10 افراد شریک تھے۔ یہ لوگ بنو ثعلبہ کی طرف گئے۔ رات کے وقت پہنچے، لڑائی ہوئی جس میں 9 شہید اور ایک شدید زخمی ہوئے، جن کی جان پچا لی گئی۔

مقام[ترمیم]

اس مقام کا نام ذی القصہ یا ذو قصہ ہے جو مدینہ کے قریب ایک بستی ہےجو خاندان ثعلبہ میں بن عوال کی طرف بھیجا گیا۔

واقعات[ترمیم]

جب محمد بن مسلمہ اور ساتھی اس علاقے میں پہنچے تو اس قبیلے والے ان کی گھات لگا کر کمین گاہوں میں بیٹھ گئےاور اس وقت تک چھپے رہے جب مسلمان بے خوف ہو کر سو گئے مسلمانوں کو اس وقت خبر ہوئء جب وہ سر پر پہنچ گئےمحمد بن مسلمہ نےآواز دی مسلمان اٹھ کر تیر اندازی کرنے لگے دشمن بھی تیر اندازی کرنے لگا اور تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو شہید کر دیا محمد بن مسلمہ بھی زخمی ہو کر گرگئےایک شخص نے کہنی پر وار کیا جب کوئی حرکت نہ ہوئی تو مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا اس جگہ سے اتفاقاً ایک صحابی کا گزر ہو جب اتنے مسلمانوں کی شہادت دیکھی تو انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا محمد بن مسلمہ ابھی زندہ تھےانہوں نے حرکت کی تو صحابی کو محسوس ہوا کہ یہ زندہ ہیں وہ ساتھ اٹھا کر مدینہ لے گیا یہ بچ گئے۔[1]

نتائج[ترمیم]

ماقبل:
سریہ عکاشہ بن محصن
ربیع الثانی 6 ہجری
سرایا نبوی
سریہ محمد بن مسلمہ (ذو قصہ)
مابعد:
سریہ ابو عبیدہ بن الجراح
ربیع الثانی 6 ہجری

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیرت حلبیہ علی بن برہان الدین حلبی جلد سوم صفحہ 54،دارالاشاعت کراچی