سلسلہ شطاریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سلسلہ شطاریہ تصوف کے سلاسل میں ایک سلسلہ ہے۔

ابتدا[ترمیم]

صوفیا کا ایک سلسلہ ستاریہ ہے جو ایران میں ہے اسے ایران میں سلسلہ عشقیہ اور روم میں بسطامیہ کہلاتا ہے ستار کا معنی ہے تیز چلنے والا ان کے تیز چلنے یا تیز پھیلنے کی وجہ سے سلسلہ شطاریہ کہلایا۔

ہندوستان آمد[ترمیم]

ہندوستان میںشطاریہ سلسلہ کے بانی شاہ عبد اللہ شطاری المتوفی 1572ء ہیں، جوپندرہویں صدی میں ایران سے ہندوستان تشریف لائے۔ آپ شیخ شہاب الدین سہروردیکی اَولاد میں سے تھے۔

اکابرین سلسلہ[ترمیم]

اس سلسلہ کے بزرگوں کو ہندوستان میں شاہ عبد اللہ شطاری،کے علاوہ شیخ حافظ جونپوری کی خدمات کا بھی فیض پہنچا ہے۔ ان کے علاوہ جونپور کے ہی شیخ بدھن ،اور بدولی کے شیخ ولی شطاری، نے بھی سلسلے کو آگے بڑھانے میں اور لوگوں تک اس کا فیض عام کرنے کی کوشش کی۔ خواجہ گنج شکر ،کی نسل سے امیر سید علی قوام،شیخ زکریا ،کے برادر زادہ شیخ حاجی ابن شیخ علم الدین نے بھی شطاری سلسلے کو کافی ترقی دی۔ جب شاہ عبد اللہ شطاری نے سفرِ آخرت اختیار فرمایا تو اُن کا خرقۂ خلافت شیخ محمد علی یعنی شیخ قاضن کو ملا۔ اور ان کے بعد شیخ ابوالفتح ہدایت اللہ سرمست کو حاصل ہوا اور ان کے بعد شیخ ظہور حاجی حضور کی خدمت میں پہنچا۔ ان کے بعد منصب ہدایت و اجازت اور مژدۂ قطب الاقطابی شیخ محمد غوث گوالیاری کو پہنچا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]