سعيد رمضان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سعید رمضان کی پیدائش 1926 کی ہے، 14/ سال ہی کی عمر میں اخوانی جماعت سے منسلک ہو گئے، اس کے 6/ سال ہی کے بعد مرکز میں سکریٹری، حسن بنا کے دائیں ہاتھ اور میگزین (الشھاب) کے ایڈیٹر بنا لیے گئے، پھر چند ہی دنوں میں داماد بھی بن گئے، اس طرح کچھ ہی ایام میں سعید رمضان جماعت کے سرکردہ لیڈروں میں شمار ہونے لگے، پھر کچھ ہی دنوں کے بعد انہیں یورپ اور امریکا میں جماعت کا نمائندہ بنا دیا گیا۔


جمال عبد الناصر کی حکومت گرانے کے لیے اخوانی ایک طرف ملک گیر سازش کر رہے تھے تو دوسری طرف یورپ میں بیٹھ کر برطانیہ اور امریکا کے ساتھ ملکر عالمی پیمانے پر سازش کر رہے تھے اور اس سازش کے لیے کردار خود حسن بنا کے داماد سعید رمضان ادا کر رہے تھے۔۔

جمال عبد الناصر کے دور میں جب کہ اخوانی جماعت پر پابندی لگا دی گئی اور سویز کمپنی جو انگریزوں کے قبضے میں تھی اسے قومیا لیا گیا تو اخوانیوں اور انگریزوں دونوں نے ملکر مصری حکومت کے خلاف سازش کرنا شروع کردی۔

مشہور برطانوی رائٹر (ستيفن دوريل) نے اپنی دستاویزی کتاب ( إم آى سكس: مغامرة داخل العالم السرى لجهاز المخابرات البريطانية ) کے اندر مزید لکھا کہ سعید رمضان بیک وقت برطانیہ، امریکا اور سوئیزر لینڈ تینوں ملکوں کے ایجنٹ تھے، برطانوی خفیہ ایجنسی کے دو اہلکار نيل ماكلين اور جوليان آمري نے جنیوا میں سعید رمضان کے ساتھ ملکر جمال عبد الناصر کے خلاف خفیہ تنظیم بنا رکھی تھی جس کا پورا کام مصر کے اندر دیگر اخوانی انجام دیتے تھے، چنانچہ جب جمال عبد الناصر کو سعید رمضان کی ملک مخالف سرگرمیوں کا پتہ چلا تو ان سے مصری شہریت چھین لی  اور سویسری حکومت سے شکایت کی لیکن رمضان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

26/ اکتوبر 1954 کو منشیہ کے میدان میں جمال عبد الناصر کو مارنے کی سازش بھی سعید رمضان نے یورپ میں بیٹھ کر اخوانی مرشد حسن ہضیبی اور برطانوی سفیر ایوانز کے ساتھ ملکر رچی تھی، جس میں ایک اخوانی ممبر محمود عبد اللطیف نے جمال عبد الناصر پر 8/ گولیاں چلائیں لیکن ایک گولی بھی نہیں لگی، البتہ بغل میں کھڑے دو ساتھیوں کو لگی، اس طرح انگریزوں اور اخوانیوں کی یہ بڑی سازش ناکام ہو گئی۔

دراصل یہ برطانیہ کی طرف سے جمال عبد الناصر کو مارنے کی پوری پلاننگ کی گئی تھی کیونکہ سویز کمپنی کو اس نے قومیا لیا تھا اور انگریزوں کو مصر سے کھدیڑ دیا تھا، اسی لیے سیدھا برطانوی وزیر اعظم انٹونی ایڈن کے اشارے پر یہ سارا کھیل کھیلا گیا، جیسا کہ دوریل نے لکھا کہ 27/ اگست 1956 کے دن برطانوی خفیہ ایجنسی کے اہلکار جوليان آمري نے مصطفی نحاس جیسے کئی ایک وفدی لیڈروں کے ساتھ اخوانی رہنماؤں سے مصر میں ملاقات کی اور جنیوا میں سعید رمضان کی ہدایت پر پوری سازش رچی گئی جس میں یہ طے پایا کہ میجر جنرل محمد نجیب کو ملک کا صدر بنایا جائے گا اور وفدی لیڈر محمد صلاح الدین کو وزیر اعظم بنایا جائے گا۔

اسی طرح کی ایک سازش کی کوشش برطانیہ کی مدد سے 1965 میں بھی سعید رمضان کی ہدایت پر کی گئی جس میں مصر کے اندر سید قطب نے ساتھ دیا۔

دوریل نے مزید لکھا کہ 1953 میں سعید رمضان کی ملاقات امریکی صدر ایزن ہاور سے ہوئی جس میں سعید رمضان نے امریکی صدر کو یورپ میں باقی رہنے کا مشورہ دیا، دونوں کے بیچ ملاقات کرانے کا فریضہ اس وقت کے مشہور سی آئی اے کے افسر روبرت دريهارد نے ادا کی۔

مزید کہا: سعید رمضان ایک فاسسٹ لگتا تھا کیونکہ حکومت پر قبضہ دلانے کے لیے عوام کو حکومت کے خلاف اکٹھا کرنا ہی اس کا کام رہ گیا تھا۔ اس کے لیے اس نے جرمنی کے شہر میونخ میں اسلامی مرکز کے نام پر ایک سینٹر بنا رکھا تھا جہاں امریکی، برطانوی اور جرمن سارے لوگ اکٹھا ہوتے اور مصری حکومت نیز عرب حکومتوں کے خلاف سازشیں کرتے۔

ستمبر 1953 کے اندر امریکا میں اکیڈمک کانفرنس کے نام پر بہت سے مسلم ممالک سے علما ومفکرین اور ادبا وغیرہ کو بلایا گیا، امریکی صدر آئزہاور نے ان سے وہائٹ ہاؤس میں ملاقات کی، گرچہ بظاہر یہ دعوت پرسٹن یونیورسٹی کی طرف سے تھی لیکن اس کے پیچھے امریکی وزارت خارجہ اور خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ہاتھ تھا۔

جس کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ عالم اسلامی بالخصوص مشرق وسطی سے ایسے علما ومفکرین کو اکٹھا کرنا تھا جن کا سماج اور ملک وملت کے اندر اثر و رسوخ ہو اور جو واپس روسی کمیونزم کے خلاف اپنے اپنے ملک میں جاکر ماحول بنائیں۔ اور امریکی بالادستی قائم کرنے میں راہ ہموار کریں، اسی لیے اس کانفرنس کے اندر سرمایہ دارانہ نظام اور امریکی تہذیب وروایت کی فضیلت اور اشتراکی نظام اور روسی تہذیب کی مذمت کی گئی۔۔

اس کانفرنس کے اندر سعید رمضان نے مسرق وسطی کے نمائندہ کے طور پر امریکی صدر آئزن ہاور سے ملاقات کی۔ اور سعید رمضان کو خطے میں امریکی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ بنا لیا گیا جسے اخوانی جماعت کے حساب پر مصر اور مشرق وسطی میں امریکی حق اور روسی اشتراکی نظام کے خلاف کام کرنا تھا کیونکہ اس وقت عرب حکمرانوں کا جھکاؤ روسی خیمے کی طرف تھا۔


سویسری خفیہ دستاویزات کے اندر سیافان بیسون نے اخبار لوتو مبس کے اندر یہ انکشاف کیا کہ سعید رمضان گرچہ برطانیہ اور امریکا کے ایجنٹ تھے پھر بھی سویسری حکومت انہیں اپنی مصلحت میں استعمال کرتی تھی۔ اس کی تصدیق خود 2005 کے اندر ایک دستاویزی مضمون میں کی گئی جسے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے شائع کیا تھا۔ امریکی خفیہ ایجنسی نے روسی اثرو رسوخ کو ختم کرنے کے لیے (اللجنة الامريكية للتحرر من البلشفية) کے نام سے ایک کمیٹی بنا رکھی تھی جس میں سعید رمضان کو رکن بنایا گیا تھا۔ چنانچہ اخوانیوں نے اس پر عرب ممالک میں جم کر محنت کی اور اسی کمیٹی کے تحت سعید رمضان،  فلسطینی اخوانی عبد اللہ عزام وغیرہ نے عربوں کو روس سے جہاد کے نام پر اکٹھا کیا اور افغانستان کے اندر بظاہر جہاد کرنے اور بباطن امریکی ایجندے کو پورا کرنے کے لیے گئے تھے جس میں اخوانیوں نے سی آئی اے کے ساتھ ملکر بہت سے عرب حکمرانوں کو بھی بیوقوف بنایا اور اس مہم میں ان سے مالی اور سیاسی سپورٹ حاصل کر لی۔

اخوانيوں نے يورپ اور امريكہ كےساتھ 70 اور 80 /كى دہائى ميں خمينى فكر كى بهى پورے عالم اسلام ميں ايجنٹ بن كر پرچار كيا اور ايران كے اندر خمينى بغاوت  كا پورا ساتھ ديا۔

22/ جولائى 1980ء كےاندر خمينى نظام كے شديد مخالف على اكبر طبطبائى كو امريكہ كےاندر صوبہ ميرى لينڈ ميں  اسكے گهر كےاندر قتل كرديا گيا، يہ امريكہ كےاندر ايرانى سفارت خانے كا مشير اعلى ره چكا تها، جو خمينى انقلاب كا شديد مخالف تها، اس نے امريكہ ميں (مؤسسة الحرية الإيرانية) كے  نام سے ايك تنظيم بناركهى تهى۔ اسے جس شخص نےگھر ميں گهس كر گولى مارى تهى وه ايك افريقى نزاد امريكى نومسلم تها جس كا نام ڈيوڈ بيلفيلڈ تها، اسلام لانے كے بعد اپنانام داود صلاح الدين ركھ ليا تها، يہ طبطبائى كو قتل كرنے كے بعد فوراً وہاں سے جنيوا بهاگنے ميں كامياب ہوگيا، پهر وہاں سے ايران چلا گيا۔ اس واقعے كى مكمل تحقيقات كے بعد پتہ چلا كہ اس كے پيچھے بهى سعيد رمضان اور اخوانى جماعت كا ہاتھ تها جسے خمينى كى مصلحت ميں انجام دياگيا اور اس طرح ايك بہت بڑے خمينى نظام كے مخالف كا خاتمہ كركے اخوانيوں نے خمينى گيرى  اور رافضى دوستى كا بہت بڑا ثبوت ديا ۔ اور اس تحقيقات سے يہ بهى پتہ چلا كہ صلاح الدين كا تعلق سعيد رمضان سے بہت پرانا ہے، بلكہ 1975ء سے ملاقات كرنا شروع كرديا تها اور سعيد رمضان امريكہ آنےپر اسى كے گهر ٹھہرتے تهے، بلكہ قاتل نے خود اعتراف كيا كہ وه سعيد رمضان كو اپنا روحانى باپ سمجهتا ہے اور اپنے اس كام كو ان كى اطاعت اور فرمانبردارى كا ايك ادنى سا نمونہ  مانتاہے۔ تحقيقات سے يہ بهى پتہ چلا كہ قتل سے پہلے قاتل سعيد رمضان سے كئى بار فون پر گفتگو كرچكا تها۔ اور قاتل كو امريكہ سے جنيوا ا ور پهر جنيوا سے ايران بهاگنے ميں سعيد رمضان ہى نے پورى مدد كى تهى، بلكہ يہ بهى حقيقت بعد ميں كهل كر آئى كہ جنيوا كے اندر سعيد رمضان كے ہاتھ سے قاتل نے ايك لاكھ ڈالر وصول كيا تها۔

سياسى تجزيہ كار كہتےہيں كہ اس قتل كےاندر باقاعده امريكى خفيہ ايجنسى سى آئى اے بهى ملوث تهى اور جمى كارٹر سركار نے ايسا كركے خمينى سے ان يرغمال شده امريكىوں كو چهڑانا چاہاتها جنہيں ايران نے امريكى سفارت خانے كےاندر يرغمال بنا ركها تها اور مقصد يہ تها كہ اگلا اليكش جو كہ قريب تها اس كے آنے سے پہلے انہيں چهڑا لياجائے تاكہ امريكى عوام خوش ہوجائے، اسى لیے سى آئى اے نے قاتل كو نظر انداز كيا۔


سالم العریض نے تاریخ 13/3/2014 کو m.www.ahewar.org پر (سعید رمضان صهر حسن البنا والعميل الأكبر بعده) کے عنوان سے پوری تفصیل لکھی ہے، اس ویب سائٹ پر جاکر رجوع کر سکتے ہیں۔

ڈاكٹر اجمل منظور