سلطان صلاح الدین اویسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلطان صلاح الدین اویسی
تفصیل=

صدر کل ہند مجلس اتحاد مسلمین
مدت منصب
1983 – 2008
Fleche-defaut-droite-gris-32.png عبدالواحد اویسی
اسد الدین اویسی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 14 فروری 1931  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حیدرآباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 ستمبر 2008 (77 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حیدرآباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب مسلم
جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد 1-اسد الدین اویسی
2-اکبر الدین اویسی
3-برہان الدین اویسی
اور 1 بیٹی (بھتیجے امین الدین اویسی سے شادی)[2]
عملی زندگی
مادر علمی نظام کالج
جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سلطان صلاح الدین اویسی (Sultan Salahuddin Owaisi) حیدرآباد شہر سے تعلق رکھنے والے ایک سیاست دان تھے۔ وہ مسلسل چھ مرتبہ حیدرآباد سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن بنے جب تک کہ وہ 2004ء میں وہ اپنے بڑے بیٹے اسد الدین اویسی کے حق میں دستبردار ہو گئے۔[3][4]

وہ اپنی زندگی میں اپنے لیے سالار ملت کا لقب منتخب کیے اور اسی نام ان کے مداح انہیں تا حیات مخاطب کرتے رہے۔ ان کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ان کی زندگی میں ایک سے لے کر پانچ ارکان اسمبلی اور کئی بلدی کونسلروں کے ساتھ قانون ساز اداروں میں اپنی موجودگی درج کرتی رہی۔ 1983ء میں حیدرآباد شہر خطرناک فرقہ وارانہ چھڑپیں ہوئیں۔ اس موقع پر بعض جگہوں پر لاؤڈ اسپیکر سے لڑائی جھگڑوں اور خون خرابے کی پہلے سے ریکارڈ آوازیں گشت ہوئیں۔ اس کی وجہ سے شہر کافی دہشت کا ماحول بن گیا۔ اس کے اگلے ہی سال ہوئے لوک سبھا انتخابات میں مجلس شہر کی نشست جیتی اور اویسی رکن پارلیمان بنے۔ اس کے بعد وہ 1999ء تک برابر رکن پارلیمان بنے رہے۔

1992ء میں بابری مسجد کے انہدام کے انہدام کے بعد اویسی پر ان ہی کے پارٹی کے ایم ایل اے محمد امان اللہ خان سے شدید اختلافات ہوئے اور خان کو مجلس سے خارج کر دیا گیا۔ خان نے الزام عائد کیا کہ اویسی ذاتی مفادات کے لیے ملت کے مفادات کا سودہ کر رہے ہیں۔ اس کی مثال انہوں نے اس سے دی کہ جہاں اویسی اس وقت شہر میں وقفے وقفے سے جلسۂ ملی بیداری کے جلسوں میں اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ کو مسجد کی شہادت میں مورد الزام قرار دے رہے تھے، وہیں وہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں حکومت کے حق میں ووٹ دیے تھے۔ خان نے یہ بھی الزام لگایا کہ مجلس کے زیر انتظام دکن گروپ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز مسلمان طلبہ سے بھاری رقم داخلے کے وقت عطایا کی شکل میں وصول کر رہے ہیں حالانکہ یہ تعلیمی ادارے جو ایم بی اے، انجینئری، طب، فارمیسی اور کئی اور کورسیز پر مشتمل ہیں، رفاہی غرض سے بنائے گئے تھے۔ 1994ء کے اسمبلی انتخابات میں امان اللہ خان کی نو تشکیل شدہ مجلس بچاؤ تحریک سے خود امان اللہ خان اور ممتاز احمد خان منتخب ہوئے۔ اس کے بعد اویسی نے چارمینار کی مشہور مکہ مسجد میں رمضان میں یوم القرآن کے ایک جلسے میں قرآن کو اپنے ہاتھ میں لے کر قسم کھائی کہ انہوں نے ملت کے کسی مفاد کا سودہ نہیں کیا اور اگر کیا ہے تو اللہ ان کو اور ان کے خاندان کو غارت کر دے۔ اس کے بعد سے عوام کی ہمدردی وہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ کئی پارٹی چھوڑنے والے امیدوار دوبارہ پارٹی میں شامل ہوئے۔ خود امان اللہ خان کے ساتھی ممتاز احمد خان اویسی کی ایم آئی ایم میں شامل ہو گئے۔ امان اللہ خان کو ہرانے کے لیے شہر کی ایک مشہور اسلامی درس گاہ دار العلوم سبیل السلام سے مہدویوں کے خارج الاسلام ہونے کا فتوٰی جاری کیا گیا۔ اس فتوے کو پرانے شہر کے عوام میں گشت کروایا گیا۔ بالآخر اگلے لوک سبھا انتخابات میں اویسی آسانی امان اللہ خان کو ہرانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی خان کی مجلس بچاؤ تحریک کمزور پڑتی گئی اور مجلس اگلے کچھ سالوں اور بھی مضبوط بن گئی۔ اویسی 1999ء تک خود رکن پارلیمان بنے جبکہ 2004ء سے انہوں نے اپنے بیٹے اسد الدین اویسی کو شہر سے رکن پارلیمان بنوایا۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.thaindian.com/newsportal/uncategorized/mim-president-owaisi-dies_100101649.html
  2. Wedding grandeur in Hyderabad – Times Of India. Articles.timesofindia.indiatimes.com (2008-07-15). Retrieved on 2012-05-05.
  3. Andhra Pradesh / Hyderabad News : A veteran of many battles. The Hindu (2008-09-30). Retrieved on 2012-05-05.
  4. MIM president Salahuddin Owaisi passes away | Indian Muslims. Indianmuslims.info. Retrieved on 2012-05-05.