سفید کنول (تحریک)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
تاریخ چین
تاریخ چین
قدیم
نیا سنگی دور 8500 – 2070 ق م
شیا خاندان 2070 – 1600 ق م
شانگ خاندان 1600 – 1046 ق م
ژؤ خاندان 1046 – 256 ق م
 مغربی ژؤ
 مشرقی ژؤ
   بہار اور خزاں کا دور
   متحارب ریاستوں کا دور
شاہی
چن خاندان 221–206 ق م
ہان خاندان 202 ق م – 220 عیسوی
  ہان خاندان
  شن خاندان
  ہان خاندان
تین مملکتیں 220–280
  کاو وئی, شو اور وو
جن خاندان (265–420) 265–420
  جن خاندان (265–420)
  جن خاندان (265–420) سولہ مملکتیں
شمالی اور جنوبی سلاسل شاہی
420–589
تحصیل سوئی 581–618
تانگ خاندان 618–907
  (دوسرا ژؤ 690–705)
پانچ مملکتیں
دس مملکتیں

907–979
لیاو 907–1125
شمالی سونگ 960–1279
  جنوبی سونگ مغربی شیا
  سونگ خاندان جن
یوآن خاندان 1271–1368
منگ خاندان 1368–1644
چنگ خاندان 1636–1912
جدید
جمہوریہ چین (1912ء–1949ء) 1912–1949
عوامی جمہوریہ چین کی تاریخ 1949–تاحال

سفید کنول (انگریزی: White Lotus) (آسان چینی: 白莲教; روایتی چینی: 白蓮教; پینین: Báiliánjiào; وید-جائیلز: Pai-lien chiao) ایک مذہبی اور سیاسی تحریک تھی جس نے بہت سے ہان چینیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جو ووشینگ لاومو (انگریزی: Wusheng Laomu؛ آسان چینی: 无生老母; روایتی چینی: 無生老母)؛ لفظی معنی: ابدی قابل تکریم ماں) کی عبادت میں تسکین پاتے تھے اور انہیں ہزار سالہ مدت پر اس کی تمام اولاد کو ایک خاندان کے طور پر جمع کرنا تھا۔

سفید کنول کا نظریہ مستقبل کے گوتم بدھ کے میتریا (چینی: 彌勒菩薩؛ ہندی: मैत्रेय बुद्ध) کی صورت میں ظہور پزیر ہونے کی پیش گوئی ہے۔

آغاز[ترمیم]

سفید کنول کا آغاز بدھ مت اور مانویت کی دوغلی تحریک کے طور پر شروع ہوا، جو سختی سے صرف سبزی خوری پر عمل پیرا اور خواتین سے آزادانہ میل جول کی اجازت دیتا تھی، جو سماجی طور چونکا دینے والی تھی۔ دیگر خفیہ انجمنوں کی طرح وہ اپنی غیر معمولی یا غیر قانونی سرگرمیوں کو "بخور جلانے والی تقریبات" کے طور پر چھپا لیا کرتے تھے۔ [1] سفید کنول گروہ کی علامات پہلی مرتبہ تیرہویں صدی میں ظاہر ہوئیں۔ منگول یوآن خاندان کی چین پر حکومت کے دوران سفید کنول تحریک نے چھوٹے مگر مقبول مظاہرے بھی کیے۔ سفید کنول گروہ نے ان میں سے کچھ احتجاجوں میں حصہ لیا جب ان میں وسیع پیمانے پر اضافہ ہوا۔

منگولوں نے سفید کنول انجمن کو آزاد خیال اور غیر مقلدانہ مذہبی فرقہ سمجھا اور اس پر پابندی لگا دی، جسی کی وجہ سے اس کے ارکان زیر زمین جانے پر مجبور ہو گئے۔ اب ایک خفیہ تنظیم "سفید کنول" قومی مزاحمت اور مذہبی تنظیم کا ایک آلہ بن گئی۔ ان خفیہ تنظیموں کے خوف سے "عظیم چنگ قانونی دفعہ" کا نفاذ کیا گیا جو 1912ء تک قابل عمل رہا۔ اس مندرجات کچھ یوں تھے۔

تمام انجمنیں جو خود کو بے قاعدگی سے سفید کنول کہتی ہیں، یا منگ تسون مذہب رکھتی ہیں (مانویت)، یا سفید بادل کے مدرسے سے ہیں وغیرہ وغیرہ، اور جو لوگ جو منحرف اور بدعتی طریقوں پر عمل پیرا ہیں، یا جو خفیہ مقامات پر پرنٹس اور تصاویر رکھے ہوئے ہیں، اگر بتیاں جلا کر لوگوں کو جمع کرتے ہیں، رات کو ملتے ہیں اور دن کو منتشر ہو جاتے ہیں، جو لوگوں کو گمراہ اور ان کے عقائد خراب کر رہے ہیں وہ سزا کے حقدار ہوں گے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Teng 1958، صفحہ۔ 94.
  • Theresa J. Flower (1976)، Millenarian themes in the White Lotus Society (thesis)، McMaster University
  • Frederick W. Mote۔ Imperial China 900-1800۔ Harvard University Press۔ آئی ایس بی این 978-0-674-01212-7۔
  • Susan Naquin (1976)، Millenarian Rebellion in China: The Eight Trigrams Uprising of 1813، Yale University Press
  • Jonathan D. Spence۔ The Search for Modern China۔ W.W.Norton۔ آئی ایس بی این 978-0-393-30780-1۔
  • Teng، Ssu-yü (1958). "A Political Interpretation of Chinese Rebellions and Revolutions". Tsing Hua Journal of Chinese Studies 1 (3). 
  • BJ Ter Haar۔ The White Lotus Teachings in Chinese Religious History۔ Leiden: Brill۔