سفرنامہ ناصر خسرو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سفرنامہ ناصر خسرو
مصنف ناصر خسرو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مصنف (P50) ویکی ڈیٹا پر
اصل زبان فارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر

حکیم ناصر خسرو چوتھی صدی ہجری کی اہم شخصیت تھے ، ان کا پورا نام ابو معين حميد الدين ناصر بن خسرو القبادياني المروزي تھا۔ انہوں نے علم و ادبِ ، فلسفہ اور حکمت کے حوالے سے کئی یادگار کتب چھوڑی ہیں، لیکن متعدد اسباب کی بنا پر ان کا کام زیادہ شہرت حاصل نہ کر سکا، کام کی شہرت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی شخصیت بھی نہ ابھر سکی اور نہ ہی اس کے مختلف پہلو سامنے آ سکے۔ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے اور عمر کے آخری حصے میں کتاب کی اشاعت بھی دیکھ سکے۔ اس کے علاوہ آپ کی کتاب گشایش و رہائش بھی اب تک موجود ہے جبکہ دیگر کتب محفوظ نہ رہ سکیں۔

سفرنامہ[ترمیم]

حکیم ناصر خسرو نے کئی علاقوں کی سیر و سیاحت کی، جس میں بیشمار شہر شامل تھے۔ آپ کی سیاحت کا یہ سلسلہ قریب قریب سات برسوں تک جاری رہا جس میں آپ نے شہروں ، عمارات ، امرا ، وزرا ، دربار اور عوام کے حالات قلمبند کیے۔ انہوں نے اپنا سفر نامے کا نام " المسالک" رکھا اور اسے فارسی زبان میں آج سے تقریباََ ہزار سال پہلے تحریر کیا، ہندوستان میں غالباً 1882 میں شائع ہوا۔

مولانا محمد عبد الرزاق کانپوری نے مولانا الطاف حسین حالی اور مولوی ذکاء اللہ دہلوی کی حوصلہ افزائی پا کر اس سفرنامے کا نسخہ تلاش کیا اور یورپ کے مختلف کتب خانوں سے بعض متعلقہ نایاب کتابیں خرید ک 1900 میں اس پر کام شروع کیا اور ترجمے کے ساتھ ضروری حواشی بھی قلمبند کیے، جس سے سفر نامے کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔ مولانا محمد عبد الرزاق کانپوری نے کام 1939 میں مکمل کی اور اسے بابائے اردو مولوی عبدالحق کے سپردکر دیا۔ یوں انجمن ترقی اردو ہند کے تحت اس کی اشاعت عمل میں آئی۔ ہزار سال پہلے لکھے جانے والے اس سفرنامے کی فارسی زبان آج کے وقت کے لحاظ سے زیادہ دقیق نہیں تھی مگر سید امیر نے نظرثانی کرکے اس کی زبان وبیان کو مزید بہتر بنا کر اسے نئے دور کے لیے شائع کیا۔ یہ کتاب بڑے سائز پر خوبصورت اور جدید سلیقے سے پاکستان میں بک کارنر [1] نے شائع کی ہے۔ کتاب کا ایک آن لائن نسخہ سرگودھا یونیورسٹی [2] ، پاکستان میں موجود ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]