برہان الملک سعادت علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
برہان الملک سعادت علی خان
Saadat Ali Khan I.jpg 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1680  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 مارچ 1739 (58–59 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش فیض آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Awadh.svg سلطنت اودھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
نواب اودھ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
1722  – 19 مارچ 1739 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
صفدر جنگ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

بانی سلطنت اودھ برہان الملک، نام محمد امین،آبائی وطن نیشا پور(خراسان) مسلکاً شعیہ ان کاشجرہ مولف تاریخ اودھ تحفہ شاہیہ و وزیر نامہ و عماد السعادات و قیصر التواریخ کے حوالہ جات سے درج کیا ہے۔اور24 واسطوں سے جناب موسیٰؒ کے فرزند زید سے ملایا ہے جو وہ محض غلط اور وضعی ہے۔ اوّل تو زید بن موسٰ بن جعفر الصادقؒ کو زید النار کہلاتے ہیں مستند نسابین نے غیر معقب بتایا اور لکھا ہے۔زید بن موسیٰ لم یعقب (عمدة الطالب(یعنی زید بن موسیٰ سے نسل باقی نہیں۔پھر یہ کہ زید کےان زید کے صرف چار بیٹے حسن ، حسین،جعفرو موسیٰ الاصم نام کے تھے۔ برہان الملک کا شجرہ گھڑنے والے نے زید مذکور کے ایک بیٹے کا نا م فخرا لدین(یا محی الدین) قرار دے کر اس کے بیٹے اور پوتے کے نام بھی اسی طرز ووضع کے گھڑ لیے، یعنی عبدالقادربن تاج الدین بن فخرالدین(یا محی الدین) بن زید بن موسیٰؒ الکاظم۔ زید مذکور کا زمانہ دوسری تیسری صدی ہجری کا درمیانی زمانہ تھا۔ اس زمانے میں اور اس کے صدیوں بعد تک ہاشمی تو درکنار کسی دوسے قریشی و عربی خاندان میں بھی اس وضع کے نام رکھنے کا دستور نہ تھا۔ جناب موسیٰؒ کثیر اولاد تھے 37بیٹیاں اور 23 بیٹے ۔ بیٹوں میں سے پانچ تو لاولد تھے، تین کے صرف دختری اولاد تھی۔ دوسرے پانچ بیٹوں کی نسل چلنے میں اختلاف ہے۔ان ہی میں زید بن موسیٰ بھی ہیں جن سے برہان الملک کا سلسلہ نسب ملایا جاتاہے۔البتہ دس فرزندان موسیٰؒ کی نسل باقی رہی۔ ان میں زید مذکور کا شمول نہیں۔ زید کے چار بیٹوں میں سے کسی کا نام فخر الدین یا محی الدین نہ تھا، نہ ان کے پوتوں پروتوں کے یہ نام تھے۔برہان الملک کے اوراہل خاندان بھی اس ملک میں متوطن تھےبھر کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ کہ ان میں سے کسی کو نہ اپناسلسلہ نسب یاد رہا اور نہ کسی نے صحیح طورپر بتایا۔ ان کے رشتے ناتے بھی جیسا کہ کتب تاریخ سے ثابت ہےمغلوں اور ترکمانوں سے رہےتھے۔اس لیے اغلب یہی ہے کہ بانی سلطنت اودھ بھی مغل یاترکمان ہی تھے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

پیشرو 
--
مغل صوبیدار اگرہ
15 اکتوبر 1720ء9 ستمبر 1722ء
جانشین 
--
پیشرو 
--
مغل صوبیدار اودھ
1732ء9 ستمبر 1722ء
جانشین 
--
پیشرو 
نیا عہدہ
نواب اودھ
1732ء19 مارچ 1739ء
جانشین 
صفدر جنگ

حوالہ جات[ترمیم]