سعد بن ربیع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سعد بن ربیع
معلومات شخصیت
وفات سنہ 625  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
غزوہ احد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سعید بن الربیع بیعت عقبہ کرنے والے صحابہ میں شامل ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

سعد نام،قبیلہ خزرج سے ہیں سلسلہ نسب یہ ہے،سعد بن ربیع بن عمرو بن ابی زہیربن مالک بن امرؤ القیس بن مالک اغر بن ثعلبہ بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزج اکبر

اسلام[ترمیم]

عقبۂ اولیٰ میں مسلمان ہوئے اور عقبہ ثانیہ میں شرکت کی دوسری بیعت میں اپنے قبیلہ کے نقیب بنائے گئے، عبداللہ بن رواحہ بھی اسی قبیلہ کے نقیب تھے۔

ہجرت[ترمیم]

عبدالرحمن بن عوف سے (جو عشرہ مبشرہ میں تھے)برادری قائم ہوئی، سعد نے اپنے مہاجر بھائی کے ساتھ جو غیر معمولی جوش وخروش اورخلوص ظاہر کیا اس کی نظیر تاریخ عالم کے کسی باب میں نہیں مل سکتی،تمام انصار نے مال و متاع جائداد اور زمین آدھی آدھی مہاجرین کو دیدی تھی،لیکن سعدنے ان چیزوں کے علاوہ اپنی ایک بیوی بھی پیش کی، عبد الرحمن اگرچہ اس وقت مفلوک الحال تھے،تاہم دل غنی تھا، بولے خدا تمہارے بال بچوں اور مال ودولت میں برکت دے،مجھے اس کی ضرورت نہیں تم مجھ کو بازار دکھلادو۔[1]

غزوات[ترمیم]

غزوۂ احد میں شریک تھے اوراسی میں نہایت جانبازی سے لڑکر شہادت حاصل کی جسم پر نیزہ کے بارہ زخم تھے، موطا میں ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کوئی سعد بن ربیع کی خبر لاتا،ایک شخص نے کہا میں جاتا ہوں زرقانی میں ہے کہ انہوں نے جاکر لاشوں کا گشت لگایا اور ان کا نام لے کر آوازدی شہر خموشاں میں ہر طرف سناٹا تھا کوئی جواب نہ آیا ؛لیکن جب یہ آوازدی کہ مجھ کو رسول اللہﷺ نے تمہارے پاس بھیجا ہے تو ایک ضعیف آواز کان میں پہنچی کہ میں مردوں میں ہوں، یہ سعد کا اخیروقت تھا، دم توڑ رہے تھے ،زبان میں قابو میں نہ تھی، تاہم ان سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے میراسلام کہنا اورانصار سے کہنا کہ اگر خدا نخواستہ رسول اللہ ﷺقتل ہوئے اور تم میں سے ایک بھی زندہ بچ گیا تو خدا کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہو گے!کیونکہ تم نے لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ پر فدا ہونے کی بیعت کی تھی یہ شخص جس کا نام بعض روایتوں میں ابی بن کعب آیا ہے وہیں کھڑے رہے اور سعدکی روح مبارک جسد عنصری سے پرواز کر گئی۔ ابی بن کعب نے وصیت کے یہ آخری کلمات آنحضرتﷺ کو پہنچائے تو فرمایا خدا ان پر رحم کرے،زندگی اورموت دونوں میں خدا اور رسول کی بھی خواہی مدِ نظر رہی۔ دفن کے وقت دو دو آدمی ایک قبر میں رکھے گئے تھے، خارجہ بن زید بن ابی زہیر جو سعدکے چچا ہوتے تھے ان کے ساتھ دفن کیے گئے جس طرح دنیا میں ساتھ دیا تھا قبر میں بھی ساتھ دیں۔[2][3][4]

اہل و عیال[ترمیم]

دولڑکیاں چھوڑیں،ایک کا نام ام سعید تھا ،آنحضرتﷺ نے جائداد میں دو ثلث ان کو عطا فرمائے قرآن مجید کی آیت فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ [5] اگر دو عورتوں سے زیادہ ہوں تو دو ثلث ان کا حصہ ہوگا۔ اسی موقع پر نازل ہوئی اوراسی تقسیم سے یہ معلوم ہوا کہ دو عورتوں کا بھی وہی حصہ ہے جو تین یا چار کا ہے۔ [6] دو بیویاں تھیں جن میں ایک کا نام عمرہ بنت حزم تھا۔ [7]

فضل وکمال[ترمیم]

آنحضرتﷺ سے حدیث سننے کے علاوہ لکھنا جانتے تھے اور چونکہ رئیس کے بیٹے تھے تعلیم کا خاص اہتمام ہوا تھا کتابت اسی زمانہ میں سیکھی تھی۔ [8]

اخلاق[ترمیم]

جوش ایمان اور حب رسولﷺ عقبہ اوراحد کے کارناموں سے ظاہر ہوتی ہے ،غزوہ احد میں جو وصیت کی وہ اس کا بالکل بین ثبوت ہے۔ مشرکین مکہ کی تیاریوں کی خبر جب آنحضرتﷺ کے پاس احد میں آئی تھی تو آنحضرتﷺ نے سعدؓ کو آگاہ کیا تھا۔ [9] انہی باتوں کی وجہ سے حضرت سعدؓ کا اثر تمام صحابہ پر تھا، ان کی صاحبزادی ام سعید حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں آئیں تو انہوں نے اپنا کپڑا بچھا دیا ، حضرت عمرؓ نے کہا یہ کون ہیں؟ فرمایا کہ یہ اس شخص کی بیٹی ہے جو مجھ سے اور تم سے بہتر تھا، پوچھا یا خلیفۂ رسول اللہﷺ!وہ کیوں؟ ارشاد ہوا کہ اس نے آنحضرتﷺ کے زمانہ میں جنت کا راستہ لیا اور ہم تم یہیں باقی رہ گئے۔ [10]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الاصابہ:3/77
  2. بخاری:1/60
  3. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد8صفحہ568نعیمی کتب خانہ گجرات
  4. اسد الغابہ جلد 1 صفحہ 890 حصہ چہارم،مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور
  5. (نساء:11)
  6. (اسدالغابہ:2/278)
  7. (اصابہ:2/77)
  8. (اسد الغابہ:2/277)
  9. (طبقات ابن سعد:25)
  10. (اصابہ:77)