سری لنکا کی خانہ جنگی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سری لنکن خانہ جنگی
ශ්‍රී ලාංකික සිවිල් යුද්ධය
இலங்கை உள்நாட்டுப் போர்
Location Tamil Eelam territorial claim.png
سری لنکا کا وہ خطہ جہاں تامل ٹائیگرز نے اپنا تامل وطن قائم کئے رکھا اور اسی علاقہ میں زیادہ لڑائی ہوئی۔
تاریخ23 جولائی 1983 – 18 مئی 2009[1]
(25 سال، 9 مہینا، 3 ہفتہ اور 4 دن)
مقامسری لنکا
نتیجہ

سری لنکا حکوت کی کامیابی

  • باغی گروپ تامل ٹائیگرز ناکامی
  • سری لنکن حکومت کا پورے جزیرے پر قبضہ
سرحدی
تبدیلیاں
Government regains total control of former LTTE-controlled areas in the North and East of the country.
محارب

Flag of سری لنکا سری لنکا


Flag of بھارت [بھارتی امن فوج]] (1987–1990)
تامل ٹائیگرز
کمانڈر اور رہنما

Flag of سری لنکا جیا دردنے (1983–1989)
Flag of سری لنکا رانا سنگھے پریماداسہ   (1989–1993)
Flag of سری لنکا ویجے ٹنگا (1993–1994)
Flag of سری لنکا چندریکا Kumaratunga (1994–2005)
Flag of سری لنکا مہیندا راجا پاکسے (2005–2009)


Flag of بھارت وینکانترا من (1987–1989)
Flag of بھارت راجیو گاندھی (1987–1989) 
پرابھاکرن  (1983–2009)
Balraj
کرونا امان (1983–2004)
KP
ماہاتیا  Executed
پوٹو امان
شنکر 
سوسائی 
طاقت

Flag of سری لنکا سری لنکا افواج:
95,000 (2001)
118,000 (2002)
158,000 (2003)
151,000 (2004)
111,000 (2005)
150,900 (2006)[2]
210,000 (2008)[3]


Flag of بھارت Indian Peace Keeping Force:
100,000 (peak)
تامل ٹائیگرز
(excluding Auxiliary forces):
6,000 (2001)
7,000 (2003)
18,000 (2004)[2][4]
11,000 (2005)
8,000 (2006)
7,000 (2007)[2][5]
(including Auxiliary forces):
25,000 (2006)
30,000 (2008)[6]
ہلاکتیں اور نقصانات

Flag of سری لنکا 28,708 اموات 40,107 زخمی [7]

Flag of بھارت 1,200 killed
(Indian Peace Keeping Force)[8]
27,000+ اموات[9][10][11]
11,644 گرفتاریاں[12]
100,000+ کل اموات (estimate)[13]
800,000 displaced at peak in 2001[14]
16 مئی 2009: سری لنکا حکومت کی جانب سے تامل ٹائیگرز کی شکست کا اعلان[15]
17 مئی 2009: تامل ٹائیگرز کا شکست تسلیم کرلیان۔.[16]
19 May 2009: صدر مہیندرا راجا پکسے نے سرکاری طور پر خانہ جنگی کے اختتام کا اعلان کیا۔

سری لنکائی خانہ جنگی جزیرہ سری لنکا ملک میں ایک مسلح تنازع تھا۔ جو 23 جولائی 1983ء کو تامل ٹائیگرزکی جانب سے حکومت کے خلاف ایک متنازع بغاوت کی صورت میں شروع کی گئی۔ اس بغاوت کا مقصد ملک کے شمال مشرقی حصہ میں ایک آزاد تامل ریاست قائم کرنا تھا۔ یہ خانہ جنگی 26 سال جاری رہی اور آخر کار مئی 2009ء کو سری لنکا فوج نےتامل ٹائیگرز کو شکست دے دی جس کے بعد یہ خانہ جنگی ختم ہو گئی[1]۔

25سال سے زائد برسوں سے جاری جنگ کی وجہ سے ملک کی آبادی، ماحول اور معیشت نے خاصا نقصان اٹھانا پڑا، ابتدائی اندازے کے مطابق اس عرصہ کے دوران 80ہزار سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔2013 ءمیں، اقوام متحدہ کے پینل نے جنگ کے آخری مرحلے کے دوران اضافی موت کی توقع کی ہے[13]۔ "تقریبا 40،000 افراد ہلاک ہوئے جبکہ دیگر آزادانہ رپورٹوں کا اندازہ لگایا گیا کہ شہریوں کی تعداد 100،000 سے زیادہ ہے[17]۔" تنازع کے ابتدا کے دوران، سری لنکا فورسز نے تامل ٹائیگرز کی طرف سے قبضے کیے علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کی۔حکومتی فورسز  کے خلاف تامل ٹائیگرز کی کارروائیوں کی وجہ سے  32 ریاستوں نے تامل ٹائیگرز کو  دہشت گرد کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیاان ریاستوں میں امریکا، بھارت، کینیڈا اور یورپی یونین کے رکن ممالک شامل ہیں[18]۔سری لنکا کی حکومتی فورسز پر  انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں  کا الزام لگایا گیا[19]۔

دو دہائیوں کے لڑائی کے دوران چار دفعہ امن  مذاکرات ناکام  رہے، بشمول بھارتی فوج تعیناتی  کی ناکامی ، 1987ء تا 1990ء تک بھارتی  امن فورس کی ناکام  تعیناتی  اور 2001ء میں بین الاقوامی ثالثی  کونسل کی جانب سے جنگ بندی  کی کوشش کی گئی اسی طرح 2002ء میں عالمی ثالث کی ناکام کی کوشش کی گئی[20]۔تاہم  2005ء کے آخر میں محدود جنگجوؤں اور تنازع  میں اضافہ ہوا جو حکومت کی جانب سے جولائی 2006 میں تامل ٹائیگرز کے خلاف بہت بڑی فوجی کارروائی کانقطہ آغاز بنا جس کا مقصد تامل ٹائیگرز کو جزیرہ کے مشرقی حصہ سے باہر نکالنا تھا۔ اس فوجی کارروائی کے بعد تامل ٹائیگرز نے اعلان کیا کہ ،ْوہ اپنی آزاد ریاست  حاصل کرنے کے لیے اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے[21][22]۔ٗ

2007 ء میں حکومت نے ملک کے شمال میں اپنی  فوجی جارحیت کا آغاز کر دیا اور رسمی طور پر 2 جنوری 2008 کو جنگ بندی  کے معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا،حکومت نے  الزام لگایا گیا کہ تامل ٹائیگرز نے 10000 سے زائد مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے[23]۔ اس کے بعد  تامل ٹائیگرز سے تعلق رکھنے    اسمگل شدہ بحری جہازوں کی تباہی  اور عالمی سطح پر تامل ٹائیگرز کی فنڈنگ  پر کریک ڈاؤن کے ان کی کمر توڑ دی گئی۔   تامل ٹائیگرز کے دار الحکومت کلوینوچی، اہم فوجی اڈے مولیٹیوو اور پورے A9 شاہراہ سمیت تامل ٹائیگرز کے تمام علاقوں پر حکومت نے دوبارہ قبضہ کر لیا۔ لہٰذا 17 مئی 2009 کو   تامل ٹائیگرز نے باقاعدہ شکست تسلیم کر لی[24]۔ ان کی شکست کے بعد تامل ٹائیگرز کی حمایتی تامل قومی اتحاد نے اپنے منشور سے تامل کے علاحدہ وطن کا مطالبہ ترک دیا ۔مئی 2010 ءمیں، سری لنکا کے صدر مہندا راجپکسا نے 2002 ء میں تائج سیکھنا اور مصالحت کمیشن (ایل ایل آر سی) مقرر کیا جس کو مقصد 2002ء میں جنگ بندی کے معاہدے اور 2009ء تامل ٹائیگرز کی شکست کے درمیانی مدت کاجائزہ لینا ہے[25]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "LTTE defeated; Sri Lanka liberated from terror"۔ Ministry of Defence۔ مورخہ 21 مئی 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 مئی 2009۔
  2. ^ ا ب پ International Institute for Strategic Studies, Armed Conflicts Database. وثق شدہ بتاریخ 11 May 2006 در وے بیک مشین
  3. "Sri Lanka Army - Troop Strength"۔ globalsecurity.org۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. [1].
  5. Opposition leader rebutts [sic] Sri Lankan government claims وثق شدہ بتاریخ 26 December 2008 در وے بیک مشین.
  6. "Humanitarian Operation – Factual Analysis, July 2006 – May 2009" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Ministry of Defence (Sri Lanka)۔ مورخہ 4 مارچ 2016 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔
  7. "Sri Lanka Database – Casualties of Terrorist violence in Sri Lanka"۔ channelnewsasia۔ مورخہ 3 جون 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 مئی 2018۔
  8. Nakkawita, Wijitha۔ "LTTE killing spree"۔ Daily News۔ مورخہ 11 جنوری 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2012۔
  9. Eelam War IV: Imminent End.
  10. Tamils mark 25-years of Tiger sacrifice Tamilnet .
  11. 4073 LTTE cadres killed in ongoing battle.
  12. "Sri Lankan experience proves nothing is impossible"۔ The Sunday Observer۔ مورخہ 8 جون 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 جون 2011۔
  13. ^ ا ب "Up to 100,000 killed in Sri Lanka's civil war: UN"۔ ABC Australia۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  14. "UNHCR Overview: IDPs in Sri Lanka"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  15. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ voas نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  16. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ tonline1 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  17. Krista Mahr۔ "Sri Lanka to Start Tally of Civil-War Dead"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  18. See here for related references.
  19. "International Commission of Jurists Submission to the Universal Periodic Review of Sri Lanka" (پی‌ڈی‌ایف)۔ International Commission of Jurists۔ مورخہ 25 نومبر 2012 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جولا‎ئی 2012۔
  20. "Ceasefire raises Sri Lankan peace hopes"۔ The Guardian۔ London۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اپریل 2010۔
  21. "Sri Lanka's war seen far from over"۔ Amal Jayasinghe۔
  22. "Sri Lankan Government Finds Support From Buddhist Monks"۔ The New York Times۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  23. "Government takes policy decision to abrogate failed CFA"۔ Ministry of Defence۔ مورخہ 5 جنوری 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 جنوری 2008۔
  24. Charles Haviland۔ "Sri Lanka Tamil party drops statehood demand"۔ BBC۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 اگست 2011۔
  25. Amrith Rohan Perera۔ "Report of the Commission of Inquiry on the Lessons Learnt and Reconciliation"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔