سری کوٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سری کوٹ
Sirikot
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
پاکستان کی انتظامی تقسیم خیبر پختونخوا
بلندی 1,589 میل (5,213 فٹ)
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)

سری کوٹ (انگریزی: Sirikot) پاکستان کا ایک رہائشی علاقہ جو خیبر پختونخوا میں واقع ہے اورضلع [[ہری پور ] کی تحصیل غازی کی ایک یونین کونسل ہے۔[1]

تفصیلات[ترمیم]

ہری پور جو ہزارہ ڈویژن کا اہم شہر ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع ہے۔ اسلام آباد سے اس شہر کا فاصلہ تقریباً 65 کلو میٹر ہے۔ ہری پور شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر سر سبز و شاداب پہاڑی سلسلے میں ایک پر فضا اور خوبصورت مقام پہاڑ کے بالکل ٹاپ پر ضلع ہری پور کے تحصیل غازی کا یونین کونسل سری کوٹ موجود ہے۔ جو اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ ساتھ نہایت ہی مذہبی 'ملنسار اور زندہ دل لوگوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ سری کوٹ کے لفظی معنی ’’پہاڑ کی اونچائی پر گاؤں کے ہے۔ چونکہ لفظ سری کے معنی اونچا اور کوٹ کے معنی گاؤں سے نکلا ہے۔ سری کوٹ یونین کونسل کی آبادی تقریباً 50000 یا اس سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے۔ سری کوٹ میں دو زبانیں پشتو اور ہندکو زبان بولی جاتی ہے۔ اور تقریباً 85% آبادی پشتون آبادی پر مشتمل ہے جو نسبی لحاظ سے حسینی سید ہیں اور مشوانی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندکو سمجھنے والے لوگ بھی خوش باش زندگی گزار رہے ہیں۔گاؤں میں ضروریات زندگی کی سہولیات تقریباً میسر ہیں ایک بازار، RHCہسپتال،بوائز گرلز پرائمری وہائر سیکنڈری اسکول ' اور گاڑیوں کا اڈا موجود ہے۔ سری کوٹ سطح سمندر سے تقریباً 4500 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں گرمیوں کا موسم نہایت خوشگواراور دیدہ زیب ہوتا ہے۔ موسم بہار میں پہاڑوں پر ہر طرف رنگ برنگی پھولوں کا قبضہ ہوتا ہے جس کی خوشبو سے سارا علاقہ معطر ہو جاتا ہے۔ الغرض ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے۔ موسم سرما میں سخت سردی پڑتی ہے اور درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گر جاتا ہے اورکبھی کبھار برف باری بھی ہوتی ہے۔ گاؤں آلودگی سے بالکل پاک ہے خالص ماحول ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ صحت مند اور جفا کش ہوتے ہیں۔ سری کوٹ چونکہ کافی اونچائی پر واقع ہے لہذا یہاں سے دور دور تک قدرتی حسن کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ سری کوٹ کے مشرق کی جانب تربیلا ڈیم موجود ہے جس کا نیلا اور صاف پانی یہاں سے صاف نظر آتا ہے جو ناصرف پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم بلکہ دنیا میں اس کا نمبر دوسرا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی، مویشی پالنا ' اندرون ملک سول وعسکری محکموں اور دوسرے ملکوں اور شہروں میں جا کر ملازمت کرنا ہے۔ یہاں سے ہر شعبہ ہائے زندگی اور محکموں میں لوگ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جیسے پاکستان کی تینوں مسلح افواج (کمیشنڈ ونان کمیشنڈ آفیسرز) پولیس ' سپریم کورٹ آف پاکستان وذیلی عدالتوں کے جج' وکلا ' درس وتدریس سے منسلک اساتذہ وپروفیسر ' طب کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر 'انجینیرز' اور دوسرے کئی سرکاری ونیم سرکاری ادارے شامل ہیں۔ کاشت کی جانے والی فصلوں میں مکئی، گندم' سرسوں'جو اور جوار قابل ذکر ہیں۔ یہ علاقہ کوہ "گندگر" کے پہاڑی سلسلہ میں واقع ہے تو یہاں پر مختلف قسم کے جانور پائے جاتے ہیں جس میں جنگلی سور'گیدڑ' لومڑی اور لگڑ بگڑ شامل ہیں۔ پرندوں میں تیتر'چکور'جنگلی کبوتر اور باز بھی کہیں کہیں ملتے ہیں۔ زیادہ تر علاقہ بارانی پانی پر منحصر ہے لیکن جہاں کی زمین میٹھی اور پانی کی سہولت سے آراستہ ہے وہاں پر لوگ سبزیاں اور پھل فروٹ بھی کاشت کرتے ہیں۔گاؤں میں صحت، تعلیم اور مواصلات کی تمام سہولیات میسر ہیں لیکن کچھ حد تک ان میں مسائل بھی درپیش ہیں جس میں سرفہرست پانی کا مسئلہ ہے۔ یہاں کے لوگ بہت زیادہ مہمان نواز اور ملنسار ہیں۔ شاہراہ قراقرم اور جی ٹٓی روڈ یہاں نزدیک سے ہی گزر رہا ہے۔ الغرض سری کوٹ بہت ہی اہم محل وقوع پر واقع ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے سری کوٹ کو بہت اہمیت حاصل تھی اس کی خاص وجہ کہ یہ پہاڑیوں کے درمیان میں واقع ہے اور گندگر کی پہاڑی سلسلے میں ہے تو اس کو سکھوں اور انگریزوں نے فوجی نقطہ نگاہ سے اہم جانا ان کی فوجیں اکثر وبیشتر وہاں لڑائیوں میں مصروف رہتی۔ ہری پور میں جب سکھوں کا راج تھا تو ہری سنگھ نلوہ کی 1824 میں سری کوٹ کے مقام پر لڑائی مقامی باشندوں اور مضافاتی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ ہوئیں اور یہاں کے مقامی آبادی نے اپنے علاقے کا دفاع کیا اور دشمن کا کافی نقصان کیا۔ تاریخ کی کتابوں میں ہری سنگھ نلوہ کے ساتھ اس لڑائی کا تذکرہ آپ کو " THE BATTLE OF SIRIKOT " کے نام سے مل جائے گا۔ سکھوں کی حکومت کے خاتمے کے بعد انگریزوں کی حکومت آئی اور تو انہوں نے بھی اس علاقے میں لڑائیاں کی اور کئی شورشوں کے بعد پورے برصغیر پر قابض ہو گئے 1849 میں جب جیمز ایبٹ کو ڈپٹی کمشنر ہزارہ بنایا گیا تو پورا ہزارہ اس کے زیر نگیں آ گیا۔ سری کوٹ کے بارے انگریزوں کے دور کا تذکرہ ہزارہ گزیٹر اور دوسری تاریخی کتابوں میں مل جائے گا۔

سری کوٹ کے گاوں کے لیے سب سے زیادہ خوش قسمتی اور فخر کی بات جو اس کو ممتاز کرتی ہے وہ صوفی بزرگ حضرت سیداحمدشاہ ہیں جن کا تعلق سلسلہ قادریہ سے ہے۔ سری کوٹ کا حلقہ خیبر پختونخوا کے قومی اسمبلی این اے 19 اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایف 52 میں آتا ہے۔ سری کوٹ کا حلقہ سیاسی لحاظ سے بھی کافی اہمیت کا حامل ہے اور کسی بھی امیدوار کے ہار جیت میں یہ حلقہ انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پیر صابر شاہ کا تعلق بھی سری کوٹ سے ہے اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلٰی بھی رہ چکے ہیں۔ پیر صابر شاہ کا سیاسی کیرئیر 1985سے شروع ہوتا ہے اور ان کو علاقائی مشران کے ایک جرگے نے سیاسی میدان میں اتارا وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے یہاں سے جیتے اور پھر مسلسل 1988'1990'1993 اور 1997 کے الیکشن میں کامیاب ہوئے وہ 20 اکتوبر 1993 سے 25 فروری 1994 تک خیبر پختونخوا کے اٹھارویں وزیر اعلٰی رہے اور پھر 2008 میں صوبائی اسمبلی کے ارکان بھی بنے اور 2013 کے الیکشن میں وہ اپنی سیٹ فیصل زمان کے مقابلے میں ہارے۔ پیر صابر شاہ 3 مارچ 2018 کو صوبہ خیبر پختونخوا سے جنرل سیٹ پر مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار کی حیثییت سے سینیٹر منتخب ہوئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Sirikot Khyber Pakhtunkhwa"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔