سری لنکا میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سری لنکا کی 70 فیصد آبادی بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے جب کہ مسلمانوں کی تعداد 2 کروڑ ہے جو کل آبادی کا 10 فیصد ہیں۔[1]

اسلام کی آمد[ترمیم]

سری لنکا میں اسلام آٹھوی صدی عیسوی میں آیا۔ جب مسلمان تاجروں نے یہاں اسلام پھیلایا اور انہوں نے یہیں مقامی خاندانوں میں شادی بھی کی ۔

موجودہ حالات[ترمیم]

سری لنکن مسلم اور خانہ جنگی[ترمیم]

سری لنکن مورو[ترمیم]

ملائی افراد[ترمیم]

تامل مسلم[ترمیم]

بھارتی مسلم(میمن،بوہری اور خوجا)[ترمیم]

تنازع حلال غذا[ترمیم]

سری لنکا میں اسلامی مصنوعات کے لیے حلال سرٹیفکیٹ کے معاملے پر بہت کشیدگی پائی جاتی ہے۔ مسلم کمیونٹی کے لیے حلال فوڈ پراڈکٹ دنیا بھر میں ایک بہت بڑی مارکیٹ کی حیثیت رکھتی ہے جس کی وجہ سے سری لنکا میں بھی مسلمانوں کی طرف سے حلال فوڈ پراڈکٹ کی تیاری پر زور دیا جاتا ہے۔ جس کے لیے سری لنکا کی مرکزی اسلامی تنظیم آل سیلون جمیعت العلماء قائم ہے ۔ مگر حالیہ 2013 میں سری لنکا میں بدھ کمیونٹی کی طرف سے حلال فوڈز پر زور دیے جانے کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ آل سیلون جمیعت العلماء کے مطابق ان کی جانب سے جاری ہونے والا حلال سرٹیفیکیٹ اب صرف اسلامی ملکوں کو برآمد ہونے والی کھانے پینے کی اشیاء کے لیے ہی استعمال کیا جا سکے گا۔ سری لنکا میں کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنے والے اداروں نے بہت پہلے ہی اپنی مصنوعات کی تیاری میں حلال طریقے اپنا رکھے ہیں اور ان اشیاء پر تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے سرٹیفیکیٹ چسپاں کیے جاتے ہیں۔ ملک کے صدر مہندرا راجا پاکسا جو خود بھی بدھ مت کے پیرو کار ہیں، نے بھکشوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی منافرت کو ہوا نہ دیں۔[2]

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دی نیوز ٹرائب اردو- (Mar 11th, 2013)