سعدیہ دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سعدیہ دہلوی
سعدیہ دہلوی

معلومات شخصیت
پیدائش 1957
دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارتی
مذہب اسلام[1]
عملی زندگی
پیشہ فعالیت پسند، کالم نگار، مصنفہ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سعدیہ دہلوی (پیدائش 1957ء) بنیادی طور پر ایک میڈیا پرسن، مصنفہ، کارکن اور کالم نگار ہے۔ اس کے مضامین روز نامہ اخبار، ہندوستانی نوائے وقت، فرنٹ لائن اردو، انگریزی اور ہندی اخبارات اور میگزین میں اکثر شائع ہوتے ہیں۔[2] وہ اجمیر کے خواجہ غریب نواز اور دہلی کے نظام الدین اولیاء کی بہت عقیدت مند ہے۔ وہ اسلام کے ابتدائی بنیادی تشریحات پر تنقید کے لیے بہت مشہور ہے اور اسلام کی انتہا پسندی کو سمجھنے کا کہتی ہے۔ سعدیہ نے ٹی وی کے کئی پروگراموں کو لکھا ہے اور کئی دستاویزی پروگرام پروڈیوس بھی کیے ہیں۔ جن میں "اماں اور فیملی" 1995ء شامل ہیں جسے ایک تجربہ کار اسٹیج اداکارہ زہرہ سہگل پر فلمایا گیا تھا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سعدیہ دہلوی 1957ء میں دہلی میں پیدا ہوئی۔ اس کے دادا یوسف دہلوی اور والد یونس دہلوی شمع گھر، پٹیل روڈ نئی دہلی میں رہتے تھے جہاں سعدیہ پیدا ہوئی۔ دلی کے بار ثقافتی مرکز جو آج بہجن سماج پارٹی کا (2002ء سے) ہیڈکواٹر ہے۔[3] اس کے خاندانی نام دہلوی کا مطلب یہ ہے کہ اس کے خاندان کے لوگ پرانی دلی کے زمانے سے ہی اس جگہ آباد ہیں تو یہ ان کی نسبت کے طور پر استعمال ہوتا ہے کہ یہ لوگ دلی سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ ان کی طویل مدتی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔[4] 30 سال سے زائد عرصہ دہلی کے ورثہ، ثقافت ، خواتین اور مسلم کمیونٹی کو درپیش مسائل پر انہوں نے کام کیا۔ وہ نئی دہلی میں اپنے نوجوان بیٹے کے ساتھ رہتی ہے۔ اپریل 2009ء میں میں اس نے صوفی ازم پر لکھی کتاب شائع کی جس کا نام "صوفی ازم اور اسلام کا دل" ہے جو ہائپر کولنز پبلشرز کی مدد سے شائع ہوئی۔[5] اس دوسری کتاب " صوفی کا آنگن" جس میں دہلی کے صوفیا کرام کی تفصیل درج ہے ، ہندوستاں کے ہاپر کولنس پبلشرز کے ماتحت فروری 2012 میں شائع کی گئی۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

اس نے 1990ء میں ایک پاکستانی شہری رضا پرویز سے شادی کی۔ دونوں نے کچھ وقت کراچی میں گزارا جہاں 1992ء میں ان دونوں کا بیٹا ارمان پیدا ہوا۔ پھر وہ واپس بھارت آگئی۔ سعدیہ نے 1989ء میں بہترین صحافی ایوارڈ بھی حاصل کیا۔[6][7] یہ شادی 12 سال تک جاری رہی مگر اس وقت طلاق کی وجہ سے یکسر ختم ہو گئی جب پرویز نے اسے اسی لفظ کو اپنے ای میل تین مرتبہ ٹائپ کر کے بھیجا۔ سعدیہ کا خیال ہے کہ اسے دیا گیا طلاق بھارت کسی شادی کو برقی تکنیک سے ختم کرنے کا پہلا واقعہ تھا۔ تاہم وہ اس بات کے راحت کی سانس لے چکی ہے کہ وہ سابقہ شوہر سے کافی عرصہ قبل ہی ٹوٹ چکی تھی۔ بعد کے دور میں اس نے 45 سالہ سید کرامت علی سے شادی کی، جس سے وہ دہلی کے بزرگ حضرت شاہ فہد کی درگاہ پر ملی تھی، جہاں وہ گزشتہ 20 سال سے حاضری دیتی آ رہی تھی۔ اس شادی کے بعد اس نے فخریہ انداز میں خود کو سعدیہ کرامت علی کے طور پر بتایا۔ [8]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sufism, The Heart of Islam by Sadia Dehlvi ،Chapter of Tariqa ، Harpercollins, 2009. ISBN 81-7223-797-9۔
  2. Profile Doha Network.
  3. Maya’s elephant house rises in the rubble of Delhi’s cultural hub The Indian Express، 1 مئی 2009.
  4. ""Delhi's Muslim Culture is Dying" – Interview with Sadia Dehlvi"۔ the delhiwalla.blogspot.ca۔ The Delhi Walla۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی, 2017۔ Check date values in: |access-date= (معاونت)
  5. "Sadia Dehlvi"۔ wisemuslimwomen.org۔ WISE۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 مئی 2017۔
  6. Delhi’s Able Daughter: Sadia Dehlvi by Raza Rumi. 24 فروری 2007.
  7. ‘I am not looking for social approval’[مردہ ربط] The Indian Express، 10 مئی 2002.
  8. 'Divorce by Email- Sadia Dehalvi shares her experience of ending a marriage online' در وے بیک مشین (archived دسمبر 02، 2007)