سعودی عرب میں نقل و حمل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیٹروڈالر کی بھر مار سے سعودی عرب میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے کئی بڑے منصوبوں کا آغاز کیا گیا اور نقل و حمل کے نظام کی وسیع پیمانے پر ترقی، مختلف اقتصادی ترقی کے لیے سودمند ثابت ہوتی ہے، نتیجتاً ملک بھر میں ایک بہترین نقل و حمل کا نظام قائم ہو گیا ہے۔

شارعی نقل و حمل[ترمیم]

ریاض-مکہ شاہرہ نزد جب طویق،، نومبر 2006ء
شاہراہ 60 نزد طائف

کل: 221,372 کلومیٹر (137,554 میل)
پختہ: 47,529 کلومیٹر (29,533 میل) (iبشمول 3,891 کلومیٹر (2,418 میل) ایکسپریس شاہراہوں کے )
غیر پختہ: 173,843 کلومیٹر (108,021 میل) (بتاریخ 2006ء تک)

سعودی عرب حکومت ماضی میں شارعی نظام کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے کیوں کہ وہاں پیٹرول کی قیمت باقی دنیا کے مقابلے میں سب کم رہی ہے، یعنی $0.13 کا فی لیٹر۔ 2018ء میں، اس قیمت کو بڑھا کر $0.54 فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔[1]

اہم بین شہر شاہراہوں میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں:[2][3]

فروری 2018ء میں اعلان کیا گیا کہ، سعودی عرب کی چار اہم موٹر ویز پر رفتار میں بہتری لائی جائے گی اور اسے 12 کلو میٹر فی گھنٹہ سے 140 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچا دیا جائے گا۔ اس منصوبے میں مکہ- مدینہ، یاض - دمام، ریاض-جاسم اور آخر میں رياض- طائف موٹر ویز شامل ہیں۔[4]

بحری نقل و حمل[ترمیم]

سعودی عرب میں ایک ترقی پزیر بحری نقل و حمل کا نظام ہے جو بنیادی طور پر پیٹروکیمیکل کی نقل و حمل کی سہولت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سعودی پورٹ اتھارتی ان بحری کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے، یہ ادارہ ملک میں بندرگاہوں کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔

ملک میں بڑی بندرگاہیں مندرجہ ذیل ہیں;

خلیج فارس[ترمیم]

بحیرہ احمر[ترمیم]

ہوائی نقل و حمل[ترمیم]

سعودی عرب میں 203 ہوائی اڈے موجود ہیں (2003 اندازہً ۔)۔ جدہ کا ہوائی اڈا ملک کا سب سے مصروف ہوائی اڈا ہے، جو حج کے دنوں میں حاجیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

ہوائی اڈے مع پختہ رن وے[ترمیم]

کل: 61
3,047 میٹر سے زیادہ: 32
2,438 تا 3,047 میٹر: 13
1,524 تا 2,437 میٹر: 12
914 تا 1,523 میٹر: 2
914 میٹر سے کم: 2 (2003ء کے مطابق۔)

ہوائی اڈے مع غیر پختہ رن وے[ترمیم]

کل: 133
3047 میٹر سے زیادہ: 6
2,438 تا 3,047 میٹر: 5
1,524 تا 2,437 میٹر: 75
914 تا 1,523 میٹر: 38
زیریں 914 میٹر سے کم: 14 (2003ء کے مطابق ۔) (سعودی عربین ایئر لائنز کی قومی flag carrier ایئر لائن ہے)

ہیلی پیڈ[ترمیم]

9 (2009ء کے مطابق۔)

ریل نقل و حمل[ترمیم]

سعودی عرب میں ریل نقل و حمل کا نقشہ۔

شاہراہوں و ہوائی سفر پر زیادہ انحصار کرنے کے نتیجے میں، سعودی عرب میں ریل نقل و حمل میں دوسرے ذرائع کی طرح سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ البتہ، اب ملک کے ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ منصوبے تکمیل کے قریب ہیں۔

  • سعودی لینڈ برج منصوبہ جس کے تحت بندرگاہوں والے شہروں دمام، جدہ اور الجبیل کو آپس میں ملانا ہے۔ یہ ریاض سے بھی گزرتا ہے اور خشک بندرگاہ کے لیے خدمات سر انجام دیتا ہے۔ ریاض اور جدہ سے منسلک لائن کا منصوبہ تقریباً 950 کلومیٹر (590 میل) لمبا ہے۔ جب کہ دمام اور جبیل کے دو شہروں سے منسلک لائن تقریباً 150 کلو میٹر (93 میل) ہے۔[5]
  • حرمین تیز رفتار ریل منصوبہ مغربی صوبے میں منصوبے کے تحت، 453 کلومیٹر (281 میل) طویل ریلوے لائن کے ساتھ جدہ اور مدینہ شہر کو مکہ سے ملایا گیا ہے۔ اس نیم برقی، دو دویہ، مسافر ریلوے لائن کو حاجیوں کی کثیر تعداد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایس آر او کے مطابق یہ نہایت ضروری ہو گیا تھا۔ اس نے اپنی سفری خدمات کا باقاعدہ آغاز ستمبر 2018ء میں شروع کیا ہے۔[6]
  • المشاعر المقدمسہ میٹرو لائن مکہ میٹرو ریل نقل و حمل نظام کا حصہ ہے، یہ مکہ شہر ہی میں تیار کیا گیا ہے۔ 18.1 کلومیٹر (11.2 میل) طویل لائن سے حج کے دنوں میں 8 ملین حاجیوں کو مکہ، جبل عرفات، مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان میں آمد و رفت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
  • ریاض میٹرو دار الحکومت شہر میں 6 رویہ زیر زمین ریلوے نظام ہے۔ اپریل 2018 تک، یہ 71٪ مکمل ہو چکا ہے۔ 2019ء میں اس کا جزوی اففتاح متوقع ہے جب کہ 2021ء میں یہ مکمل ہو گا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Saudi Gazette"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. http://saudinf.com/main/g11.htm Saudi inter-city highways
  3. The Roads And Ports Sectors In The Kingdom Of Saudi Arabia
  4. "Arab News"۔ |archive-url= is malformed: save command (معاونت)
  5. "Landbridge Project"، سعودی ریلویز آرگنائزیشن۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 اگست 2017ء
  6. Stephen Kalin۔ "Saudi Arabia opens high-speed train linking Islam's holiest cities"۔ U.S. (انگریزی زبان میں)۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-25۔

بیرونی روابط[ترمیم]