سری لنکا میں مذہب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search



Circle frame.svg

سری لنکا میں مذہب (2011)[1]

  بدھ مت (70.2%)
  ہندو مت (12.6%)
  اسلام (9.7%)
  مسیحیت (7.4%)
  دیگر/لا دین (0.1%)
ڈی۔ایس۔ ڈویژن]]، 2011ء کی مردم شماری کے مطابق۔

سری لنکا کی آبادی مختلف مذاہب پر اعتقاد رکھتی ہے۔ 2011ء کی مردم شماری کے مطابق 70.2% تھیرواد بدھ مت ہیں، 12.6% ہندو ہیں، 9.7% مسلمان ہیں (سب ہی اہل سنت ہیں) اور 7.4% مسیحی (6.1% کاتھولک کلیسیا اور 1.3% دیگر مسیحی فرقوں سے ہیں)۔[1] 2008ء کے گال اپ پول کے مطابق سری لنکا تیسرا شدید مذہبی ملک تھا، جس میں 99% سری لنکی عوام نے مذہب کو اپنی زندگی کا اہم ترین جزو قرار دیا۔[2]

ملک میں اہم مذہبی گروہوں کی تقسیم[ترمیم]

2001ء کی مردم شماری صرف 18 اضلاع کی معلومات پر مشتمل تھی۔ اضلاع کی یہ فیصد 2011ء کی مردم شماری کے مطابق ہے سوائے ان اضلاع کے جن پر ترجھے اعداد ہیں، وہ اضلاع 1981ء کی مردم شماری کے مطابق ہیں۔ 1981ء کے بعد آبادی میں نقل و حرکت ہوتی رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ 2001ء کی مردم شماری میں یہ معلومات درست طور پر موجود نہیں، یہاں تک کہ 2011ء کی مردم شماری ہوئی۔[3]

بدھ مت[ترمیم]

تھیرواد بدھ مت سری لنکا میں سب سے بڑا مذہب ہے، جو کل ملکی آبادی کے 70% کا مذہب ہے۔ بدھ روایت اپنے قدیم ترین ذرائع سے یہ ثابت کرتی ہے کہ ہندوستان کے عظیم بادشاہ اشوک نے بدھ مت کی تبلیغ کے لیے جو جماعتیں مختلف ملکوں میں روانہ کی تھیں ان میں سے ایک خود اشوک کے بیٹے مہندر کی زیر قیادت لنکا کو روانہ کی گئی تھی۔ جہاں اس زمانے میں دیوا نام پیاتیسا (247 ق م – 207 ق م) نامی حکمران کی حکومت تھی۔ اس جماعت کا مثالی خیر مقدم ہوا، دیوا نام پیاتیسا اپنے خاندان، وزراء اور امرا سمیت بدھ مت کا پیرکار بن گیا۔ کچھ برس بعد اشوک کی بیٹی سنگھ متر لنکا گئی، وہ اپنے ساتھ اس پیپل کے پیڑ کی ایک قلم (نشو و نما کی قوت کی حامل شاخ) لے گئی تھی جس کے نیچے گوتم بدھ کو نروان حاصل ہوا۔ اشوک کے طرف سے بھیجے گئے اس قابل قدر تحفے کی بہت توقیر ہوئی، اس قلم سے اگنے والا پیپل کا درخت آج بھی انو رادھ پور (سری لنکا کا قدیم درالحکومت) میں موجود ہے اور غالباً تاریخی اعتبار سے دنیا کا سب سے قدیم درخت ہے۔ اس واقعہ کے تقریباً 500 سال بعد ایک اور اہم تحفہ لنکا گیا، یہ مہاتما بدھ کا دانت تھا، جس کی بودھی درخت سے بھی زیادہ پزیرائی ہوئی، اسے ایک عظیم تبرک سمجھ کر قبول کیا گیا، آج یہ تبرک سری لنکا کے قومی خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔ لنکا کا عظیم بدھی دانت مندر اسی تحفہ سے نسبت رکھتا ہے۔ اشوک کے عہد سے لے کر آج تک سری لنکا بدھ اکثریت کا حامل ملک رہا ہے جس نے تھیرواد روایات کو زندہ رکھنے، ترقی دینے اور جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔[4]

ہندومت[ترمیم]

ہندو مت سری لنکا کی آبادی کا 12.6% ہیں۔ ہندو مت سری لنکا میں قدیم دور سے ہے۔[5] تقریباً سب ہی سری لنکی ہندو تامل ہیں جو بھارت سے منتقل ہوئے ہیں اس کے علاوہ پاکستان سے سندھی سندھی، تیلگو اور ملیالی۔ 1915ء کی مردم شماری کے مطابق 25٪ آبادی ہندو تھی، اس میں وہ آبادی بھی شامل تھی جو برطانیہ مزدوروں کی صورت یہاں لایا (آزادی کے بعد سے 1 ملین سے زیادہ سری لنکا تاملوں نے ملک چھوڑ دیا ہے)، آج بھی وہ ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں۔ ہندو مت شمال مشرقی اکثریت کا مذہب ہے، جہاں تامل لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ مرکزی علاقوں میں بھی ہندومت پر عمل کیا جاتا ہے (جہاں بھارتی تاملوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے) ساتھ ساتھ دار الحکومت کولمبو میں بھی۔ حکومت کی 2012ء کی مردم شماری کے مطابق، سری لنکا میں 2،554،606 ہندو ہیں۔ سری لنکا خانہ جنگی کے دوران میں، بہت سے تامل دوسرے ممالک میں بھاگ گئے۔

اسلام[ترمیم]

گال میں ایک مسجد۔

چھٹی صدی عیسوی میں، عرب لوگبحر ہند کی تجارت، بشمول سری لنکا کی تجارت پر غالب تھے۔ یہاں اسلام مسلمان تاجروں کی وجہ سے آیا، جنھوں نے یہاں کیم قامی عورتوں سے شادیاں کیں اور تبلیغ کی۔

دور جدید میں، اسلام سری لنکا کا تیسرا بڑا مذہب ہے اور سری لنکا میں مسلمان 9.7% ہیں;[1] جو مور اور مالے نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

مسیحیت[ترمیم]

سینٹ سیبسٹین کا گرجا گھر، نیگمبو۔

مسیحیوں کی مطابق مسیحیت کو توما نے پہلی صدی عیسوی میں سری لنکا میں متعارف کرایا[6] (جیسے بھارت

مزید دیکھیے[ترمیم]

Distribution of Languages and Religious groups of Sri Lanka by D.S. Divisions and Sector level, according to 1981 Census of Population and Housing.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Department of Census and Statistics,The Census of Population and Housing of Sri Lanka-2011
  2. What Alabamians and Iranians Have in Common
  3. Department of Census and Statistics, Percentage distribution of population by religion and district, Census 1981, 2001 نسخہ محفوظہ 2013-01-08 در وے بیک مشین
  4. کرشن کمار، خالد ارمان (2007ء)، گوتم بدھ راج محل سے جنگل تک، آصف جاوید برائے نگارشات پبلشرز 24-مزنگ روڈ، لاہور
  5. Census of Population and Housing 2011
  6. Hattaway, Paul۔ "Peoples of the Buddhist World: A Christian Prayer Diary"۔ William Carey Library۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 فروری 2015۔

بیرونی روابط[ترمیم]