سعدیہ راشد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سعدیہ راشد
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1946 (عمر 72–73 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد حکیم محمد سعید  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
صدر ہمدرد فاؤنڈیشن   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
17 اکتوبر 1998 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png حکیم محمد سعید 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
JPN Kyokujitsu-sho 3Class BAR.svg دی آرڈر اوف رائزنگ سن، گولڈ ریز وِد نیک رِبن (2019)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

سعدیہ راشدہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی سربراہ، ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلر اور مایہ ناز ماہر تعلیم، سابق گورنر سندھ اور نامور طبیب حکیم محمد سعید کی صاحبزادی ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

سعدیہ 1946 میں دہلی میں پیدا ہوئیں، والد محترم حکیم محمد سعید پاکستان میں ہمدرد فاؤنڈیشن کے بانی تھے۔ سعدیہ نے سینٹ جوزف کانونٹ اسکول سے تعلیم پائی اور اس کے بعد سینٹ جوزف کالج کراچی میں داخلہ لیا۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے (عمرانیات) کی ڈگری حاصل کی۔ شادی کے بعد سعدیہ راشد کہلائیں۔ 17 اکتوبر 1998ء میں ان کے والد حکیم محمد سعید کو کراچی میں واقع ان کے مطب کے باہر شہید کر دیا گیا، جس کے بعد سے سعدیہ راشد نے ہمدرد فاؤندیشن کے نظم و نسق کو سنبھالا اوراپنے والد کے مشن کی تکمیل کے لیے کوشاں ہو گئیں۔[1]

ہمدرد فاؤنڈیشن میں خدمات[ترمیم]

علم و ادب میں دلچسپی کے باعث انہوں نے ہمدرد پبلیکیشنز (جرائد، میگزین اور کتب ) کی اشاعت پر خاص توجہ مرکوز رکھی۔ وہ ماہنامہ ہمدرد صحت، ہمدرد نونہال، سہ ماہی ہمدرد طب اور ہمدرد اسلامیکس کی چیف ایڈیٹر ہیں ۔

سعدیہ راشد بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطح کی تعلیم کے فروغ میں بھی کوشاں ہیں۔ ہمدرد پبلک اسکول، مدینہ الحکمہ کے نواح میں موجود گوٹھوں اور دیہاتوں میں ہمدرد دیہی اسکولز کا قیام و انتظام ،[2] نیز ہمدرد کالج آف سائنس اینڈ کامرس ان کے تعلیم کے فروغ میں خدمات کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی سلسلے میں مدینہ الحکمت میں ہمدرد یونیورسٹی اور دیگر انسٹی ٹیوشنز کا قیام ایک اہم قدم ہے۔ ہمدرد فاؤنڈیشن کے تحت زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی سہولیات دے کر وہاں تعلیمی سرگرمیوں کو پھر سے جاری و منظم کیا گیا ۔

غریب اور ضرورت مند لوگوں میں صحت کی آگہی کے لیے ہمدرد فاؤنڈیشن نے اہم اقدامات اٹھائے اور اس سلسلے میں ہمدرد یونیورسٹی ہاسپٹل اور شفا المک ہاسپٹل میں غریب افراد کے لیے آنکھوں امراض کے علاج کے لیے مفت کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ ہمدرد کی موبائیل ڈسپنسری بھی پاکستان کے کئی شہروں میں کام کر رہی ہے۔ ان کے یونانی طب سے متعلق تحقیق و تجربے نے ان کے لیے طب کی نئی راہیں تلاش کرنے میں بہت معاونت کی ہے ۔

عہدے اور دیگر خدمات[ترمیم]

  • چیف متولیہ ہمدرد ( وقف ) پاکستان
  • چئیر پرسن ہمدرد لیبارٹریز ( وقف ) پاکستان
  • چئیر پرسن، تاج میڈیکل کمپلیکس
  • صدر ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان
  • چانسلر ہمدرد یونیورسٹی پاکستان
  • صدر مدینۃ الحکمت، پاکستان
  • صدر ہمدرد ایجوکیش سوسائٹی پاکستان
  • صدر پاکستان ہسٹاریکل سوسائٹی
  • قومی سربراہ، شوریٰ ہمدرد پاکستان
  • صدر ہمدرد پبلک اسکول پاکستان
  • صدر ہمدرد ویلج اسکولز پاکستان
  • پیٹرن ان چیف، پاکستان ایسوسی ایشن آف ایسٹرن میڈیسن
  • مسز سعدیہ راشد ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ بھی مصروفِ عمل رہی ہیں۔
  • وہ پاکستان میں ڈیوک آف ایڈنبرا ایوارڈ کی ترسٹی ہیں ۔
  • پاکستان جاپان کلچرل ایسوسی ایشن، سندھ کی وائس پریزیڈنٹ ہیں۔
  • انہوں نے طب، صحت اور تعلیم کے متعلق منعقدہ بے شمار قومی اور بین الاقوامی کانفرنسز اور سمپوزیمز میں شرکت کی ۔

اعزازات[ترمیم]

فروری 2019ء میں شہنشاہ اور حکومت جاپان نے "جاپان اور پاکستان کے ثقافتی تعلقات کو استوار کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینے" کے حوالے سے ہمدرد پاکستان کی صدر نشین سعدیہ راشد کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں جاپان کے اعلیٰ شہری اعزاز دی آرڈر اوف رائزنگ سن، گولڈ ریز وِد نیک رِبن سے نوازا ہے۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "والد کی شہادت کے بعد ایک روز کیلئے بھی ہمدرد بند نہیں ہوا"۔ jang.com.pk۔
  2. Vote for – The News Women
  3. "سعدیہ راشد کوجاپان کے اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا گیا"۔ Nawaiwaqt۔ 2 فروری، 2019۔ Check date values in: |date= (معاونت)