سزائے موت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سزائے موت (انگریزی: Capital punishment) کسی بھی شخص پر عدالتی طور پر سنگین جرم ثابت ہونے پر دی جانے والی ہلاکت یا قتل کی سزا ہے۔
قتل یا سزائے موت ماضی میں تقریباً ہر معاشرے میں مشق کی جاتی رہی ہے، فی الحال صرف 58 ممالک میں یہ سزا قانونی طور پر فعال ہے جبکہ 95 ممالک میں اس سزا پر قانونی طور پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ دنیا کے باقی ممالک میں پچھلے دس سال میں کسی کو بھی موت کی سزا نہیں سنائی گئی ہے اور وہاں صرف مخصوص حالات، جیسے جنگی جرائم کی پاداش میں ہی سزائے موت دی جا سکتی ہے[1]۔یہ مختلف ممالک اور ریاستوں میں سرگرم اور متنازع معاملہ رہا ہے ، اور اس بارے مختلف معاشروں میں سیاسی اور تہذیبی بنیادوں پر متنوع رائے پائی جاتی ہے۔ یورپی یونین میں سزائے موت پر “بنیادی حقوق کے چارٹر“ کے مطابق پابندی عائد ہے۔
گو کہ اس وقت دنیا کے زیادہ ممالک سزائے موت کو ترک کر چکے ہیں لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ابھی بھی دنیا کی تقریباً 60 فیصد آبادی ایسے ممالک سے تعلق رکھتی ہے جہاں سزائے موت کو تاحال قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ان ممالک میں زیادہ گنجان آباد ممالک جیسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ، عوامی جمہوریہ چین، بھارت اور انڈونیشیا شامل ہیں۔[2][3][4]

سزائے موت بارے بین الاقوامی رجحان[ترمیم]

دنیا کے مختلف ممالک میں سزائے موت کا رجحان (بمطابق جون 2009ء).
  تمام جرائم کے لیے سزائے موت پر پابندی (94)
  تمام جرائم کے لیے سزائے موت پر پابندی، ماسوائے غیر معمولی حالات (10)
  سزائے موت کا قانون موجود ہے مگر پچھلے دس سال میں مشق نہیں کیا گیا (35)
  سزائے موت کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور سزا مشق کی جاتی ہے (58)*
* خیال رہے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی چند ریاستوں میں سزائے موت پر پابندی ہے، لیکن وفاقی طور پر سزائے موت کو قانونی حیثیت حاصل ہے

جنگ عظیم دوئم کے بعد سے دنیا بھر میں سزائے موت پر پابندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ 1977ء میں 16 ممالک نے سزائے موت پر پابندی لگا دی۔ 2010ء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شائع ہونے والی معلومات کے مطابق، مجموعی طور پر 95 ممالک نے اب تک سزائے موت پر پابندی عائد کی ہے، 9 ممالک نے غیر معمولی حالات کے علاوہ اس سزا پر پابندی جبکہ 35 ممالک نے سزائے موت کا قانون ہونے کے باوجود پچھلے دس سال میں اسے استعمال نہیں کیا ہے، اور ان ممالک میں یہ قانون خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ 58 ممالک ایسے پائے گئے ہیں جہاں سزائے موت کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور یہاں اس سزا پر عمل درآمد بھی کیا جاتا ہے۔[5]
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2009ء میں دنیا کے 18 ممالک میں تقریباً 714 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ اس کے علاوہ کئی ممالک ایسے ہیں جو سزائے موت پر عمل درآمد بارے معلومات فراہم نہیں کرتے، ان میں عوامی جمہوریہ چین سر فہرست ہے جہاں خیال کیا جاتا ہے کہ ہر سال سینکڑوں افراد کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ 2010ء کی اول سہ ماہی تک دنیا بھر میں 17000 افراد کو سزائے موت سنائی جا چکی تھی اور سزا پر عمل درآمد ہونا باقی تھا۔[6]


2009ء میں دی گئیں سزائے اموات[ترمیم]

ملک کل پھانسی پانے والے
(2015)
Flag of the People's Republic of China.svg چین 1,000+
Flag of Iran.svg ایران 977+
Flag of Pakistan.svg پاکستان 326
Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب 158+
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا 28
Flag of Iraq.svg عراق 26+
Flag of Somalia.svg صومالیہ 25+
Flag of Egypt.svg مصر 22+
Flag of Indonesia.svg انڈونیشیا 14
Flag of Chad.svg چاڈ 10
Flag of Yemen.svg یمن 8+
Flag of the Republic of China.svg تائیوان 6
Flag of Sudan.svg سوڈان 5+
Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش 4
Flag of Singapore.svg سنگاپور 4
Flag of Sudan.svg سوڈان 3
Flag of Japan.svg جاپان 3
Flag of Jordan.svg اردن 2
Flag of Oman.svg سلطنت عمان 2
Flag of Afghanistan.svg افغانستان 1
Flag of India.svg بھارت 1
Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات 1
Flag of Vietnam.svg ویت نام نامعلوم
Flag of Malaysia.svg ملائیشیا نامعلوم
Flag of North Korea.svg شمالی کوریا نامعلوم

طریقے[ترمیم]

Cesare Beccaria, Dei delitti e delle pene

سزائے موت پانے والے مجرم کو ہلاک کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان طریقوں میں برقی کرسی، گولی باری، سنگ سار، گھٹن، پھانسی اور مہلک زہریلے ٹیکوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "سزائے موت ترک اور تاحال قانونی اجازت کرنے والے ممالک کی فہرست"، ایمنسٹی انٹرنیشنل، 2008ء 
  2. "جنوبی ایشیاء بارے بنیادی حقوق کے حقائق"، ائیر ٹائمز انٹرنیشنل، اگست 2004ء 
  3. [انڈونیشیا میں سیاسی بنیادوں پر سزائے موت سنائے جانے کے رجحان میں اضافہ] |trans-title= requires |title= (معاونت) (انگریزی زبان میں)، عالمی اتحاد، 23 اگست 2008ء 
  4. "اراکین سینٹ کا امریکہ میں معاشی ترقی کے لیے سزائے موت کے خاتمے کی ضرورت پر زور" (انگریزی میں)، فاکس نیوز، اپریل 2010ء، http://www.foxnews.com/politics/2009/02/24/lawmakers-cite-economic-crisis-effort-ban-death-penalty. 
  5. "ممالک کے لحاظ سے سزائے موت کے قوانین کی فہرست Abolitionist and Retentionist Countries"، ایمنسٹی انٹرنیشنل، 2008-06-10 
  6. "سال 2009ء: سزائے موت بارے حقائق" (انگریزی زبان میں)، ایمنسٹی انٹرنیشنل، 20 مئی 2010ء