سعید احمد اکبر آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مولانا سعید احمد اکبرآبادی بر صغیر کے مایہ ناز محقق، عالم دین ، دینی و عصری علوم کے ماہر ، نقاد،مصنف ڈائریکٹر ندوۃ المصنفین اور ماہنامہ برہان کے مدیر تھے۔

مولانا سعید احمد اکبر آبادی
پیدائشسعید احمد
8 نومبر 1908(1908-11-08)ء
اکبر آباد، برطانوی ہندوستان
وفات24 مئی 1985(1985-05-24)ء
کراچی، پاکستان
آخری آرام گاہمقبرہ دار العلوم کورنگی، کراچی، پاکستان
قلمی نامسعید احمد
پیشہمحقق، مصنف، نقاد، مدیر برہان
زباناردو
قومیتFlag of بھارتبھارتی
تعلیمعالم، منشی، ادیب فاضل، ایم۔ اے۔
نمایاں کامالرق فی الاسلام
وحی الہی
برہان

پیدائش و بچپن[ترمیم]

مولانا سعید احمد اکبرآبادی 8 نومبر 1908ء میں اکبر آباد ( آگرہ) میں صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے، مولانا اکبرآبادی اپنے والدین کی اکلوتی اور چہیتی اولاد نرینہ تھے، اس لیے آپ کی ولادت پر عقیقہ کی تقریب اس دھوم دھام سے منائی گئی کہ کئی روز تک آگرہ میں اس کا چرچا رہا، مولانا اکبرآبادی کا بچپن اور لڑکپن اگرچہ عام بچوں کی طرح کھیلتے کودتے گزرا مگر صحت، ذہانت، حافظہ اور علمی ذوق و شوق عام بچوں سے مختلف تھا، آٹھ برس کی عمر میں مشکل سے مشکل اشعار کا مطلب اپنی زبان میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

مولانا کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، آپ کے والد ڈاکٹر ابرار حسین نے قاضی عبد الغنی منگلوری سے رسم بسم اللہ ادا کرنے کی درخواست کی، انہوں نے ایک نیم مجذوب میاں محمد افضل کو بھیج دیا، انہوں نے بسم اللہ پڑھائی اور اس طرح آپ کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا، گھر پر ہی فارسی باور عربی کی تعلیم کا بند و بست کیا گیا، دیوبند کے ایک عالم و فاضل مولوی خورشید علی عربی کی تعلیم دیتے تھے، جبکہ حساب، تاریخ اور جغرافیہ کے لیے ایک قابل ہندو گریجویٹ استاذ ماسٹر مکٹ بہاری لال کو مقرر کیا گیا جو شام کو دو گھنٹےتمام مضامین پڑھاتے تھے، صرف و نحو کی تعلیم مولانا غلام نور صاحب سے حاصل کی اور کافیہ اور قدوری مکمل کیکی،  گھریلو تعلیم کے بعد آپ کو مرادآباد کے مدرسہ امدادیہ میں داخل کرادیا گیا،یہاں مولانا سید مرتضی حسن چاندپوری،  مولانا محمد اسحاق کانپوری، مولانا محمد حنیف امروہوی کے زیر نگرانی شرح جامی اور شرح وقایہ پڑھی، پھر مولانا اکبرآبادی دیوبند میں داخل ہوئے اس زمانہ کو وہ تین ادوار میں تقسیم کرتے ہیں، پہلا دور گوشہ نشینی کا ہے جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ "پہلا دور میں گوشہ نشین رہا، گھر سے مدرسہ اور مدرسہ سے گھر، طلبہ سے ملنا گھانا نہیں تھا سوائے مفتی عتیق الرحمن عثمانی کے جو میرے اس دور کے اکلوتے دوست تھے، دور ثانیے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس دور میں حلقہ وسیع ہوا میں طلبہ کی مجلسوں میں شرکت اور ان کی انجمنوں میں تقریر کرنا شروع کر دی، دور ثالث کے بارے میں رقمطراز ہیں کہ : میری تعمیر و تشکیل جو کچھ بھی ہوئی اسی دور میں ہوئی،پہلے میرا ماحول شعری و ادبی تھا، اب میرا ماحول علمی و دینی ہو گیا،پہلے میری صحبت چند شہری طلبہ کے ساتھ تھی،اب میں ہر وقت اساتذہ کرام اور چند ہونہار طلبہ کے ساتھ تھاجو ذہین مستعد تھے۔[1]

اساتذہ[ترمیم]

آپ نامور اور عظیم المرتبت علما سے اکتساب فیض کی سعادت نصیب ہوئی، 1925ء میں علامہ انور شاہ کشمیری سے دورۂ حدیث مکمل کیا، دیگر اساتذہ میں مفتی عزیز الرحمن عثمانی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا حبیب الرحمن عثمانی، مولانا اعزاز علی امروہوی،مولانا حسین احمد مدنی، مولانا رسول خان،مولانا عبد السمیع، مولانا سراج احمد رشیدی شامل ہیں۔

عصری تعلیم[ترمیم]

ڈابھیل ہی کے زمانۂ قیام میں مولانا اکبر آبادی نے پنجاب یو نیورسٹی لاہور (اورینٹل کالج لاہور) سے مولوی ، منشی اور ادیب فاضل کے امتحانات پرائیویٹ طور پر پاس کئے، دہلی میں قیام کے دوران 1936ء میں عربی ایم اے کا امتحان دہلی یونیورسٹی سے پاس کیااور یونیورسٹی میں ٹاپ کیا، پھر 1940ء کے لگ بھگ انگریزی میں ایم اے کیا۔

خدمات[ترمیم]

1943ء میں سینٹ اسٹیفن کالج دہلی میں تقرر ہو گیا، وہ یہاں اردو اور ادبیات کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، اسی زمانہ میں سابق صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔

1947ء میں مولانا ابوالکلام آزاد وزیر تعلیم ہند کی تحریک پر انہیں کلکتہ کے مشہور زمانہ مدرسہ عالیہ کا پرنسپل مقرر کیا گیا، 1959ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر کرنل بشیر زیدی نے انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ دینیات کا صدر منتخب کیا، مولانا نے اس کی ترقی کے لئے بڑی جد و جہد اور اور جاں فشانی سے کام لیا، ان کی محنت کے ثمرہ میں اس شعبہ کو مقبولیت اور اعتماد حاصل ہوا [2]اس شعبہ میں پی ایچ ڈی کا اجراء انہی کے دور میں ہوا، 1962-1963 کے درمیان ویزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے کینیڈا کی Mc-Gill یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز میں کام کیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ملازمت سے سبک دوشی کے بعد 1972ء میں تغلق آباد دہلی میں ہمدرد کے ایک اسلامی ادارے سے وابستہ ہو گئے،  تقریباً چار سال یہاں خدمت انجام دیں ، بوعلی سینا کی کتاب القانون کو مرتب کیا، بعد میں وہ یکے بعد دیگرے کالی کٹ یونیورسٹی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں وزیٹنگ پروفیسر کی حیثیت سےعلمی و تحقیقی کاموں کی نگرانی اور طلبہ کی رہنمائی کرتے رہے، دار العلوم دیوبند میں تحقیق و تالیف اور طلبہ کی قلمی تربیت کے لئےشیخ الہند اکیڈمی قائم ہوئی تو مولانا کو اس کا ڈائریکٹر منتخب کیا گیا، وفات تک آپ اس عہدہ پر فائز رہے۔

تصانیف[ترمیم]

(1) فہم قرآن: 200 صفحات پر مشتمل یہ مولانا اکبرآبادی کی تصنیف فتنۂ انکار حدیث کے رد میں ہے،  یہ کتاب 1941ء میں طبع ہوئی، دس ابواب پر مشتمل ہے: مسلمانوں میں مرکزیت کا فقدان، کیا قرآن مجید بغیر سنت کے صحیح معنی میں میں سمجھ میں آسکتا ہے، تدوین حدیث، وضع حدیث کا فتنہ اور اس کا انسداد ، حضرت ابوہریرہ، حضرت عبد اللہ بن عباس، تابعین کا دور، امام بخاری، اصول درایت، محدثین کی بے لوث خدمات۔

(2)الرق فی الاسلام (یعنی اسلام میں غلامی کی حقیقت) : یہ کتاب 272 صفحات پر مشتمل ہے ، جس کا پہلا ایڈیشن 1938ء میں منظر عام پر آیا، یہ کتاب اسلام میں غلامی اور اس سے متعلق ہر شبہ کا مسکت جواب ہے۔

(3)غلامان اسلام: یہ کتاب الرق فی الاسلام ہی کا تتمہ و تکملہ ہے، اس میں غلامان اسلام کی حیات اور ان کی اسلامی خدمات اور مختلف کارناموں کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے، کتاب 488 صفحات اور پانچ عناوین پر مشتمل ہے: صحابۂ کرام، تابعین، اتباع تابعین، ارباب کشف و کرامات اولیاء اللہ ، علماء شعر و ادب ۔ پہلی دفعہ 1940ء میں شائع ہوئی۔

(4) صدیق اکبرؓ: 464 صفحات پر مشتمل یہ کتاب مولانا اکبرآبادی کا انتہائی عظیم الشان کارنامہ ہے، پہلی دفعہ 1957ء میں شائع ہوئی۔

(5) وحی الہی: اس کتاب میں وحی اور اس کے متعلق تمام گوشوں پر وقت کے جدید اسلوب میں دلپذیر بحث کی گئی ہے،کتاب 192 صفحات پر مشتمل ہے اور دس ابواب پر مشتمل ہے: وحی کی ضرورت، وحی کے لغوی اور اصطلاحی معنی، وحی کی مختلف صورتیں ، قرآن اور وحی، خداکی صفات ذاتیہ پر ایک عام بحث،ملکۂ نبوت اور وحی ، وحی اور محققین یورپ، تسلسل وحی اور نزول جبرئیل ، قرآن مجید وحی الہی کیوں ہے، قرآن مجید کا اسلوب بیان اور بعض عیسائی مصنفین ، کتاب پہلی بار ندوۃ المصنفین سے 1841ء میں شائع ہوئی۔

(6) عثمان ذی النورین: یہ کتاب حضرت عثمان غنیؓ کی حیات و خدمات او صاف و کمالات اور فتوحات پر محققانہ ابحاث پر مشتمل ہے، یہ کتاب 1983ء میں شائع ہوئی۔

(7) مسلمانوں کا عروج و زوال: اس کتاب میں مولانا نے خلافت راشدہ سے اپنے عہد تک مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب پر بحث کی ہے، کتاب 347 صفحات پر مشتمل ہے ، 1944ء میں ندوۃ المصنفین سے شائع ہوئی۔

(8) مولانا عبید اللہ سندھی اور ان کے ناقد: یہ کتاب ان مختلف مقالات و مضامین کا مجموعہ ہے جو مولانا اکبرآبادیؒ نے برہان اور نظرات میں مختلف اوقات میں لکھے، کتاب میں افکار عبید اللہ سندھی پر واردشچہ اعتراضات کا جائزہ بھی لیا گیاہے، کل صفحات 286 پہلی مرتبہ 1946ء میں شائع ہوئی، کتاب کل 20 ابواب پر مشتمل ہے۔

برہان کی ادارت[ترمیم]

مولانا اکبر آبادی کا علمی تعارف علمی حلقوں میں سب سے زیادہ برہان کے مدیر کی حیثیت سے  ہوا، مولانا اکبرآبادی برہان کا اداریہ نظرات  کے عنوان سے لکھتے تھے، جو اپنے معاصر اداریوں میں جچی تلی رائے ، متوازن فکر ،سنجیدگی ، علمیت اور ادبیت کے اعتبار سے نمایاں امتیاز رکھتا تھا، اسی نظرات کا ایک حصہ وفیات کے عنوان سے تھا، مولانا نے اپنے زمانہ ادارت میں بے شمار اوفیات لکھے ، جن میں علماء ، صلحاء ، ادباء، شعراء قائدین، اور ہر میدان سے جڑی نمائندہ شخصیات شامل ہیں ، برہان میں مختلف کتابوں پر لکھے گئے تبصروں کی تعداد بھی سینکڑوں بلکہ ہزاروں میں ہے۔

تصنیفی اسلوب[ترمیم]

مولانا اکبرآبادی تصنیفی اسلوب میں علامہ شبلی نعمانی سے متاثر تھے، مولانا اکبرآبادی نے شبلی کی الفاروق کے رنگ میں صدیق اکبر ؓلکھی جو برصغیر کے علمی حلقوں میں بہت مقبول ہوئی، مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ مولانا اکبرآبادیؒ کے طرز نگارش پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

مولانا اکبرآبادیؒ کو لکھنے کا بڑا سلیقہ تھا، انہوں نے مولانا شبلیؒ کے اسلوب سے زیادہ فائدہ اٹھایا، اور ان کی تحریروں میں اسی کا رنگ جھلکتا ہے ،جیسا کہ انہوں نے اپنے مضمون میری محسن کتابوں میں اس کا اظہار کیا ہے[3]

سفر حج[ترمیم]

مولانا اکبرآبادی ابھی زیر تعلیم ہی تھے کہ 1925ء میں دیوبند کی سالانہ تعطیل کے موقع پر آگرہ آئے تو ان کے والد نے ان کی والدہ شمس النساء کی نذر پوری کرنے کے لیے مولانا؛ کبر آبادی کو والدہ کے ہمراہ حج کے لیے روانہ کر دیا، یہ سفر کافی یادگار تھا کیونکہ اس میں خلافت کمیٹی اور جمعیت علما کے وفود نے بھی حج کے لیے رخت سفر باندھا تھا، جس میں مفتی کفایت اللہ، علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی گوہر، مولانا احمد سعید دہلوی، علامہ سید سلیمان ندوی رحمہم اللہ شریک تھے، اس لحاظ سے مولانا اکبرآبادی کو ان بزرگوں کی صحبت اس سفر میں نصیب رہی، 1967ء میں مولانا اکبرآبادی نے دوسرا حج ادا فرمایا۔

ازدواجی زندگی[ترمیم]

مولانا اکبرآبادی جنوری 1928ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ ہونے کے بعد جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل چلے گئے اور بحیثیت استاذ تین سال تک فرائض سر انجام دیتے رہے، ڈابھیل کے قیام کے دوران آپ کی شادی مئی 1928ء میں ڈاکٹر ابرار حسین کی پھوپھی زاد بہن انوری بیگم کی بیٹی اختری بیگم سے ہوئی، مولانا نے اپنی بارات کے بارے میں لکھا ہے کہ: بارات بہت سادہ تھی لیکن اس کی امتیازی حیثیت یہ تھی کہ ملت اسلامیہ پاک و ہند کے اکابر علما یعنی شیخ العرب والعجم حضرت محمد انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا سراج احمد رشیدی، مولانا بدر عالم میرٹھی،مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانی، مولانا محمد ادریس سکروڈی، مولانا محمد یحیی تھانوی اس بارات میں شامل تھے، حضرت شاہ صاحب نے نکاح پڑھایا۔

علالت و وفات[ترمیم]

مولانا اکبرآ بادی کو پے در پے صدمات نے نڈھال کردیا تھا، والدین کی وفات کے بعد شریک حیات کی موت کا غم ، پھر مئی 1984ء میں اپنے دیرینہ رفیق اور ساتھی مفتی عتیق الرحمن عثمانی کی وفات کا صدمہ ، ان کے انتقال کے دو ماہ بعد ہی بڑے بیٹے عمر سعید داغ مفارقت دے گئے، اس صدمی سے گزر ہی رہے تھے کہ چہل قدمی کے دوران ایک صبح کتے نے کاٹ لیا، پیٹ میں انجیکشن لگے جس سے پیٹ میں سرایت ہوگئی، سرایت کی دواؤں سے جگر متاثر ہو گیا، علی گڑھ یونیورسٹی کے ہسپتال میں کافی عرصہ تک زیر علاج رہے ، افاقہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے بیٹی مسعودہ سعید آپ کو کراچی لے گئیں وہاں ماہر ڈاکٹروں کے معائنہ کے بعد جگر میں سرطان تشخیص ہوا،  جس کے بعد مولانا سنبھل نہ سکے اور 24 مئی 1985ء کو افطار سے قبل انتقال فرمایا، 25 مئی کو دارالعلوم کورنگی میں مفتی محمد شفیع ؒ کے ذاتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. برہان، ج:93 شمارہ 5 صفحہ 10
  2. نظرات ، برہان دسمبر 1984ء
  3. جولائی ، 1985ء پندروزہ تعمیر حیات لکھنؤ