سفیان ثوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سفیان ثوری
سفيان الثوري.png
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 716  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 778 (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Umayyad Flag.svg سلطنت امویہ
Black flag.svg دولت عباسیہ
Flag of Iraq.svg عراق[1]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ ایوب سختیانی،  شعبہ بن حجاج،  جعفر الصادق،  مالک بن انس،  حماد بن ابی سلیمان  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص عبد اللہ ابن مبارک،  سفیان بن عیینہ،  عبد الرزاق بن ہمام  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث،  مفسر قرآن  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث،  تفسیر قرآن  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابو عبد اللہ امام سفیان ثوری فقیہ و محدث جنہوں نے ضبط و روایت میں اس قدر شہرت پائی کہ شعبہ بن حجاج، سفیان بن عیینہ اور یحیی بن معین جیسے محدثین نے آپ کو امیر المومنین فی الحدیث کے لقب سے سرفراز کیا۔ ان کے زہد و ورع اور ثقاہت پر سب کا اتفاق ہے۔جن ائمہ فقہ وحدیث کوزمرۂ تبع تابعین کا گل سرسید کہا جاسکتا ہے، ان میں ایک امام سفیان ثوری رحمہ اللہ بھی ہیں، علم وفضل کے لحاظ سے ان کا شمار ان ائمہ مجتہدین میں ہوتا ہے جوایک جدافقہی مسلک کے بانی تھے، گوائمہ اربعہ کے مسلک کے سامنے یہ مسلک زیادہ دن تک زندہ نہ رہ سکا۔مگراس کے باوجود فقہ وحدیث کی تمام قدیم کتابوں میں ائمہ رابعہ کے ساتھ سفیان ثوری رحمہ اللہ کی رایوں اور مجتہدات کا ذکر بھی ملتا ہے، حدیث کی مشہور کتاب ترمذی ہی کواٹھا کردیکھ لیجئے، قریب قریب ہرباب میں وعلیہ سفیان الثوری وغیرہ کے الفاظ آپ کوملیں گے، اس عہد میں جن بزرگوں کوقرآن اور اس کی تفسیر وتاویل سے خاص شغف تھا اور جنہوں نے اس فن میں اپنی تحریری یادگاریں بھی چھوڑیں ان میں امام موصوف بھی تھے، تذکرہ نگاروں نے امام کوبحیثیت فقیہ اور محدث توپیش کیا ہے؛ مگرطبقات المفسرین میں ان کا شمار نہیں کیا ہے؛ حلانکہ اس فن میں ان کا کارنامہ سفیان بن عیینہ، وکیع بن جراح، اسحاق بن راہویہ سے کم نہیں تھا، حیرت ہے کہ ان بزرگوں کوتومفسرین کی فہرست میں جگہ دی گئی ہے اور سفیان ثوری کواس شرف سے محروم رکھا گیا۔علم وفضل کے ساتھ زہدواتقا میں بھی ضرب المثل تھے، ان کے بارے میں عام تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ دنیا ان کی طرف بڑھی مگرانہوں نے اس سے اپنی نظرپھیرلی ان مجمل اشارات کے بعد مفصل حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں۔

نام ونسب اور ولادت[ترمیم]

سفیان نام، ابوعبداللہ کنیت، ان کے سلسلۂ نسب میں ایک نام ثوربن مناۃ آتا ہے؛ اسی کی نسبت سے وہ ثوری کہلاتے ہیں (اس تذکرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ثور نام کے دوآدمی تھے، ایک کاتعلق مشہور عرب قبیلہ مضر سے اور دوسرے کا مشہور قبیلہ ہمدان سے، امام سفیان ثوری کے بارے میں عام تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ وہ ثور مضر سے ہیں اور بعض لکھتے ہیں کہ ثور ہمدان سے ہیں) باختلاف روایت ان کی ولادت سلیمان ابن عبد الملک کے زمانۂ خلافت میں سنہ 96،97ھ بمطابق 715ء میں ہوئی (بعض لوگوں نے ان کا سنہ ولادت سنہ95ھ لکھا ہے؛ مگریہ اس لیے غلط ہے کہ اس بات پرسب کا اتفاق ہے کہ وہ سلیمان کی خلافت میں پیدا ہوئے تھے اور سلیمان سنہ96ھ میں تخت خلافت پربیٹھا تھا)۔[2]

خاندان[ترمیم]

علم وفضل کے لحاظ سے ان کا خاندان کوفہ کے معروف خاندانوں میں تھا، ان کے والد سعید بن مسروق خود صاحب علم وفضل تھے، خاص طور پرحدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تحدیث وروایت میں وہ معروف تھے، عام ارباب تذکرہ ورجال نے ان کی توثیق کی ہے، حافظ ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں مستقلا ان کا ترجمہ لکھا ہے، بعض واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی والدہ بھی نہایت عفت مآب، پاکیزہ سیرت اور صاحب علم خاتون تھیں، سفیان کہتے ہیں کہ میں نے ایک بار رات کوآسمان پرنگاہ اُٹھائی تومعلوم ہوا کہ میرا دل پہلو میں نہیں ہے، اس کیفیت کا ذکر میں نے اپنی والدہ سے کیا توبولیں معلوم ہوتا ہے کہ تم نے آسمان پرحیرت پذیری اور غور و فکر کی غرض سے نگاہ نہیں ڈالی؛ بلکہ تمہارا مقصد صرف لہوولعب تھا۔[3]

والدین کے علاوہ ان کے دوبھائی عمرومبارک کا بھی شمار اہلِ علم میں ہوتا ہے، حافظ ابن حجر اور خطیب نے ان کے حالات لکھے ہیں، مشہور امام حدیث اعمش مبارک بن سعید سے اپنی مجلسِ درس میں حددرجہ شگفتہ رہتے تھے، جب ان کویہ معلوم ہوا کہ یہ سفیان کے بھائی ہیں توپھران کواپنے پہلو میں بٹھاتے تھے، ان کوہذالسید، یہ سردار ہیں کے الفاظ سے یاد کرتے تھے، آخری عمرمیں بینائی جاتی رہی تھی۔[4]

دوسرے بھائی عمربن سعید بھی صاحب علم تھے، عمر کے ایک صاحبزادے حفص بھی علم وفضل میں باپ کے جانشین تھے۔[5]

تعلیم وتربیت[ترمیم]

امام سفیان نے کوفہ میں آنکھ کھولی جوحرمین کے بعد علوم دینیہ کا سب سے بڑا مرکز تھا، خاص طور پرفقہ وحدیث کے توبیشمار حلقہائے درس قائم تھے، ماشائ اللہ گھرکا ماحول بھی قال اللہ اور قال الرسول کی صدا سے پرشور تھا؛ اسی علم افزا اور روح پرور ماحول میں ان کی تعلیم وتربیت شروع ہوئی، تذکروں میں ان کی ابتدائی تعلیم وتربیت کا کوئی ذکر نہیں ملتا؛ مگران کے والد کے تلامذہ کی جوفہرست رجال کی کتابوں میں ملتی ہے، اس میں ان کا نام بھی ملتا ہے، بعض واقعات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ گھر کی معاشی حالت اچھی نہیں تھی، جوان کے حصولِ علم کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہو رہی تھی؛ مگران کی والدہ کے جذبۂ دینی اور ہمت مردانہ نے اس کودور کر دیا، ایک دن انہوں نے سفیان کوحصولِ علم کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: يَابَنِيْ أُطْلُبُ الْعِلْمَ وَأَنَاأَكْفِيْكَ بِمَغْزِلِ۔[6] ترجمہ: اے نورِ نظر تم حصولِ علم میں لگے رہو میں چرخہ کات کرتمہارے اخراجات پورے کرونگی

نیک بخت ماں نے ان کومحض حصولِ علم کی ترغیب ہی نہیں دی؛ بلکہ ان کویہ نصیحت بھی کی کہ یہ علم ان کے اخلاق وکردار کے سنوارنے کا سبب ہو، ان کے بگاڑنے کا سبب نہ ہو، وہ عبادت ہو، تجارت نہ ہو، اُن کا یارہو مارنہ ہو ؎علم رابزدل زنی یارے بود

چنانچہ ایک بار بڑی دلسوزی کے ساتھ نصیحت کی کہ: بیٹے جب تم دس حرف لکھ چکو تودیکھو کہ تمہاری چال ڈھال اور حلم ووقار میں کوئی اضافہ ہوا یانہیں؛ اگراس سے کوئی اضافہ نہیں ہوا توسمجھ لو کہ علم نے تم کوکوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔[7]

والدہ کی اس نصیحت کوانہوں نے زندگی بھرحرزجان بنائے رکھا، جس کی شہادت ان کی پوری زندگی سے ملتی ہے، والدین کی تعلیم وتربیت کے علاوہ کوفہ کے تمام ممتاز شیوخ حدیث وفقہ سے انہوں نے استفادہ کیا تھا، کوفہ میں اس وقت جن تابعین کی مجلس درس وافتا کوامتیاز حال تھا ان میں امام اعمش اور ابواسحاق سبیعی سرفہرست تھے، ان دونوں بزرگوں سے انہوں نے پورا فائدہ اُٹھایا، خاص طور پرامام اعمش کی روایات کے وہ بہت بڑے امین تھے، امام وقت یحییٰ بن معین فرماتے تھے: سُفْيان الثوري اعلم الناس بحديث الأعمش۔[8] ترجمہ:سفیان ثوری اعمش کی روایتوں کے سب سے بڑے جاننے والے تھے۔

اوپر ذکر آچکا ہے کہ اس عہد میں حدیث کا دفتر سفینوں سے زیادہ سینوں میں تھا؛ اس لیے حدیث کے طالب علموں کوان جواہرریزوں کی تلاش میں دور دور کا خیاک چھاننی پڑتی تھی اور جوریزہ جہاں سے بھی ملتا تھا اُسے اپنے سفینوں میں جمع کرجاتے تھے، برسوں کی اس محنت شاقہ کے بعد کہیں جاکر کوئی شخص تحدیث وروایت کے قابل سمجھا جاتا تھا، امام سفیان ثوری بھی ان ہی بزرگوں میں سے تھے جن کوحدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سننے کے لیے سیکڑوں میل کا سفر کرنا پڑا، پہلے انہوں نے کوفہ کے تمام ممتاز شیوخ حدیث سے استفادہ کیا اور پھربصرہ اور حجاز کے مختلف مقامات کے شیوخ حدیث کی خدمت میں پہنچے اور ان سے سماع حدیث کیا، حافظ ابن حجرکوفہ، بصرہ اور حجاز کے بعض ممتاز شیوخ کا نام لے کرلکھتے ہیں: وخلق من أهل الكوفة..... وجماعة من أهل البصرة..... وطوائف من أهل الحجاز وغيرهم۔[9] ترجمہ: اہل کوفہ کی ایک بڑی تعداد سے استفادہ کیا اسی طرح بصرہ کی ایک بڑی جماعت سے فیض اُٹھایا اور حجاز کے مختلف خلقہائے درس سے بہرہ مند ہوئے

وثوقِ علم[ترمیم]

اپنے علم وفن پروثوق واعتماد ہرعلم وفن کے لیے ضروری ہے، خاص طور پرتحدیث روایت میں یہ اور بھی زیادہ ضروری ہے؛ اگرریب وشک سے سے کوئی شخص حدیث نبوی کی روایت کرے گا تووہ اس روایت میں بھی شک پیدا کرے گا اور اس سے دوسروں کے دل میں بھی بے اعتمادی پیدا ہوگی، عام طور پر محدثین کو اپنی یادداشت اور اخذروایت پراعتماد ہوتا تھا؛ مگرامام سفیان ثوری اس میں خاص طور پرممتاز تھے۔

اوپرذکر آچکا ہے کہ اعمش کے تلامذہ میں سفیان ثوری ان کی روایتوں کے سب سے بڑے امین تھے؛ انہوں نے ان سے جوروایتیں کی تھیں، ان پراتنا وثوق تھا کہ اس سلسلہ میں استاذ سے تسامح ہوجاتا تھا؛ مگران سے نہیں ہوتا تھا، مشہور محدث زائدہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ اعمش کی خدمت سے حدیث لکھ کرواپس ہوتے تھے، توان مکتوبہ روایتوں کوامام سفیان کی خدمت میں پیش کرتے تھے، وہ دیکھ کربعض روایتوں کے بارے میں فرماتے تھے کہ فلاں فلاں روایت تو اعمش کی بیان کردہ نہیں ہیں، ہم کہتے کہ انہوں نے ابھی ہم سے ان کی تحدیث کی ہے، فرماتے کہ جاؤ اور اُن سے یہ بات کہو؛ چنانچہ ہم لوگ جاتے اور اُن سے کہتے تووہ غور کرکے فرماتے کہ صدق سفیان، سفیان نے ٹھیک کہا ہے اور پھراپنے صحیفہ (یعنی اس کے حدیث نبوی ہونے میں شبہ نہیں تھا اور نہ امام سفیان کواس پراعتراض تھا؛ بلک ہان کے اعترا ضکا مطلب یہ تھا کہ اس روایت کوان روایتوں میں شامل نہ کیا جائے، جوامام اعمش نے اپنے شیوخ سے براہِ راست سنی ہیں، اندازہ کیجئے کہ تدونِ حدیث میں محدثین نے کتنا دیدہ ریزی کی ہے) سے اس کو مٹادیتے تھے۔

عبد الرحمن بن مہدی جوخود امامِ حدیث ہیں، فرماتے تھے: مارأيت صاحب حديث احفظ من سفيان الثوري۔ ترجمہ:میں نے سفیان ثوری سے زیادہ حدیثیں یاد رکھنے والا نہیں دیکھا۔

یہ کہنے کے بعد انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ایک بار انہوں نے حماد بن ابی سلیمان عن عمروبن عطیہ عن سلمان الفارسی کے واسطہ سے ایک روایت بیان کی میں نے اُن سے عرض کیا کہ ابوعبداللہ! اس میں آپ سے غلطی ہوئی ہے؟ پوچھا کیسے؟ کسی اور واسطہ سے روایت منقول ہے، میں نے کہا ہاں! حماد سے ربعی نے، ربعی نے سلیمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، فرمایا کس نے اس واسطہ سے روایت بیان کی ہے میں نے، امام شعبہ نے فرمایا: امام شعبہ سے غلطی ہوئی ہے؛ پھرکچھ دیر خاموش ہوکر سوچتے رہے؛ پھرپوچھا کہ اچھا اس روایت میں امام شعبہ کی کسی اور نے بھی تائید کی ہے، میں نے ہشام الدستواثی، سعید بن عروبہ اور حماد بن زید کا نام لیا، فرمایا کہ حماد سے غلطی ہوئی ہے، ان ہی نے مجھ سے عروبہ اور حماد بن زید کا نام لیا، فرمایا کہ حماد سے غلطی ہوئی ہے، ان ہی نے مجھ سے عروبہ بن عطیہ کے واسطہ سے یہ روایت بیان کی ہے، ابن مہدی کہتے ہی ں کہ میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ جب چار اادمی ایک بات پرمتفق ہیں تووہی صحیح ہوگی؛ لیکن ایک سال بعد یعنی سنہ181ھ میں شیخ غندر کے پاس گیا توانہوں نے امام شعبہ کا مرتب کردہ صحیفہ حدیث مجھ کودکھایا، اس میں یہ روایت عن عماد عن ربعی کے الفاظ میں موجود تھی، امام شعبہ نے یہ بھی لکھا تھا کہ حماد کبھی اسے عمروبن عطیہ سے بھی روایت کرتے تھے اور کبھی ربعی سے، یہ دیکھ کرابن مہدی کی زبان سے بے اختیار نکلا ابوعبداللہ! آپ پرخدا رحم کرے، آپ جب کوئی حدیث یاد کرلیتے ہیں توپھریہ پروا نہیں کرتے کہ کون آپ کی مخالفت کرتا ہے۔[10]

اسی بناپریحییٰ بن معین فرماتے تھے جوبھی امام سفیان کی مخالفت کرے، بات ان ہی کی صحیح ہوتی ہے۔

امام سفیان اور امام شعبہ[ترمیم]

امام سفیان اور امام شعبہ تقریباً ہم عصر ہیں اور دونوں بزرگوں کوامامت فی الحدیث کا درجہ حاصل ہے؛ مگران دونوں کی کچھ جدا جدا خصوصیتیں ہیں، اسی لیے خطیب نے امام شعبہ اور امام سفیان کی امتیازی خصوصیات کے ذکر کے لیے ایک الگ باب باندھا ہے، امام شعبہ کی خصوصیات کا ذکر اوپر آچکا ہے، یہاں امام سفیان کی خصوصیات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

ابن قطان کہتے تھے کہ میری نظر میں امام شعبہ سے بڑا اور محبوب آدمی دوسرا نہیں ہے؛ لیکن جب امام سفیان اور ان میں اختلاف ہوتا ہے تومیں امام سفیان کی روایت کولیتا ہوں، یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ سفیان امام شعبہ سے زیادہ اثبت ہیں اور رجال کے عالم ہیں۔

رویات کے مشہور زمانہ ناقدیحییٰ بن معین فرماتے تھے کہ روایات میں سفیان کی جوبھی مخالفت کرے ان ہی کی روایت قابل ترجیح ہوگی، کسی نے کہا کہ شعبہ بھی ان کے مخالف روایت کریں جب بھی فرمایا، ہاں! پھرکسی نے کہا کہ اگربصریوں کی روایات میں شعبہ ان کی مخالفت کریں توکس کوترجیح ہوگی؟ فرمایا:یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ امام شعبہ بصریوں کی روایات میں ان کی مخالفت کریں۔[11]

امام ابوحنیفہ اور بعض دوسرے اہلِ علم کا اعتراف[ترمیم]

امام ابوحنیفہ ان کے فضل وکمال کے حددرجہ معترف تھے، ایک بار فرمایا کہ اگروہ تابعین کے عہد میں بھی ہوتے توبھی ان کا ایک خاص مقام ہوتا، ایک دفعہ امام کے پاس ایک شخص آیا اور بولا کہ آپ نے سنا نہیں کہ سفیان ثوری نے کیا روایت کی ہے، امام ابوحنیفہ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہوکہ میں یہ کہوں کہ سفیان حدیث کی روایت میں غلطی کرتے ہیں؛ اگرسفیان، ابراہیم نخعی (امام ابوحنیفہ کے استاذالاساتذہ ہیں) کے زمانہ میں ہوتے توبھی لوگ حدیث میں ان کے محتاج ہوتے، ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگرابراہیم کے زمانہ میں بھی سفیان کی موت ہوتی تولوگوں کوان کی عدم موجودگی محسوس ہوتی۔

اسی طرح امام احمد بن حنبل نے بھی ان کے علم وفضل کا بڑی وسعت قلب کے ساتھ اعتراف کیا ہے، کسی نے پوچھا کہ سفیان ثوری احفظ تھے، یاسفیان بن عیینہ بولے سفیان ثوری احفظ تھے اور بہت کم غلطی کرتے تھے اور سفیان بن عیینہ حافظ تھے۔

ابن مہدی فرماتے تھے کہ میں نے امام مالک سے عاقل، عبد اللہ بن مبارک سے زیادہ اُمت کا خیرخواہ، امام شعبہ سے زیادہ متقشف اور امام سفیان ثوری سے زیادہ حدیث کا جاننے والا نہیں دیکھا۔

امام نسائی کہا کرتے تھے کہ وہ اس سے زیادہ بلند تھے کہ ان کی توثقی کی جائے، امام مالک فرماتے تھے کہ عراق ہم پردرہم ودینار کی بارش کرتا تھا، اس نے سفیان کے بعد علم کی بارش شروع کردی۔[11]

ابنِ خلکان نے لکھا ہے کہ یہ بات زبانوں پ رہے کہ امیرالمؤمنین عمربن الخطاب ر اپنے زمانہ میں راس الناس تھے اور ان کے بعد ابن عباسؓ راس الناس ہوئے اور ان کے بعد امام شعبی (تابعین میں) اور امام سفیان (تبع تابعین) میں راس الناس قرار پائے۔

مرویات کی تعداد[ترمیم]

دوسری صدی کے بعد جب حدیث کا منتشر ذخیرہ بڑی حد تک جمع ہو گیا تومحدثین کے لیے لاکھوں کی تعداد میں روایات اور اُن کے سلسلہ اسناد کا یاد رکھنا آسان ہو گیا؛ لیکن جب یہ ذخیرہ منتشر تھا توپھردوچار ہزار حدیثوں کا بھی سینوں اور سفینوں میں محفوظ رکھنا مشکل تھا، اس لیے تبع تابعین کے عہد میں دس ہزار سے زیادہ کسی امام حدیث کوحدیثیں مشکل سے یاد تھیں؛ لیکن امام سفیان کواس حیثیت سے بھی امتیاز حاصل تھا کہ ان کی مرویات کی تعدادجو ان کے سینہ میں ہروقت محفوظ رہتی تھیں تیس ہزار تھی۔[12]

درس وافتا[ترمیم]

اس غیرمعمولی علم وفضل اور تحدیث روایات میں وثوق کی وجہ سے بہت ہی کم سنی میں مسندِ درس وافتاپرمتمکن کردیئے گیے، ولید بن مسلم کہتے ہیں کہ ابھی سبزۂ خط بھی نہیں نکلا تھا کہ مکہ میں ان سے فتویٰ پوچھا جاتا تھا۔ [13] خطیب کا بیان ہے کہ ان کے درس کی سب سے پہلی مجلس بخارا (خراسان) میں برپائی، اس وقت ان کی عمر کل ۱۸/سال کی تھی۔ [14] جن لوگوں نے ان سے استفادہ کیا تھا ان کی تعداد کا حصر توممکن نہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: روى عنه خلق لايحصون۔ [15] ترجمہ:ان سے اتنے بیشمار لوگوں نے روایت کی ہے کہ ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ تمام ممتاز تبع تابعین نے یاتوان کے سامنے زانوے تلمذ تہ کیا تھا یاان سے فائدہ اُٹھایا تھا، مثلاً عبداللہ بن مبارک، امام اوزاعی، امام مالک جیسے ائمہ روزگار نے ان سے سماع کیا تھا، ابن مبارک فرماتے ہیں کہ میں نے گیارہ سوشیوخ سے حدیثیں لکھی تھیں ان میں سب سے افضل سفیان ثوری کوپایا، کسی نے پوچھا کہ آپ نے تومشہور تابعی سعید بن جبیر رحمہ اللہ وغیرہ کا زمانہ پایا ہے، فرمایا ہاں، جومیں کہتا ہوں وہ صحیح ہے، امام اوزاعی رحمہ اللہ ان کے ہم عصر اور درجہ اجتہاد میں ان کے ہم پلہ سمجھے جاتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نماز می ںہنسنے والے کے بارے میں، میں نقض صلوۃ کا فتویٰ تودیتا تھا؛ مگربراہِ راست ان سے سماع نہیں کرسکے تھے؛ ؛ لیکن ان کے تلامذہ کے ذریعہ سے ان کے علم وفضل ہی کونہیں، ان کی سیرت وکردار کوبھی اپنالیا تھا اور ان کے مثنیٰ ہوگئے تھے اور صوری ملاقات نہ ہونے کے باوجود، امام احمد کی سیرت پران کا گہرا اثر پڑا تھا؛ اسی وجہ سے وہ احمد فرمایا کرتے تھے، میرے دل میں امام سفیان ثوری سے زیادہ کسی کی منزلت نہیں ہے، امام احمد صرف امام سفیان ہی کوامام کے لفظ سے یاد کرتے تھے، ایک بار کسی شاگرد سے فرمایا جانتے ہو امام کون ہے؟ امام ایک ہی ہیں اور وہ سفیان ثوری رحمہ اللہ ہیں۔ [16]

فقہی مسلک[ترمیم]

ان کے علمی فضائل صرف درس وتدریس ہی تک محدود نہیں تھے اور نہ وہ محض قرآن وحدیث کے ناقل تھے؛ بلکہ قرآن وحدیث پران کی نظر مجتہدانہ تھی، ان کا شمار ان چھ سات ائمہ مجتہدین میں ہوتا ہے جوتبع تابعین میں صاحب مذہب شمار کیے جاتے ہیں، امام نووی لکھتے ہیں: وهوأحد أصحاب المذاهب الستة المتبوعة۔ [17] ترجمہ:ان کا شمار ان چھ صاحب مذہب ائمہ میں ہوتا ہے جومتبوع خلائق ہیں۔ ان کے مجتہدات کا کوئی الگ مجموعہ ہوتا توان کے درجۂ اجتہاد کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا تھا؛ مگرافسوس ہے کہ ان کی تفسیر کے چند اجزا کے علاوہ اور کوئی چیز موجود نہیں ہے؛ البتہ حدیث کی کتابوں میں اور خاص طور پرترمذی میں ان کے اجتہادات اور رایوں کا کثرت سے ذکر آتا ہے؛ اگران سب کوجمع کرلیا جاتا توامام اوزاعی کی طرح ان کے تفردات بھی عام لوگوں کے سامنے آجائے؛ گوخواص اہلِ علم ان سے واقف ہیں، امام اوزاعی کی طرح ان کا مسلک بھی کئی صدی تک زندہ رہا، ابن خلکان کے بیان کے مطابق تیسری صدی تک بعض علماء ان کے مسلک کے مطابق تفقہ حاصل کرتے تھے؛ چنانچہ شیخ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ متوفی سنہ۲۹۷ھ کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے انہی کے مسلک کے مطابق تفقہ کیا تھا، ابن رجب کے بیان کے مطابق چوتھی صدی تک یہ مسلک زندہ رہا، ابن عماد سے ابن رجب کی یہ رائے نقل کی ہے کہ: وجد في آخر القرن الرابع سفيانيون۔ [18] ترجمہ:چوتھی صدی کے آخر تک سفیان ثوری کے متبعین موجود تھے۔ آگے ذکر آئے گا کہ تیرہویں صدی تک ان کی بعض فقہی کتابیں خواص اہلِ علم میں پڑھی پڑھائی جاتی تھیں۔

سیرت وکردار[ترمیم]

امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ذات علم وعمل دونوں کا مجموعہ تھی، ان کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان کا مرتبہ علم وفضل کے لحاظ سے زیادہ بلند تھا یاسیرت وکردار کے اعتبار سے؟ جس طرح ان کا علم وفضل تبع تابعین میں ہرکہ دمہ کے نزدیک مسلم تھا؛ اسی طرح ان کی سیرت وکردار کا نقش بھی ہردل پربیٹھا ہوا تھا اور اس میں ان کی فطری سلامت روی کے ساتھ ان کی والدہ کی تربیت کوبھی بڑا دخل تھا، جیسا کہ ابتداء میں انہوں نے ان کونصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیٹا علم کے ذریعہ تمہاری سیرت مسنورنی چاہیے، ان کے سیرت وکراد کی ایک جھلک اس خط سے ملتی ہے، جوانہوں نے اپنے ایک شاگرد کے نام لکھا تھا، اس خط کا خلاصہ ہم یہاں نقل کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں: تم جس زمانہ میں ہویہ وہ زمانہ ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین پناہ مانگتے کہ وہ یہ زمانہ پائیں اور قدامت کی وجہ سے انہیں وہ کچھ حاصل تھا جوہمیں حاصل نہیں ہے؛ پھرامورِ خیر میں قلت علم، قلت صبر اور قلت اعوان، لوگوں کی فساد انگریزی اور دنیا کی گندگی وناپاکی کے باوجود ہم نے جس زمانہ کوپایا ہے، اس سے کیونکر علیحدہ ہوسکتے ہیں، پس تم پرواجب ہے کہ گمنامی کی زندگی بسرکرو کہ یہ زمانہ گمنامی ہی کے لیے موزوں ہے، تم پرلازم ہے کہ گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کرو اور لوگوں سے ملنا جلنا کم رکھو، پہلے زمانہ میں لوگ ملتے تھے توایک دوسرے کوفائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے تھے؛ لیکن اب وہ صورت نہیں رہی بس راہِ نجات یہی ہے کہ ترکِ تعلق کے اصول پرعمل کیا جائے اور ہاں! خبردار! امراء کا قرب نہ اختیار کرنا، نہ ان سے کسی معاملہ میں اختلاط روا رکھنا، خبردار مبتلائے فریب نہ ہونا، تم سے کہا جائے گا کہ اس شحص کی سفارش کردیجئے، مظلوم کی دستگیری کیجئے، ظلم کے مٹانے کی سعی کیجئے، یادرکھو یہ سب باتیں ابلیس کے فریب کاریاں ہیں، وقت کے تاجروں نے اپنی سربلندی کے لیئے ان باتوں کوسیڑھی بنالیا ہے (مقصد یہ ہے کہ ظلم کے مٹانے اور خدمتِ خلق کے نام پراقتدار پرست لوگ تمھیں آلہ کارنہ بنالیں) اور ہاں خبردار! تم اس آدمی کی طرح نہ ہوجانا جویہ چاہتا ہے کہ اس کے قول پرعمل کیا جائے، اس کی باتوں کی اشاعت کی جائے اور اس کا کلام سنا جائے، خبردار! حکومت اور ریاست کی محبت سے بچنا؛ کیونکہ اقتدار سونے اور چاندی سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ [19]

زہد وتقویٰ[ترمیم]

زہدوتقویٰ جیسا کہ مذکورہ خط سے بھی معلوم ہوتا ہے، ان کا خاص وصف تھا، ایک شاگرد نے ان سے ایک دن کہا کہ لوگوں میں آپ کا اتنا چرچا ہے اور آپ رات کوسوتے رہتے ہیں، بولے چپ رہو! اصل چیز دل کا تقویٰ ہے (عبادت وریاضت کی کثرت نہیں)۔[20]

انہوں نے دنیا حاصل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی؛ بلکہ حصولِ دنیا کے جتنے ذرائع تھے، انہوں نے اپنے اوپر مسدود کرلیے تھے، خراسان میں ان کواپنے چچا کی کچھ جائداد ملی تھی اسی پران کا گذراوقات تھا۔[21]

دنیا سے بے رغبتی کا حال یہ تھا کہ عمربھر گھرکے اوپر ایک حبہ صرف نہیں کیا، فرماتے ہیں: ماأنفقت درهما قط في بنا۔[22] ترجمہ:میں نے ایک درہم بھی مکان کے بنانے میں صرف نہیں کیا۔

امام شعرانی کا بیان ہے کہ انہوں نے اپنے اوپر تین باتیں لازم کرلی تھیں، ایک یہ کہ وہ کسی سے خدمت نہ لیں گے اور نہ ان کا کپڑا کوئی درست کرے گا اور نہ وہ اینٹ پراینٹ رکھیں گے۔[21]

وہ چاہتے تودنیا میں مال ودولت اقتدار سب کچھ حاصل کرسکتے تھے؛ مگریحییٰ بن یمان کا بیان ہے کہ: أقبلت الدنيا عليه فصرف وجهه عنها۔[23] ترجمہ:دنیا ان کی طرف بڑھی مگرانہوں نے اس سے منہ پھیرلیا۔

امرا وسلاطین کا ذکر کیا اپنے خاص خاص دوستوں تک کے ہدایا قبول نہیں کرتے تھے، ان کے بھائی مبارک کہتے ہیں کہ امام سفیان کے ایک دوست تھے، جن کے یہاں اکثر ان کی آمدورفت رہتی تھی اور ان کے یہاں ٹھہرا بھی کرتے تھے ان کا ایک لڑکا ایک مرتبہ درہموں سے بھری ہوئی ایک یادو تھیلی لے کر ان کی خدمت میں آیا وہ مزاج شناس تھا، بولا کہ میرے والد کی طرف سے آپ کوکوئی شکایت تونہیں ہے، فرمایا کہ نہیں خدا اُن پررحم کرے، وہ بڑی خوبیوں کے آدمی ہیں؛ پھر اس نے کہا کہ یہ توآپ جانتے ہیں کہ دولت ہمارے پاس کن ذرائع سے آئی ہے؟ اس لیے میری خواہش ہے کہ یہ رقم جومیں لے کر آیا ہوں آپ اسے قبول کر لیں اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کریں؛ انہوں نے تھیلی اپنے ہاتھ میں لے کررکھ لی، جب وہ ان سے رخصت ہوکر باہر چلا گیا تومبارک کوبلایا اور فرمایا باہر لے جاکر رقم اسے لوٹا دو، مبارک کہتے ہیں کہ میں اس سے ملا اور وہ رقم لوٹا دی وہ پھرواپس آیا اور اس نے اصرار کیا کہ وہ دوبارہ اس رقم کوواپس لے لیں، فرمایا کہ میں نے ہاتھ میں لے تولی تھی، اب پھرتم اس کوواپس لے جاؤ، اس نے کہا کہ کوئی ناراضی تونہیں ہے، فرمایا نہیں وہ بار بار رقم کے لینے پراصرار کرتا رہا اور یہ واپسی کے لیے بصد تھے؛ یہاں تک کہ وہ شخص واپس چلا گیا، جب تنہائی ہوئی توان کے بھائی مبارک ان کے پاس آئے اور بولے بھائی آپ کا دل بالکل پتھر ہو گیا ہے آپ کے اگراہل وعیال نہیں ہیں توہم پرتورحم کرتے، آپ کواپنے بھائیوں اور ان کے بچوں پربھی رحم نہیں آیا، کہتے ہیں کہ میں نے اسی طرح ان کوبہت کچھ سنایا، جب یہ سب کچھ کہہ چکا توفرمایا کہ: يامبارك تاكلها أنت هنيئا مريئا وأسأل اناعنها لايكون هذا ابدا۔[23] ترجمہ:مبارک تم تورقمیں لے لے کرمزے سے کھاؤ پیو اور اس کے بارے میں میری باز پرس ہو ایسا قطعی نہیں ہو سکتا۔

ہدیہ کی طرح قرض لینے سے بھی سخت گریز کرتے تھے؛ حالانکہ بسااوقات فاقہ کی نوبت آجاتی تھی اور ہدیہ نہ قبول کرنے اور قرض نہ لینے کی وجہ بیان کرتے تھے کہ لوگ مجھ کوعطیہ وہدیہ دے کراگرفخرمحسوس نہ کرتے تومیں ضرور اُن کے ہدایا قبول کرلیتا اور جس سے میں قرض لوں گا وہ غایت خوشی میں اسے چھپانے کی بجائے لوگوں سے فخریہ یہ کہے گا کہ کل سفیان ثوری مجھ سے قرض لینے آئے تھے۔[24]

ان کے اسی زہدوورع کی بناپرلوگ کہا کرتے تھے کہ: لولا الثوري لمات الورع۔[23] ترجمہ:اگرسفیان نہ ہوتے توزہدوورح کا خاتمہ ہوجاتا۔

رقت قلب اور فکرآخرت[ترمیم]

نہایت ہی رقیق اور فکر آحرت میں ڈوبا ہوا دل پایا تھا، خوف آخرت سے ہروقت لرزاں اور ترساں رہا کرتے تھے، خود فرماتے ہیں کہ میں رات کوسوتا ہوں اور اچانک کوئی آواز آجاتی ہے تویہ تصور کرکے چونک پڑتا ہوں کہ ہم پرعذاب نہ آگیا ہو۔[20]

ایک بار زوال سے پہلے نفل پڑھ رہے تھے، جب قرآن کی اس آیت: فَإِذَانُقِرَ فِي النَّاقُورِo فَذَلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ۔ (المدثر:8،9) ترجمہ: پھرجب صور میں پھونک ماردی جائے گیo تووہ بڑا مشکل دن ہوگا۔[25]

پرپہنچے توچیختے ہوئے، سخت دھوپ میں باہر نکل پڑے؛ یہاں تک کہ لوگوں نے دھوپ سے ان کوواپس کیا۔[20]

ایک بار عشا کی نماز پڑھ کرایک شاگرد یوسف سے طہار کا برتن مانگا، شاگرد نے ان کودیدیا، برتن کوداہنے ہاتھ میں لے لیا اور اسی حالت میں پوری رات گذاردی اور اپنی جگہ سے حرکت نہیں کی، صبح کوشاگرد نے کہا کہ ابوعبداللہ صبح ہو گئی، فرمایا کہ جب سے تم نے یہ برتن دیا اسی وقت سے آخرت کے انجام پرغور کرتا رہ گیا؛ یہی شاگرد کہتے ہیں کہ جب سفیان ثوری سوچنے لگتے تھے توان کا خون پیشاب ہونے لگتا تھا۔[26] ان کے شاگرد ابواُسامہ کہتے ہیں ایک بار بیمار پڑے، میں اُن کا قارورہ لے کر کسی طبیب کے پاس گیا توطبیب نے قارورہ دیکھ کرکہا کہ یہ کسی راہب کا قارورہ معلوم ہوتا ہے، غم نے اس شخص کا جگرشق کر دیا ہے، اس کے لیے کوئی علاج کارگر نہیں ہے (ان کے بعض اقوال سے گوشہ گیری کی ترغیب معلوم ہوتی ہے، ان اقوال کی نسبت یاتوان کی طرف صحیح نہیں ہے یاپھروہ کسی خاص موقع اور محل کے لیے کہے گئے ہیں)۔

عبد الرحمن بن مہدی کہتے ہیں کہ اُن سے زیادہ رقیق القلب آدمی سے میرا سابقہ نہیں پڑا، یکے بعد دیگرے کئی رات اُن کودیکھتا رہا، وہ رات کے پہلے حصہ میں سوجاتے تھے؛ پھریکایک گھبراکر دوزخ، دوزخ چیختے ہوئے اُٹھ جاتے، فرماتے کہ دوزخ کی یاد نے مجھے نیند اور خواہشِ نفس سے دور کر دیا ہے؛ پھروضٰ کرتے اور وضو کے بعد یہ دُعا کرتے کہ اے اللہ! توبغیر بتائے ہوئے میری حاجت سے واقف ہے، میں تجھ سے عذاب دوزخ سے نجات کے علاوہ کچھ نہیں مانگتا، اے اللہ! فکرآخرت کی گھبراہٹ ہی نے مجھے رقیق القلب بنادیا ہے اور یہ میرے اوپرتیرا بڑا انعام ہے، اے اللہ! اگرگوشہ گیری کے لیے کوئی عذر میرے پاس ہوتا تومیں ایک لمحہ بھی لوگوں میں نہ رہتا، اس دُعا کے بعد نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے، نماز میں گریہ وبکا کی وجہ سے قرأت نہیں کرپاتے تھے، میں شرم اور اُن کی ہیبت کی وجہ سے اُن کی طرف دیکھ تونہیں پاتا تھا؛ مگرکوشش کے باوجود اُن کی قرأت صاف سنائی نہیں دیتی تھی۔[20]

ایک بار مجلس میں آپ نے ایک ایک شخص سے سوال کیا کہ تم رات میں کیا کرتے ہو، سب نے اپنے معمولات بتائے، جب سب لوگ بتاچکے توکسی نے امام سے پوچھا کہ آپ بھی تواپنے معمولات سے مطلع فرمائیے، فرمایا کہ میں پہلے حصہ میں بھرپورنیند سے سوجاتا ہوں؛ پھرجب اُٹھتا ہوں تودوبارہ ٹیک نہیں لگاتا۔

موت کی یاد[ترمیم]

آخرت کی یاد ہی کا ایک جز موت کی یاد ہے، موت کی یاد آدمی کی آنکھوں سے غفلت کے بہت سے پردے اُٹھادیتی ہے اور اس کودنیا میں غرق ہونے سے بچاتی ہے؛ اسی لیے حدیث میں آیاہے: أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ يَعْنِي الْمَوْتَ۔ [27] ترجمہ:لذتون کوختم کرنے والی یعنی موت کوکثرت سے یادرکھو۔ امام سفیان کے دل میں اس هَاذِمِ اللَّذَّاتِ کی یاد کی اتنی سوزش رہتی تھی کہ ان کے پاس بیٹھنے والے بھی اُس کی تپش محسوس کرتے تھے، قبیصہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب بھی امام سفیان کے پاس بیٹھتا تھا توموت کی یاد تازہ ہوجاتی تھی اُن سے زیادہ میں نے کسی کوموت کی یاد رکھنے والا نہیں دیکھا۔ [28]

علم کی ذمہ داری کا احساس[ترمیم]

علم دین کا حصول اتنا مشکل کام نہیں ہے، جتنا مشکل اس کی ذمہ داری سے عہدہ برآہونا ہے، امام سفیان نے علم وفضل جس جدوجہد سے حاصل کیا تھا؛ اسی اعتبار سے اس کی ذمہ داری کوبھی انہوں نے ادا کیا؛ انہوں نے اپنے علم کومنفعت کا نہیں خلق خدا کی ہدایت کا ذریعہ بنایا، وہ اس ذمہ داری سے ہروقت گراں بار رہتے تھے کہ اگرمیں کچھ نہ جانتا تومیرا غم کچھ کم ہوتا، ان کی والدہ نے ابتدائے عمر ہی میں یہ نصیحت کی تھی کہ تمہارا علم، تمہاری سیرت وکردار کے سنوارنے کا سبب ہو؛ چنانچہ انہوں نے اس کا پورا حق ادا کیا، علم کی ذمہ داری کا احساس دلاتے ہوئے ایک شاگرد کولکھتے ہیں۔ علم حاصل کرو اور جب علم حاصل کرچکو تواس کی رکھوالی کرو، اسے ہنسی مذاق اور کھیل کود سے مخلوط نہ کرو؛ کیونکہ اس طرح دل کی دنیا سونی ہوجاتی ہے۔ فرماتے تھے کہ علم حدیث کا حصول سب سے افضل کام ہے، بشرطیکہ نیت درست ہو، دوسری روایت ہے ک لوگوں کے لیے حدیث سے زیادہ کوئی علم مفید نہیں ہے، فرمایاکرتے تھے کہ اگرمیں علم (کی ذمہ داری) سے اس صورت میں بھی نجات پاجاؤں کہ نہ وہ میرے خلاف حجت بنے اور نہ میرے لیے شفیع تومیں اسے پسند کرونگا، مجھے کسی عمل سے اتنا خوف نہیں جتنا کہ حدیث (کی روایت) سے۔ [29]

قناعت وسادگی[ترمیم]

نہایت سادہ متواضح اور قناعت پسندانہ زندگی گذارتے تھے اوپر ذکر آچکا ہے کہ ان کا ذریعہ معاش صرف ان کے چچا کی ایک جائداد تھی؛ انہوں نے زندگی بھرگھرکے اوپر ایک پیسہ خرچ نہیں کیا، لباس بھی نہایت سادہ پہنتے تھے، علی بن ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مکہ کے راستہ میں مجھ سے ملاقات ہوئی تومیں نے ان کی ہرچیز کی قیمت کا اندازہ لگایا تووہ تین درہم سے زیادہ نہیں تھی۔ [30] وہ مجلس میں بیٹھتے تھے توصدر نشین بن کرنہیں؛ بلکہ غایت تواضح میں دیوار کے ایک کنارے سے ٹیک لگاکر اکڑوں بیٹھتے تھے۔ [31] خود بھی فقروفاقہ کی زندگی گذارتے تھے اور ان کی مجلس میں اہلِ فقر ہی کی عزت تھی، ارباب دولت کی ان کے نزدیک کوئی قدروقیمت نہیں تھی، محمد بن عبدالوہاب کہتے ہیں کہ: مارأيت الفقر قط أعزولاارفع منه في مجلس سفيان ولارأيت الغنى أذل منه في مجلس سفيان۔ [32] ترجمہ:میں نے فقر کوامام سفیان کی مجلس سے زیادہ معزز اور بلند نہیں دیکھا اور غنا یعنی دولت وخوشحالی کوان کی مجلس سے زیادہ کہیں ذلیل نہیں دیکھا۔ ان کے ان ہی علمی وعملی اوصاف کی بناپر امام شعبہ جیسے امام وقت فرماتے تھے کہ: ان سفيان الثوري ساد الناس بالورع والعلم۔ [33] ترجمہ: سفیان نے اپنے علم وزہد کے ذریعہ لوگوں پرسیادت کی۔

حق کوئی اور امراء وسلاطین سے بے تعلقی[ترمیم]

خلفاء اور امراء سے ہمیشہ بے تعلق رہے ان کے سامنے عہدۂ قضا بھی پیش کیا گیا؛ مگرانہوں نے قبول نہیں کیا، حق کے اظہار کا جب بھی موقع آیا تواس سے باز نہیں رہے، وہ نہ صرف یہ کہ خود امراء وسلاطین سے دور رہتے تھے؛ بلک اپنے تعلق کے لوگوں کوبھی اس سے روکتے تھے، ایک شاگرد کوانہوں نے ایک نصیحت آمیز خط لکھا، جس میں بہت سی باتوں کے ساتھ یہ بھی لکھا تھا: میرے بھائی! امراء سے قرب اور ان سے میل جول نہ رکھنا، تم سے کہا جاے گا کہ لوگوں کی سفارش کیجئے، مظلوم کی داد رسی اور ظلم کومٹانے کے لیے ایسا کرنا چاہیے تویہ ابلیس کا فریب ہے، ان باتوں کوعلماء نے ان کے قرب اور دنیا کمانے کا زینہ بنالیا ہے، فرماتے تھے کہ اگرتم دیکھو کہ کوئی کسی بادشاہ سے چمٹا ہے توسمجھ لوکہ وہ چور ہے اور اگردیکھو کہ امیروں کے دروازہ کا چکر کاٹتا ہے تووہ ریاکار ہے۔ [34] ایک بار ایک شخص کوامراء سے خلاملا رکھنے پرتنبیہ کی تووہ بولا کہ میں بچوں کی وجہ سے مجبور ہوں، فرمایا کہ ذرا اس شخص کودیکھو یہ کہتا ہے کہ جب وہ خدا کی نافرمانی کریگا توخدا اس کے بال بچوں کورزق دے گا اور جب اس کی اطاعت کرے گا تووہ اس کے بال بچوں کوبے یارومددگار چھوڑ دے گا۔ [35] یہ ان کا قال ہی نہیں تھا؛ بلکہ حال بھی تھا؛ کبھی اپنی ضرورت کے لیے کسی خلیفہ یاامیر سے ملنے نہیں گئے اور نہ اُن کا غیرمعمولی اعزاز واکرام کیا، ایک بار منصور سے مسجد حرام میں مڈبھیڑ ہوگئی، اس نے ان کا ہاتھ پکڑ کراور کعبہ کی طرف اُن کا رُخ کرکے کہا کہ: قسم ہے! اس عمارت (کعبہ) کی مجھے آپ نے کیسا آدمی پایایہ وقت بڑا نازک تھا؛ مگرامام نے بڑی جرأت سے اپنے دل کی بات کہہ دی، فرمایا کہ: کعبہ کے رب کی قسم! میں نے تجھ سے بدترین آدمی نہیں پایا۔ غالباً اسی حج کے موقع کا واقعہ ہے کہ انہوں نے سلیمان خواص سے کہا کہ چلو منصور کونصیحت کریں؛ اگروہ ہماری باتیں مان گیا تواس سے مسلمانوں کوفائدہ پہنچے گا، منصور اس وقت منیٰ میں تھا، امام سفیان جب پہنچے تواس نے اپنے قریب بلاکربٹھانا چاہا؛ مگرقریب جانے کے بجائے فرمایا کہ میں اس چیز پرکیسے قدم رکھ سکتا ہوں جونہ میری ملکیت ہے اور نہ آپ کی، منصور نے غلام کوحکم دیا کہ قالین وفرش اُٹھادے، سفیان آگے بڑھے اور منصور کے روبرو زمین پربیٹھ گئے اور بیٹھتے ہوئے یہ آیت پڑھی: مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى۔ [36] ترجمہ: اسی زمین سے ہم نے تمھیں پیدا کیا تھا؛ اسی میں ہم تمھیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے ایک مرتبہ پھرتمھیں نکال لائیں گے۔ [37] یہ آیت سن کرمنصور کی آنکھیں اشک آلود ہوگئیں، سفیان ثوری رحمہ اللہ نے بغیر اجازت طلب کیے ہوئے اس کومزید نصیحت شروع کردی اور لہجہ اس قدر تیز ہوگیا کہ منصور کے حاجب نے کہا کہ: اے شخص! تیری جان کی خیرنہیں ہے؛ مگرانہوں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی اور اپنی گفتگو جاری رکھی (اس کے آگے کی گفتگو، راقم مہدی سے متعلق سمجھتا ہے؛ اسی لیے اس کا ذکر مہدی سے اُن کے تعلقات کے ضمن میں کیا جائیگا)۔ عباسی خلفاء میں منصور کی خودرائی اور جبروتشدد ضرب المثل ہے وہ اپنے مزاج اور رائے کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرسکتا تھا؛ اسی جرم میں اس نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک جیسے برگزیدہ لوگوں کے ساتھ وہ سلوک روا رکھا جومعمولی انسانوں کے ساتھ بھی ہم روا نہیں رکھ سکتے، یہ واقعات ان ائمہ کے سامنے تھے؛ مگراس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ اور امام سفیان ثوری رحمہ اللہ اس کونصیحت ہی نہیں بلکہ اس کے اوپر سخت سے سخت تنقید کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا ملاقاتوں کا ذکر مختلف مورخین اور تذکرہ نویسوں نے کیا ہے؛ لیکن ان سے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ منصور ان سے کچھ ناراض ہوا؛ مگربعض دوسرے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ منصور ناراض ہوگیا تھا اور جب وہ آخری حج کے لیے بغداد سے روانہ ہوا تومکہ پہنچنے سے پہلے ہی یہ حکم جاری کردیا تھا کہ ان کوپھانسی دے دی جائے؛ مگروہ اس میں کامیاب نہیں ہوا؛ چونکہ ان واقعات کا ذکر اہلِ تذکرہ نے بالکل ہی غیرمرتب اور بغیر کسی تاریخی ترتیب کے کیا ہے، اس لیے ان میں تاریخی ترتیب قائم کرنا مشکل ہے؛ تاہم راقم ان واقعات سے جوترتیب قائم کرسکا ہے، وہ پیش کررہا ہے: ابتدا میں منصور امام سفیان کی نصیحتوں اور تنقیدوں کویاتواس لیے برداشت کرتا رہا کہ شاید اس طرح اس کی طرف کچھ مائل ہوجائیں گے؛ لیکن جب وہ اس طرف سے مایوس ہوگیا ہوتو اس نے سختی شروع کی ہو (جیسا کہ وہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے ساتھ کرچکا تھا)۔ اس بات کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے: مفضل بن مہلہل بیان کرتے ہیں کہ میں امام سفیان کے ساتھ حج کے لیے گیا، جب ہم لوگ مکہ پہنچے تووہاں امام اوزاعی رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی، ہم سب لوگ گھر میں بیٹھے تھے کہ عبدالصمد بن علی الہاشمی نے جواس سال حج کے موسم میں منصور کی طرف سے امیر بناکربھیجا گیا تھا، دروازہ کھٹکھٹایا، ہم نے پوچھا: کون؟ بولا امیرحج، یہ سن کرامام سفیان تواُٹھ کرالگ چلے گئے اور امام اوزاعی رحمہ اللہ نے اس کا استقبال کیا، اس نے پہلے امام اوزاعی کا نام پوچھا توانہوں نے فرمایا مجھے ابوعمروالاوزاعی کہتے ہیں، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کوصحیح سلامت رکھے، آپ کے جوخطوط بھی ہمارے پاس آتے ہیں ہم اُن کی تعمیل کرتے ہیں؛ پھراس نے امام سفیان کے بارے میں پوچھا توفرمایا: وہ اندر چلے گئے ہیں؛ پھرامام اوزاعی ان کے پاس گئے اور فرمایا کہ یہ شخص صرف آپ ہی سے ملنے آیا ہے، امام سفیان باہر نکلے اور سلام کیا اور مزاج پوچھا، عبدالصمد بولا ابوعبداللہ! میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ سے مناسکِ حج (کے مسائل) لکھ لوں، فرمایا ہ میں اس سے زیادہ مفید بات تم کوکیوں نہ بتاؤں، بولا وہ کیا؟ فرمایا تم اس عہدہ سے دست بردار ہوجاؤ، بولا امیرالمؤمنین کے ساتھ میں یہ معاملہ کیسے کرسکتا ہوں، میری ہمت نہیں پڑتی، فرمایا اگرتم خدا کے لیے ایسا کروگے توخدا تعالیٰ منصور سے تمہاری حفاظت کرے گا، امام اوزاعی نے بات کاٹتے ہوئے فرمایا کہ ابوعبداللہ یہ قریشی لوگ ہیں، یہ ہم سے اسی وقت راضی ہوسکتے ہیں جب ان کے حسب حیثیت ان کا اعزاز واکرام کیا جائے، امام سفیان نے فرمایا کہ ابوعمروہم ان کوسزا دے کریامارپیٹ کردرست کرنے کی توطاقت نہیں رکھتے اس لیے اس طریقہ سے ہم ان کوتنبیہ وتادیب کرتے ہیں، مفضل کہتے ہیں کہ امام اوزاعی نے فرمایا کہ اب ہم کویہاں سے چل دینا چاہیے، مجھے خطرہ ہے کہ یہ ابھی اپنے کارندوں کوبھیج کرہماری گردنوں میں رسی ڈال دے گا اور امام سفیان کواس کی کوئی پرواہ نہیں ہے (یہ پورا بیان خطیب بغدادی کا ہے، ممکن ہے، امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کسی خاص وجہ سے ایسا فرمایا ہو؛ ورنہ ان کی زندگی خود اس طرح کے جرأت آمیز پرخطرواقعات سے پر ہے)۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ منصور ابھی تک ان سے اتنا ناراض نہیں ہوا تھا کہ ان کی گرفتاری اور قتل کا حکم دیتاورنہ عبدالصمدان سے علی الاعلان اس نیاز مندی کے ساتھ نہ ملتا؛ البتہ اس گفتگو کے بعد جیسا کہ امام اوزاعی نے فرمایا یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اب ان کی جان کی خیر نہیں ہے۔ یہ واقعہ غالباً سنہ۱۵۸ھ سے پہلے کا ہے اس لیے کہ ابن سعد اور طبری کا بیان ہے کہ سنہ ۱۵۸ھ میں منصور نے ان کوگرفتار اور قتل کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بھی تمام تذکروں میں ہے کہ جس سال اس نے ان کوقتل کرنے کا حکم دیا؛ اسی سال اس کا انتقال ہوا اور اس کے انتقال کا سنہ بھی سنہ۱۵۸ھ ہی ہے؛ کیونکہ جس سال ان کے قتل کا اس نے حکم دیا تھا وہ خود مکہ آنے والا تھا جب وہ آنے والا تھا تودوسرے کوامیر حج کیوں مقرر کرتا ہے، اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ امیرعبدالصمد کی گفتگو کے بعد جب وہ ان کی معاونت سے بالکل مایوس ہوچکا ہے تب اس نے یہ قدم اُٹھایا، گرفتاری اور ارادۂ قتل کی تفصیل یہ ہے: ابن سعد کا بیان ہے کہ سنہ ۱۵۸ھ میں منصور نے مکہ کے امیر کولکھا کہ سفیان اور چند دیگر اصحاب کوگرفتار کرکے دربارِ خلافت میں بھیج دیا جائے، ابراہیم نے امام سفیان کوبلاکردرفیات کیا کہ وہ بغداد جانا چاہتے ہیں یانہیں؛ انہوں نے صاف انکار کیا، ابراہیم کوغالباً ان سے کچھ تعلق خاطر تھا، اس لیے ان کوروپوش ہوجانے کا مشورہ دیا، وہ روپوش ہوگئے اور اس نے دکھانے کے لیے ان کی روپوشی کا ڈھنڈورا پٹوادیا اور گرفتاری پرانعام بھی مقرر کردیا، طبری نے بھی یہ واقعہ لکھا ہے؛ مگراس نے یہ لکھا ہے کہ اس نے انہیں گرفتار کرکے چھوڑ دیا جس سے منصور ابراہیم سے ناراض ہوگیا؛ غالباً منصور کویہ علم ہوگیا ہوگا کہ امام سفیان مکہ ہی میں ہیں، اس نے جب وہ اسی سال حج کے ارادہ سے چلا تویہ حکم بھی جاری کردیا کہ امام سفیان جہاں ملیں ان کواس کے مکہ پہنچنے سے پہلے پھانسی دے دی جائے (خطیب کے علاوہ بھی دوسرے تذکرہ نگاروں نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے)۔ خطیب کا بیان ہے کہ منصور جس وقت بغداد سے چلا اسی وقت یہ حکم دے دیا کہ سفیان جہاں ملیں ان کوگرفتار کرکے پھانسی دے دی جائے؛ چنانچہ یہاں ان کی پھانسی کی پوری تیاری مکمل ہوگئی، فضیل بن عیاض اور ابن عیینہ جواس وقت ان کے پاس موجود تھے، ان کوخبر ملی توانہوں نے امام سے کہا کہ ابوعبداللہ! ایسا نہ ہوکہ دشمن ہم پرشماتت کریں اور ہنسیں؛ چنانچہ امام اسی وقت کعبہ میں پہنچے اور کعبہ کا پردہ پکڑ کراللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ اے اللہ! منصور کعبہ میں داخل نہ ہونے پائے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دُعا قبول کرلی اور وہ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی بیرمیموں پہنچ کرانتقال کرگیا، جب امام سفیان کولوگوں نے یہ خبر پہنچائی تووہ کچھ نہیں بولے (یہ واقعہ خطیب اور ابن عماد دونوں کے بیان کوسامنے رکھ کرنقل کیا ہے)۔ تعجب ہے کہ اس اہم واقعہ کا ذکر تمام تذکرہ نگار کرتے ہیں مگراس کے کسی متعین سبب پرکلام نہیں کرتے کہ اتنا بڑا قدم منصور نے کیوں اُٹھایا، جب کہ اس طرح کا قدم اس نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کے خلاف بھی نہیں اُٹھایا تھا؛ حالانکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے علی الاعلان زید ابن علی وغیرہ کی حمایت کی تھی اور امام مالک رحمہ اللہ بھی طلاق مکرہ کے پردہ میں جبریہ بیعت خلافت کی تردید کرچکے تھے، اس سلسلہ میں ابن عماد نے صرف اتنا لکھا کہ: وكان سفيان كثير الحط على المنصور لظلمه فهم به وأراد قتله فما أمهله الله۔ [38] ترجمہ:امام سفیان منصور کے اس کے ظلم وتشدد کی وجہ سے اس پربہت سخت تنقید کیا کرتے تھے، اس لیے وہ ان سے ناراض ہوگیا اور ان کے قتل کا ارادہ کرلیا؛ مگرخدا نے اسے اس کا موقع نہ دیا۔

مہدی اور امام سفیان[ترمیم]

منصور کے بعد مہدی تخت نشین ہوا، امام سفیان نے ابتداء میں اس کے ساتھ بھی اپنا وہی طرزِ عمل رکھا جومنصور کے ساتھ تھا اور مہدی بھی ان کی تمام تنقیدوں اور نصیحتوں کوگریز کرتا رہا؛ لیکن آخر میں وہ بھی منصور کے نقشِ قدم پرچل پڑا۔ مہدی سے ان کی ملاقات اور اس کی ناراضگی کے سلسلہ میں دوواقعے تذکروں میں منقول ہیں، ایک یہ کہ مہدی خلیفہ ہوا توامام سفیان اس کے دربار میں گئے اور آداب شاہی کا لحاظ نہ کرتے ہوئے عام مسلمانوں کی طرح اس کوبھی سلام کیا، مہدی نے بڑی خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کیا او رکہا کہ آپ ہم سے اِدھر اُدھر بھاگتے پھرتے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگرہم آپ کوکوئی گزند پہنچانا چاہیں تونہیں پہنچا سکتے؟ آپ کواس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ہم آپ کے خلاف کوئی قدم خواہش نفس سے مغلوب ہوکر نہ اُٹھاڈالیں، امام سفیان نے انتہائی بے نیازی اور جرأت سے فرمایا کہ ہاں اگرآپ اس وقت میرے خلاف کوئی قدم اُٹھاسکتے ہیں توآپ کے اوپر بھی ایک عادل اور مالک قدیر ہے، جوحق وباطل کے درمیان فیصلہ کرکے رہے گا۔ ربیع حاجب جواس وقت مہدی کی پشت پرتلوار لیے کھڑا تھا اور جس کوان کے عامیانہ آداب اور گفتگو سخت ناپسند ہورہی تھی فوراً بولا میرے آقا! اس جاہل کویہ مجال کہ آپ کے ساتھ اس طرح پیش آئے ، اگرآپ حکم دیں تواس کی گردن ماردوں مہدی نے ربیع کوڈانٹتے ہوئے کہا کہ کم بخت یہ اور ان کے جیسے حضرات لوگ تویہی چاہتے ہیں کہ ہم اُن کوقتل کرکے سعادت سے محروم ہوجائیں اور اپنا دامن شقاوت وکم بختی سے بھرلیں، اس کے بعد مہدی نے کہا کہ ان کوکوفہ کے عہدۂ قضا کا پروانہ عطا کرو اور پروانہ میں یہ بھی لکھ دوکہ ان کے فیصلہ کی اپیل نہیں ہوسکتی؛ چنانچہ ان کوپورے اختیارات کے ساتھ پروانہ دیدیا گیا، وہ پروانہ لے کرباہر نکلے اور نکلتے ہی اس کودجلہ کے نذر کردیا اور روپوش ہوگئے، اس نے تمام ممالکِ اسلامیہ میں ان کی تلاش کرائی مگر جب وہ بالکل مایوس ہوگیا توان کی جگہ شریک بن عبداللہ کوقاضی مقرر کردیا؛ اسی واقعہ کی طرف اس شعر میں اشارہ کیا گیا ہے ؎ تَحَرَّزَ سُفْيَانُ وَفَرَّ بِدِينِهِ وَأَمْسَى شَرِيكٌ مَرْصِدًا لِلدَّرَاهِمِ [39] ترجمہ: سفیان نے اس سے گریز کیا اور اپنا دین بچاکر بھاگ نکلے اور شریک روپیوں کی کمین گاہ بن گئے۔ اس واقعہ سے ان لوگوں کے بیان کی تردید ہوجاتی ہے جویہ لکھتے ہیں کہ امام سفیان نے آخری بار کوفہ کوسنہ۱۵۵ھ (اس واقعہ کا ذکر ابنِ خلکان اور شذرات الذہب نے کیا ہے اور بعض لوگ اس کومنصور کے زمانہ کا واقعہ لکھتے ہیں؛ مگرراقم کے نزدیک یہی زیادہ صحیح ہے) میں یااس سے پہلے چھوڑا اس لیے کہ مہدی سنہ۱۵۸ھ میں تخت نشین ہوا اور اس کی امام سفیان سے یہ ملاقات بغداد میں ہی ہوئی تھی، اس سے معلوم ہوا کہ سنہ۱۵۸ھ کے بعد انہوں نے کوفہ چھوڑا تھا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عہدۂ قضا قبول کرنے کے لیئے وہ مصر توتھا؛ مگران کے روپوش ہوجانے پراتنا ناراض نہیں ہوا تھا کہ ان کی جان کے پیچھے پڑجاتا، اس لیے کہ اس کے کسی لفظ سے شدید ناراضگی کا پتہ نہیں چلتا اور یہ بات اس لیئے بھی قرینِ قیاس ہے کہ مہدی سے ان کی دوایک اور ملاقاتوں کا ذکر تذکروں میں ملتا ہے، شعرانی نے طبقات الکبریٰ میں لکھا ہ کہ وہ مہدی کے سامنے بارہا کہہ چکے تھے کہ اپنے ان حاشیہ نشینوں اور جولوگ اپنی ضرورتیں لے کر آپ کے پاس آتے ہیں ان سے ہوشیار رہیے؛ کیونکہ انہی کے ہاتھوں آپ کی تباہی ہے۔ یہ آپ کا کھاتے ہیں، آپ سے پیسہ وصول کرتے ہیں اور آپ کوفریب دیتے ہیں اور منہ پرآپ کے وہ اوصاف بیان کرتے ہیں جوآپ میں نہیں ہیں۔ [40] مہدی سے اپنی آخری ملاقات کا ذکر انہوں نے خود کیا ہے، فرماتے ہیں کہ میں ایک بار مہدی کے پاس گیا، سلام کے بعد اس نے مزاج پرسی کی، میں نے بیٹھتے ہی اس سے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حج کیا توصرف ۱۶/دینار صرف کیے (تذکرۃ الحفاظ میں ۱۲/دینار ہے) اور آپ نے پورا بیت المال خالی کردیا، مہدی نے کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کی طرح ہوجاؤں، فرمایا کہ ہاں مجھ سے کچھ بلند (معیار) رہیے مگر اپنی موجودہ (فضول خرچی کی) حالت سے کچھ نیچے بھی اُترنا چاہیے؛ اسی درمیان میں اس کے وزیر عبداللہ نے کہا کہ ابوعبداللہ! آپ کے جوخطوط ہمارے پاس آتے ہیں، ہم ان کی فوراً تعمیل کرتے ہیں (غالباً اس نے یہ ظاہر کرنے کے لیے یہ بات کہی تھی، اپنی ضروریات میں توہم سے مدد لیتے ہیں اور پھراعتراض کرتے ہیں) امام سفیان نے پوچھا کہ یہ کون ہیں، مہدی نے کہا میرے وزیر ہیں، امام نے کہا کہ اس سے بچیئے یہ نہایت جھوٹا آدمی ہے؛ پھراس سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں نے تمھیں کب کوئی خط لکھا ہے؟ یہ کہہ کر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے، مہدی نے کہا ابوعبداللہ! اتنی جلدی کیا ہے؟ بولے ابھی آتا ہوں؛ انہوں نے چلتے وقت اپنے جوتے چھوڑدیئے تھے، تھوڑی دیر کے بعد واپس آئے اور جوتے پہن کرباہر ہی سے واپس چلے گئے (غالباً جب دیر ہوئی تو) مہدی نے پوچھا کہ واپس آنے کوکہہ گئے تھے، آئے نہیں، لوگوں نے بتایا کہ ہاں واپس توآئے تھے؛ مگراپنے جوتے پہن کررخصت ہوگئے، ان کی اس بے نیازی کواس نے اپنی توہین سمجھی اور سخت ناراض ہوا اور یہ اعلان کردیا کہ: قد آمن الناس الاسفیان۔ ترجمہ: سفیان کے علاوہ ہرشخص مامون ہے۔ اس کے بعد وہ روپوش ہوگئے، کچھ دن تومکہ میں رہے؛ پھربصرہ چلے گئے اور وہیں ووفات پائی (اس واقعہ کے پہلے ٹکڑے کوبعض لوگوں نے منصور کے زمانہ کا واقعہ بتایا ہے؛ مگردونوں واقعوں کی تفصیلات میں بڑا فرق ہے، اس لیے ممکن ہے کہ دونوں واقعے صحیح ہوں)۔ [41] غرض یہ کہ امام سفیان خلفا کی طلب پریاکسی دینی ضرورت سے خلفاء سے کبھی کبھار مل لیتے تھے؛ مگرنہ توانہوں نے کوئی عہدہ قبول کیا اور نہ کبھی اپنی کوئی ذاتی غرض ان کے پاس لے گئے؛ بلکہ جب بھی ان سے ملے توان کونصیحت کی اور ان کی خواہش یہ بھی تھی کہ دوسرے لوگ بھی خلفاء سے اسی حیثیت سے ملیں، کسی نے ایک بار ان سے کہا کہ فلاں شخص مہدی کے پاس جاتا ہے؛ مگراس کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کی کمزوریوں اور برائیوں سے دور رہتا ہے، فرمایا کہ وہ جھوٹ کہتا ہے، مہدی اپنے لباس، کھانے پینے، خدم وحشم، سواریوں میں اسراف اور فضول خرچی کرتا ہے، کیا اس نے ایک دن بھی مہدی کواس پرٹوکا کہ مسلمانوں کے بیت المال میں اس طرح کا اسراف اس کے لیے صحیح نہیں ہے۔ [42]

شہرت سے نفرت[ترمیم]

باایں ہمہ علم وفضل شہرت اور نیاز مندی کوپسند نہیں کرتے تھے، فرماتے تھے میں چاہتا ہوں کہ ایسی جگہ چلاجاوں جہاں مجھے کوئی پہنچانتا نہ ہو۔ [43] اوپران کی سیرت وکردار کی جوتفصیل کی گئی ہے، اس میں ان کے پورے مثنیٰ ان کے معنوی شاگرد وامام احمد بن حنبل تھے، انشاء اللہ ان کی زندگی کے خط وخال دوسرے حصہ میں پیش کیے جائیں گے۔

امام فقہ[ترمیم]

امام سفیان ثوری کا ائمہ مجتہدین میں بھی شمار ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ معاصر فقہا میں حلال و حرام کے مسائل کو ان سے زیادہ جانے والا کوئی اور نہ تھا۔ علم وراثت میں بھی سند سمجھے جاتے ہیں۔

جن ائمہ فقہ وحدیث کوزمرۂ تبع تابعین کا گل سرسید کہا جاسکتا ہے، ان میں ایک امام سفیان ثوری بھی ہیں، علم وفضل کے لحاظ سے ان کا شمار ان ائمہ مجتہدین میں ہوتا ہے جوایک جدافقہی مسلک کے بانی تھے، گوائمہ اربعہ کے مسلک کے سامنے یہ مسلک زیادہ دن تک زندہ نہ رہ سکا؛ مگراس کے باوجود فقہ وحدیث کی تمام قدیم کتابوں میں ائمہ رابعہ کے ساتھ سفیان ثوری کی رایوں اور مجتہدات کا ذکر بھی ملتا ہے، حدیث کی مشہور کتاب ترمذی ہی کواٹھا کردیکھ لیجئے، قریب قریب ہرباب میں وعلیہ سفیان الثوری وغیرہ کے الفاظ آپ کوملیں گے، اس عہد میں جن بزرگوں کوقرآن اور اس کی تفسیر وتاویل سے خاص شغف تھا اور جنہوں نے اس فن میں اپنی تحریری یادگاریں بھی چھوڑیں ان میں امام موصوف بھی تھے، تذکرہ نگاروں نے امام کوبحیثیت فقیہ اور محدث توپیش کیا ہے؛ مگرطبقات المفسرین میں ان کا شمار نہیں کیا ہے؛ حلانکہ اس فن میں ان کا کارنامہ سفیان بن عیینہ، وکیع بن جراح، اسحاق بن راہویہ سے کم نہیں تھا، حیرت ہے کہ ان بزرگوں کوتومفسرین کی فہرست میں جگہ دی گئی ہے اور سفیان ثوری کواس شرف سے محروم رکھا گیا۔

علم وفضل کے ساتھ زہدواتقا میں بھی ضرب المثل تھے، ان کے بارے میں عام تذکرہ نویس لکھتے ہیں کہ دنیا ان کی طرف بڑھی مگرانہوں نے اس سے اپنی نظرپھیرلی ان مجمل اشارات کے بعد مفصل حالاتِ زندگی ملاحظہ ہوں۔

تصانیف[ترمیم]

اپنی کوئی مادی یادگار تونہیں چھوڑی مگرتحریری صورت میں اپنی معنوی یادگاریں بہت سی چھوڑ گئے، خطیب بغدادی کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی کتابیں اپنی زندگی ہی میں دریا برد کردی تھیں اور ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کوفہ سے نکلے تواپنی کتابیں چھوڑگئے، بصرہ پہنچ کرانہوں نے اپنے بعض اصحاب سے فرمائیش کی کہ وہ کوفہ جاکر ان کی کتابیں لے آئیں؛ مگرخلیفہ کے خوف سے کسی نے ہمت نہیں کی؛ چنانچہ انہوں نے اپنے ایک شاگرد سے جب یہ فرمائش کی توبولے کہ میں آپ کے پاس اپنی آمدورفت کی وجہ سے اپنی جان کوڈرتا رہتا ہوں، یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کوفہ جاکر آپ کی کتابیں لاؤں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے خوف سے اپنی کتابیں پھینک دی تھیں؛ لیکن بصرہ پہنچ کران کواطمینان ہوا تومنگوالیں اور پھران کی تحدیث کی ان کتابوں کی ضخامت کا اندازۃ اس سے کیجئے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور یزید بن توبہ کا جنہوں نے یہ ذخیرہ جمع کیا تھا بیان ہے: فاخرجنا تسع قمطرات كل واحدة إلى ها هنا وأشار إلى أسفل من ثدييه۔ [44] ترجمہ:ہم نے ان کتابوں کواکٹھا کیا تووہ نوبکس تھیں اور ہربکس سینہ کے قریب قریب اونچا تھا۔ اس سے ابن قتیبہ کے اس بیان کی تردید ہوجاتی ہے کہ انہوں نے موت کے وقت اپنی کتابیں نذرآتش کردی تھیں۔ مگرافسوس ہے کہ اس ذخیرہ میں سے صرف دوچار مختصر کتابوں کے علاوہ اس وقت ان کے موجود ہونے کا علم نہیں ہے؛ مگرجیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے کہ چوتھی صدی تک متبعین موجود تھے، اس لیے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ چوتھی صدی تک کم از کم ان کی فقہی کتابیں ضرور متداول رہی ہوں گی۔ مولانا امتیاز علی صاحب عرشی نے ان کی تصنیفات کی جوتفصیل اپنے مضمون مطبوعہ معارف سنہ۱۹۳۵ء میں دی ہے اس کوہم یہاں نقل کرتے ہیں: آپ کی تصانیف درج ذیل ہیں۔ (۱)الجامع الکبیر فی لافقہ یہ کتاب ابوبکر محمد بن ابی الخیر الاموی نے چوتھی صدی ہجری میں اور علامہ محمد عابد بن احمد لعی سندی نے تیرھویں صدی ہجری کے نصف اوّل میں پڑھی تھی۔ [45] (۲)الجامع الصغیر (۳)اکتاب الفرائض یہ کتاب بھی محمد بن عابد سندی نے پڑھی تھی، اس سے معلوم ہوا کہ یہ کتاب بھی تیرھویں صدی تک موجود تھی۔ (۴)کتاب التفسیر یہ کتاب بھی محمد عابد سندی نے پڑھی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب بھی تیرھویں صدی تک اہلِ علم میں متداول رہی ہے، اس تفسیر کا ایک حصہ جومخطوطہ ہے، کتاب خانہ رامپور میں موجود ہے، جسے غالباً مولانا امتیاز علی صاحب عرشی نے طبع بھی کرادیا ہے، راقم کی نظر سے یہ درمکتوں نہیں گذرا ہے۔

وفات[ترمیم]

ان کی وفات۔ 161ھ /۔ 778ء میں ہوئی.اوپر ذکر آچکا ہے کہ مہدی کی ناراضگی کے بعد وہ مصر چلے گئے تھے، بصرہ میں ان کا قیام زیادہ تریحییٰ بن سعید اور الہثیم بن منصور کے یہاں تھا؛ مگرآخر میں مشہور محدث عبدالرحمن بن مہدی کے مکان میں چلے آئے تھے؛ اسی غربت کدہ میں اس پیکر علم وعمل نے سنہ۱۶۱ھ میں وفات پائی، امام ذہبی لکھتے ہیں: مات في البصرة في الاختفاء من المهدي فإنه كان قوالًا بالحق شديد الإنكار۔ [46]ترجمہ:ان کا انتاقل بصرہ میں مہدی سے روپوشی کی حالت میں ہوا، روپوشی کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ غیرمعمولی طور پرحق گوواقع ہوئے تھے اور اس کے اوپر تنقید کرتے تھے (اوور وہ ناراض ہوگیا تھا)۔ ابنِ مہدی ان کی وفات کا حال بیان کرتے ہیں کہ جس رات ان کی وفات ہوئی اس رات انہوں نے نماز کے لیے کئی بار وضو کیا، جب صبح ہونے لگی تومجھ سے کہا کہ ابن مہدی میرا چہرہ زمین پررکھ دو، اب میں کچھ دیر کا مہمان ہوں، یہ جملہ بھی بار بار زبان پرتھا کہ موت کی تکلیف کس قدر سخت ہوتی ہے، ابن مہدی لپکے ہوئے حماد بن زید کواطلاع کرنے گئے کہ راستہ میں ان سے ملاقات ہوگئی وہ اپنے اصحاب کے ساتھ خود ہی آرہے تھے، ابوسلمہ اور حماد ان کے سرہانے کھڑے تھے، حماد نے کہا کہ آپ کوخوش خبری ہو کہ آپ جس بات سے ڈرتے تھے اس سے نجات پاگئے، غالباً گرفتاری وقتل کی طرف اشارہ ہے اور اب اپنے رب غفور کے حضور میں جارہے ہیں، ابوسلمہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تم کوامید ہے کہ مجھ جیسے آدمی کی مغفرت ہوجائے گی، ابوسلمہ نے کہا: اس میں کیا تعجب ہے اس سے ان پرایک بشاشت طاری ہوگئی، غالباً اس کے بعد ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئے۔ [47]وفات سے کچھ دیر پہلے آپ نے دریافت فرمایا تھا کہ یہاں میرے وطن کے بھی کچھ لوگ موجود ہیں، لوگوں نے نگاہ دوڑائی تودوممتاز آدمی نظر پڑے، ایک عبدالرحمن بن ملک، دوسرے حسن بن عیاش؛ چنانچہ عیاش کے سپرد اپنا ترکہ کیا اور عبدالرحمن بن عبدالملک کونمازِ جنازہ پڑھانے کی وصیت کی، جب جنازۃ رکھا گیا اور معلوم ہوا کہ نمازِ جنازہ عبدالرحمن بن عبدالملک پڑھائیں گے توبعض لوگوں نے اس وجہ سے اعتراض کیا کہ ان کا سفیان کے خانوادہ سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ لیکن جب معلوم ہوا کہ ان کی وصیت ہے توسب لوگوں نے بخوشی نماز پڑھانے کی ان کواجازت دی۔ [48] سمعانی کے بیان کے مطابق ان کوقبرستان بنوکلیب میں عشا کے وقت دفن کیا گیا ان کا انتقال صبح ہی کوہوچکاتھا، غالباً حکومت کے خوف سے رات میں ان کودفن کیا گیا۔

اولاد[ترمیم]

ابن خلکان نے لکھا ہے کہ ولم یعقب کوئی اولاد نہیں چھوڑی، ابن سعد وغیرہ کے بیان سے پتل چلتا ہے کہ ان کے ایک صاحبزادے تھے، جس سے وہ بے حد مانوس تھے؛ لیکن وہ ان کی زندگی ہی میں انتقال کرگئے، جس کا ان کوشدید رنج ہوا۔ [49]

عقیدہ[ترمیم]

پہلی صدی ہجری میں بعض سیاسی اختلافات کی بناپر شیعیت وخارجیت پیدا ہوئی؛ لیکن پہلی صدی کے آخر اور دوسری صدی کے شروع میں فلسفہ، شیعیت اور خارجیت کے بطن سے بعض اور فرقے بھی پیدا ہوئے، جن میں معتزلہ، جہمیہ، قدریہ، مرجیہ وغیرہ بہت زیادہ مشہور ہوئے، ان فرقوں کی اصل گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے ذات صفات کے بارے میں بیجا موشگافیاں شروع کردی تھیں اور مسئلہ کے ایک ہی پہلو پران میں اصرار اور غلو پیدا ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے شریعت کی سادہ تعلیم اور اس کا دامن اعتدال واعذار ہورہا تھا اس بناپر علمائے اہلِ حق نے ان خیالات کی تردید کی ہے او ران کی اس گمراہی پرانہیں متنبہ توکیا؛ مگرکسی نے ان کی قطعی تکفیر نہیں کی، ان فرقوں اور ان کے پیدا کردہ مسائل کا چرچا زیادہ ترکوفہ اور بصرہ میں رہتا تھا؛ گواس سے ممالک اسلامیہ کے دوسرے مقامات کے علاماء بھی متاثر ہوتے تھے؛ مگران کا سب سے زیادہ مقابلہ کوفہ، بغداد اور بصرہ کے علماء کوکرنا پڑتا تھا، امام سفیان بھی چونکہ یہیں کے باشندے تھے اور یہیں ان کی مجلس درس تھی، اس لیے ان سے بھی ان فرقوں کے خیالات کے بارے میں سوال کیے جاتے تھے، خاص طور پرجن مسائل کے بارے میں ان سے سوال کیے گیے وہ یہ ہیں خلقِ قرآن، ایمان کی زیادتی وکمی، ایمان صرف یقین کا نام ہے یااس میں عمل بھی شامل ہے وغیرہ؛ چنانچہ ان تمام مسائل کے بارے میں انپی رائے انہوں نے اپنے ایک شاگرد جریر بن شعیب کولکھادی تھی، ان کی اس تحریر کا خلاص یہ ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم، قرآن خدا کا کلام ہے اور غیرمخلوق ہے، خدا کی ذات ہی اس کا مبداء اور معاد ہے، جو اس کے خلاف کہتا ہے وہ کفر کی بات کہتا ہے، ایمان، قول عمل اور نیت کے مجموعے کا نام ہے اور اس میں کمی وزیادتی بھی ہوتی ہے اور دیکھو شیخین یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کومقدم رکھنا، اس کے بعد فرمایا کہ شعیب! میں نے جوکچھ لکھایا ہے، وہ تمھیں اسی وقت فائدہ پہنچائے گا جب تم ان باتوں کوبھی صحیح سمجھو وہ باتیں یہ ہیں: (۱)موزوں پرمسح کرنا (۲)بسم اللہ الرحمن الرحیم کوبلند آواز سے پڑھنے کی مقابلے میں آہستہ پڑھنا زیادہ بہتر ہے (۳)تقدیر پرامین رکھنا (۴)ہرنیک وبد کے پیچھے نماز پڑھ لینا (۵)جہاد قیامت تک جاری رہے گا (۶)حکومت کے جھنڈے کے نیچے رہنا؛ خواہ حکومت ظالمانہ ہویاعادلانہ، شعیب نے یہاں سوال کیا کہ تمام نمازیں ہم ان کے پیچھے پڑھ لیا کریں، فرمایا نہیں صرف جمعہ اور عیدین جن کے پیچھے بھی مل جائیں پڑھ لو؛ مگردوسری نمازوں میں تمھیں اختیار ہے کہ جس پرپورا اعتماد ہو اور اس کے بارے میں تم کو علم ہو کہ یہ اہلِ سنت میں ہے؛ اسی کے پیچھے پڑھو، جب تم قیامت میں خدا کے روبروحاضر ہونا اور تم سے سوال ہوتوعرض کردینا کہ مجھے یہ باتیں سفیان نے بتائی ہیں اور تم میرا معاملہ خدا پرچھوڑ دینا۔ [50] عام محدثین صفات باری کے سلسلہ میں کسی قسم کی تاویل وتدقیق کوصحیح نہیں سمجھتے تھے، مثلاً استوا علی العرش، یداللہ، وجہ اللہ وغیرہ کی کیفیت معلوم کرنے اور اُن کی مادی تحدید یاتردید کرنے کوصحیح نہیں سمجھتے تھے؛ چنانچہ امام مالک کا جملہ ضرب المثل بن گیا ہے کہ استواء علی العرش معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول ہے، اس پرایمان واجب ہے اور اس کے بارے میں سوال اور بحث ومباحثہ بدعت ہے، شہرستانی نے لکھا ہے کہ صفات باری کے بارے میں یہی روش امام سفیان، امام داؤد اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ وغیرہ کی بھی تھی؛ اس نے لکھا ہے کہ چونکہ تمام سلف صالحین صفاتِ الہٰی کوصفات خیریہ کہتے ہیں اور اس میں کوئی تاویل نہیں کرتے اور معتزلہ بالکل ہی اس کی نفی کرتے ہیں اس لیے سلف کوہم صفایتہ اور معتزلہ کومعطلہ کہتے ہیں۔ [51] سفیان فرقہ مرجیہ کے سخت مخالفت تھے؛ حتی کہ ان کی نمازِ جنازہ تک نہیں پڑھتے تھے؛ اسی طرح اہلِ نجوم کوبھی بری نظر سے دیکھتےت ھے، اس وقت بغداد میں ایک مشہور منجم ماشء اللہ نامی تھا، ایک بار اس سے ملاقات ہوئی توفرمایا کہ ماشاء اللہ تم زحل سے ڈرتے اور مشتری سے امید باندھتے ہو اور میں زحل کے رب سے خوف کھاتا اور مشتری کے خالق سے آس لگاتا ہوں، تم روزانہ صبح کونچھتر دیکھتے ہو اور میں خدا سے اشخارہ کرتا ہوں، دیکھو! ہم دونوں میں کس قدر فرق ہے، ماشاء اللہ نے اعتراف کیا کہ سفیان کا عقیدہ اس کے عقیدہ سے بہتر ہے۔

زرین اقوال[ترمیم]

امام سفیان کا حال اور قال دونوں یکساں تھا، حال کی کچھ تفصیل آپ نے اوپر پڑھ لی، اب کچھ قال کے نمونے تھی ملاحظہ فرمائیے۔

علماء کا بگاڑ[ترمیم]

فرمایا کہ جب علماء میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوجائے توان کی اصلاح کون کرسکتا ہے، ان کا بگاڑ دنیا کی طرف ان کا میلان ہے، وہ دین کے طبیب ہیں اور روپیہ پیسہ مرض ہے، توجب طبیب خود ہی مرض کوپال لینے پرتل جائے تواس کا علاج کون کرسکتا ہے؛ اگر میں جانتا کہ لوگ علم رضائے الہٰی کے لیئے طلب کرتے ہیں توخود ان کے گھر جاکر ان کوتعلیم دیتا؛ لیکن لوگ اس لیے علم حاصل کرتے ہیں کہ ان کولوگوں میں مقبولیت حاصل ہواور حدثنا سفیان کہہ کر اپنی مجلس میں رونق پیدا کریں۔

اہل علم کی فضیلت[ترمیم]

فرمایا کہ جب کوئی خدا سے تقویٰ اختیار کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے تو اس جذبہ ہی کی وجہ سے دوسروں پراس کوفضیلت ہوتی ہے، علماء تین طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ عالم جواللہ کوپہچانتا ہے اور اس کے احکام واوامر کوبھی، اس کی علامت یہ ہے کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے اور اس کے اوامر اور حدود کا لحاظ کرتا رہے، دوسرے وہ عالم جواللہ کوپہچانتا ہے؛ مگراس کے اوامر سے ناواقف ہے، اس کی علامت یہ ہے کہ خدا سے ڈرتا توہومگر اس کے اوامر کی اچھی طرح پرواہ نہ کرتا ہو، تیسرے وہ اعلم جواوامر نہی سے توواقف ہومگر خدا کا علم اسے نہ ہو اس کی پہچان یہ ہے کہ وہ نہ خدا سے ڈرتا ہے اور نہ اُس کے اوامر کی پرواہ کرتا ہے۔

زمانہ کی خرابی[ترمیم]

فرمایا کہ مجھے گمان ہے کہ میں اس برے وقت زندہ نہیں رہوں گا کہ جب زندوں کا ذکر کیا جائے توقلب مردہ ہوجائے اور جب مردوں کا ذکر کیا جائے توقلب میں زندگی پیدا ہوجائے مقصد یہ تھا کہ مسلمانان درگور اور مسلمانی درکتاب کا زمانہ آنے سے پہلے ہی میری موت آجائے تواچھا ہے۔

نصیحت پذیری[ترمیم]

بڑے افسوس کے لہجہ میں فرماتے تھے کہ اے اللہ! جانوروں کوجب چرواہا ڈانٹتا ہے تواس ڈانٹ کا اس پراثر پڑتا ہے اور فوراً اپنی خواہش سے باز آجاتا ہے؛ لیکن میں تیری کتاب کی ہدایتوں اور وعیدوں کا اپنی خواہش نفس پرکوئی اثر نہیں دیکھتا۔

طالب علم[ترمیم]

فرمایا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ علم دین کے طلب کرنے والے اچھے حال میں رہیں، اس لیے کہ اگروہ محتاج اور ذلیل ہوں گے توان کوآفتوں اور لوگوں کی زبان درازیوں کا سب سے زیادہ سابقہ پڑے گا۔

حلال کمائی[ترمیم]

فرمایاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کسی نے نصیحت کی خواہش کی توفرمایا کہ: انظر خبزک من این ہو اس پرنظر رکھو کہ تمہاری روٹی کہاں سے آتی ہے۔

شکایت[ترمیم]

مریض کا اپنے کسی بھائی سے اپنا حال کہنا خدا کا شکوہ نہیں ہے۔

ائمہ عدل[ترمیم]

فرمایا کہ ائمہ عدل پانچ ہیں، خلفائے راشدین حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہم اجمعین اگرکوئی شخص ان کے علاوہ کسی کواس فہرست میں داخل کرتا ہے تووہ زیادتی کرتا ہے۔

دعوت[ترمیم]

فرمایا کہ اپنے اسی بھائی کی دعوت قبول کرو جس کا کھانا کھانے کے بعد تمہارے دل میں صلاح پیدا ہونے کی امید ہو۔

رازق خدا ہے[ترمیم]

ایک دن امراء کے کسی درباری کونصیحت کی اس نے کہا کیا کروں، اپنے بال بچوں کی وجہ سے ایسا کرتا ہوں؛ لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایاکہ ذرہ اس شخص کودیکھوں اس کا گمان ہے کہ اگروہ خدا کی نافرمانی کرے گا تووہ اس کے اہل وعیال کوروزی دے گا اور اگراطاعت کرے گا تووہ ان کوبے یارومددگار چھوڑ دے گا، فرمایا کہ اہل وعیال والے بہت کم حرام اور مشتبہات سے بچتے ہیں، اس پران کا عذر یہ ہوتا ہے کہ ہم اہل وعیال رکھتے ہیں۔

دنیا کی محبت[ترمیم]

فرمایا کہ اگرکوئی بندہ تمام مامورات کے ساتھ خدا کی عبادت کرے؛ مگردنیا کی محبت میں بھی سرشار ہو توقیامت کے دن اللہ تعالیٰ علی رؤس الاشہاد فرمائے گا کہ فلاں بن فلاں نے ایسی چیز سے محبت کی جواللہ کوناپسند تھی، تویہ سن کراس پرشدید شرمندگی کی کیفیت طار ی ہوجائے گی۔

دولت سے بچنے کے لیے مال[ترمیم]

فرمایا کہ میں دس ہزار درہم چھوڑ جاؤں اور اس پرمیرا محاسبہ ہو، یہ چیز میرے لیے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں فقیر ہوکر لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کروں، اس لیئے کہ اس سے پہلے مال کوناپسند کیا جاتا تھا؛ مگراب یہ مؤمن کی ڈھال ہے، جو اس کوامراء واہل دولت سے سوال کرنے کی ذلت سے محفوظ رکھتا ہے۔ [52]

عطیہ[ترمیم]

وہ لوگوں کے عطیات واپس کردیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اگرمیں جان جاؤں کہ مجھ کودے کرلوگ اس پرفخر نہ محسوس کریں گے تومیں ضرور ان کے عطیات لے لوں، اسی وجہ سے وہ بھوکے رہ جاتے تھے؛ مگرکبھی قرض نہیں لیتے تھے، فرماتے کہ لوگ اس کوچھپا نہیں پاتے اور خوش ہوکر کہنے لگتے ہیں کہ سفیان ثوری کل میرے یہاں قرض کے لیے آئے تھے۔

کلمہ حق کا بلند کرنا سب سے افضل ہے[ترمیم]

فرمایا کہ خراسان میں اذان دینا، مکہ میں مجاورت سے زیادہ افضل ہے۔

زہد کی حقیقت[ترمیم]

فرماتے تھے کہ زہد فی الدنیا خواہش وتمنا کو کم کرنے کا نام ہے، موٹا جھوٹا پہننے روکھا سوکھا کھانے یایاعباپوچی کا نام زہد نہیں ہے، فرمایا کہ بہت لوگ مال رکھتے ہوئے بھی زاہد ہوتے ہیں اور بعض خالی ہاتھ اس کی محبت میں پڑے رہتے ہیں یعنی وہ ظاہر توکرتے ہیں کہ وہ زاہد ہیں؛ مگران کا دل دنیا میں لپٹا ہوتا ہے۔

اپنی حقیقت[ترمیم]

فرمایا کہ جب آدمی اپنے نفس کی حقیقت جان لے توپھر اس کوکوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

سفر کی رفاقت[ترمیم]

فرمایا کہ تم اپنے سے زیادہ دولت مند اور بلند آدمی کے ساتھ سفر نہ کرو؛ کیونکہ اگرتم اس کے برابر خرچ کروگے تواس سے تم کونقصان ہوگا اور اگروہ زیادہ خرچ کرے گا توتم کواپناغلام بنالے گا۔

اہلِ علم کا حال[ترمیم]

میں نے جب کسی اہلِ علم کی مخالفت کی توجان کا خطرہ محسوس کیا، جب تم کوکسی اہلِ علم سے کوئی ضرورت ہوتواس کا ذکر دوسرے اہلِ علم سے نہ کرو؛ ورنہ وہ اس میں حارج ہوگا، فرمایا کہ پہلے علم کی طلب ہونے چاہیے؛ پھراس پرعمل ہونا چاہیے؛ پھرخاموشی اختیار کرنی چاہیے؛ پھراس میں غوروفکر کرنا چاہیے، فرمایا کہ جوشخص اپنے علم وعمل کواپنے دوسرے بھائی سے بہتر سمجھنے لگے تواس نے اپنے علم وعمل دونوں کا اجرضائع کردیا، عجب ہے کہ اس کا بھائی اس سے زیادہ متورع اور متقی ہو،کاش! لوگ علم کے مطابق عمل کرنے میں اخلاص برتتے تویہ بہت افضل تھا۔

دوستوں کی کثرت[ترمیم]

فرماتے تھے کہ دوستوں کی کثرت دین کی کمزوری کی علامت ہے۔

گم نامی[ترمیم]

فرمایا کہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں گم نام آدمی بھی (برائی سے) مامون نہیں ہے توپھرمشہور آدمی کیسے مامون ہوسکتا ہے۔

بدعت[ترمیم]

فرمایا کہ جب تم کسی بدعت کا ذکر وچرچا سنو تواس کونہ تودوسرے سے بیان کرو اور نہ اپنے دل میں اس کوجگہ دو۔

امراء کی صحبت[ترمیم]

کسی نے کہا کہ آپ امراء اور والیوں سے کیوں نہ خلاملا رکھیں؛ تاکہ آپ بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کونصیحت کرکے ان کی برائیوں پرٹوکنے کا موقع بھی ہاتھ آجائےفرمایا کہ تم لوگ چاہتے ہوکہ میں دریا میں تیروں بھی اور میرے پیر بھی بھیگنے نہ پائیں، میں ان کے یہاں جانے سے اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ لوگ میری آؤبھگت کرنے لگے تومیں ان کی طرف مائل نہ ہوجاؤں اور میرے سارے اعمال خیر ضائع ہوجائیں۔ ایک بار فرمایا کہ اگرکسی سپاہی کودیکھو کہ نماز کے وقت سورہا ہے تواس کوجگاؤ نہیں اس لیے کہ اُٹھے گا توخلق خدا کوتکلیف پہنچائے گا تواس کا سونا ہی بہتر ہے، مقصد یہ تھا کہ خلق خدا کوایذا پہنانا ایک وقت کی نماز چھوڑنے سے بھی زیادہ برا کام ہے۔

بال بچوں کی پرورش کی ذمہ داری[ترمیم]

کسی نے پوچھا کہ ایک شخص اپنے بال بچوں کے لیے محنت مزدوری کرکے کماتا ہے؛ اگروہ نماز باجماعت کا انتظار کرتا ہے تواس سے اس میں رخنہ پڑتا ہے تووہ کیا کرے فرمایا کہ اپنے بال بچوں کی روزی حاصل کرے اور تنہا نماز پڑھ لے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://libris.kb.se/katalogisering/75kmpgrr40jrcqq — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 26 مارچ 2018
  2. تہذیب التہذیب:4/114۔ تذکرۃ الحفاظ:1/192
  3. الطبقات الکبریٰ:1/43
  4. تہذیب التہذیب، جلد:1
  5. تہذیب التہذیب، جلد:7
  6. صفۃ الصفوة،ابن الجوزي:3/189، شاملہ، دارالمعرفة،بيروت۔ دیگرمطبوعہ:3/116
  7. صفة الصفوة:3/116
  8. تاریخ بغداد:9/167، شاملہ، المؤلف:أحمد بن علي أبوبكر الخطيب البغدادي، الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت
  9. تہذیب التہذیب:4/99،100، شاملہ، المؤلف: ابن حجر العسقلاني،مصدر الكتاب: موقع يعسوب۔ دیگرمطبوعہ::4/112
  10. تاريخ بغداد:9/168، شاملہ، المؤلف:أحمدبن علي أبوبكرالخطيب البغدادي، الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت
  11. ^ ا ب تاریخ بغداد:9/169
  12. تہذیب التہذیب:4/114
  13. (تہذیب التہذیب:۴/۱۴۱)
  14. (تاریخ بغداد:۱/۱۵۳)
  15. (تہذیب التہذیب:۴/۱۰۰، شاملہ، المؤلف: ابن حجر العسقلاني،مصدر الكتاب: موقع يعسوب)
  16. (البدایہ والنہایہ:۱۰/۱۳۴)
  17. (تہذیب الأسماء:۱/۳۱۳، شاملہ، مصدرالكتاب: ملف وورد أهداه بعض الأخوة للبرنامج۔ دیگرمطبوعہ:۲۲۳)
  18. (شذرات الذهب في أخبار من ذهب:۱/۲۵۱، شاملہ،الناشر:داربن كثير، دمشق)
  19. (طبقات الکبریٰ:۱/۴۲۔ حلیۃ الاولیاء:۶/۳۷۷)
  20. ^ ا ب پ ت صفة الصفوة:3/84
  21. ^ ا ب تاریخ بغداد، جلد:9
  22. تاريخ بغداد:9/164، شاملہ، المؤلف:أحمدبن علي أبوبكرالخطيب البغدادي، الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت
  23. ^ ا ب پ تاريخ بغداد:9/156، شاملہ، المؤلف:أحمدبن علي أبوبكرالخطيب البغدادي، الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت
  24. طبقات:1/42
  25. توضیح القرآن:3/1833، مفتی محمدتقی عثمانی، مطبوعہ:فرید بکڈپو، دہلی
  26. تاریخ بغداد:9/158
  27. (ترمذی، كِتَاب الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،بَاب مَاجَاءَ فِي ذِكْرِ الْمَوْتِ،حدیث نمبر:۲۲۲۹، شاملہ، موقع الإسلام)
  28. (تاریخ بغداد:۹/۱۵۷)
  29. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۸۴)
  30. (تاریخ بغداد:۹/۱۶۲)
  31. (صفة الصفوة:۳/۸۳)
  32. (تاريخ بغداد:۹/۱۶۲، شاملہ، المؤلف:أحمدبن علي أبوبكرالخطيب البغدادي، الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت)
  33. (تاريخ بغداد:۹/۱۶۲، شاملہ، المؤلف:أحمدبن علي أبوبكرالخطيب البغدادي، الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت)
  34. (طبقات الکبری، شعرانی:۱/۴۲)
  35. (طبقات:۱/۴۱)
  36. (طٰہٰ:۵۵)
  37. (توضیح القرآن:۲/۹۶۳، مفتی محمدتقی عثمانی، مطبوعہ:فرید بکڈپو، دہلی)
  38. (شذرات الذهب في أخبار من ذهب:۱/۲۵۰، شاملہ،الناشر:داربن كثير، دمشق)
  39. (سنن البيهقي الكبرى:۱۰/۹۹، شاملہ، الناشر:مكتبة دار الباز،مكة المكرمة)
  40. (طبقات:۱/۱۴۱)
  41. (تاریخ بغداد:۹/۱۶۰)
  42. (طبقات الکبری:۱/۴۱)
  43. (طبقات الکبری:۱/۴۲)
  44. (تاريخ بغداد:۹/۱۶۱، شاملہ، المؤلف:أحمدبن علي أبوبكرالخطيب البغدادي، الناشر:دارالكتب العلمية،بيروت)
  45. (ابن ندیم:۲۷۵)
  46. (تذكرة الحفاظ:۱/۱۵۳، شاملہ، المكتبة الرقمية)
  47. (صفۃ الصفوۃ:۳/۸۸)
  48. (تاریخ بغداد:۹/۱۶۰)
  49. (ابن سعد:۶/۲۵۷)
  50. (تذکرۃ الحفاظ)
  51. (جلد:۱، صفحہ:۶۶، ترجمہ فارسی)
  52. (مشکوٰۃ)