سلطنت جاپان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سلطنت جاپان
Empire of Japan

Dai Nippon Teikoku
1868–1945
پرچم شاہی نشان
شعار
八紘一宇
"ہاکو اچیو"
("عالمی بھائی چارا")
یا
("دنیا کے تمام آٹھ گوشے")
ترانہ
君が代
"کیمنگیو"
("آپکا دور حکومت ہمیشہ قائم رہے")
سرکاری ترجمہ:
("قومی ترانہ")
سلطنت جاپان 1942.
  •   نوآبادیاں / جنوبی بحر الکاہل تعہد
  •   کٹھ پتلی ریاستیں / جاپانی مقبوضات
دارالحکومت ٹوکیو
زبانیں جاپانی
مذہب کوئی نہیں (ازروۓ قانون) [1]
شنٹو مت (قبل سابقہ قانون حقیقی')[2]
حکومت مطلق بادشاہت
میجی حکومت
(1868–1890)
آئینی بادشاہت
(1890–1947)[3]
یک جماعتی ریاست
(1940-1945)
شہنشاہ
 - 1868–1912 میجی
 - 1912–1926 تايشو
 - 1926–1947 شووا
وزیر اعظم
 - 1885–1888 اتو ہیروبیومی (ارل)
 - 1946–1947 شیگیرو یوشیدا (آخر)
مقننہ جاپان کی شاہی دایت
 - ایوان بالا ایوان امراء
 - ایوان زیریں ایوان نمائندگان
تاریخی دور میجی دور, تايشو دور, شووا دور
 - بحالی مییجی 3 جنوری[4] 1868
 - آئین منظور 29 نومبر 1890
 - روس جاپانی جنگ 10 فروری 1904
 - بحر الکاہل جنگ 1941–1945
 - جاپان کا ہتھیار ڈال دینا 2 ستمبر 1945
 - آئین جاپان 3 مئی 1945
رقبہ
 - 1942 اندازاْ 7,400,000 مربع کلومیٹر (2,857,156 مربع میل)
سکہ جاپانی ین,
کوریائی ین,
تائیوانی ین,
جاپانی فوجی ین
جانشین
پیشرو
توکگاوا کمانداری
مملکت ريوكيو
جمہوریہ ازو
چنگ خاندان
سلطنت روس
سلطنت کوریا
جرمن نیو گنی
فلپائن کی دولت مشترکہ
مقبوضہ جاپان
ريوكيو جزائر کی امریکی شہری انتظامیہ
جمہوریہ چین (1912–1949)
ريوكيو جزائر کی امریکی شہری انتظامیہ
سوویت شہری انتظامیہ
سوویت اتحاد
بحر الکاہل جزائر کے اقوام متحدہ کے اعتمادی علاقے
فلپائن کی دولت مشترکہ
موجودہ ممالک  جاپان
 جنوبی کوریا
 شمالی کوریا
 روس
 چین
 تائیوان
 منگولیا
 جزائر شمالی ماریانا
 پلاؤ
 جزائر مارشل
 مائکرونیشیا
 فلپائن
 انڈونیشیا
 ملائشیا
 سنگاپور
 تھائی لینڈ
 مشرقی تیمور
 برونائی
 پاپوا نیو گنی
 جزائر سلیمان
 ویتنام
 لاؤس
 کمبوڈیا
Warning: Value specified for "continent" does not comply

سلطنت جاپان (Empire of Japan) (جاپانی: 大日本帝國) لفظی معنی سلطنت عظیم جاپان ایک سلطنت اور عالمی طاقت تھی جو 3 جنوری 1868 بحالی مییجی کے بعد قائم ہوئی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد 3 مئی 1947 کو آئین جاپان کی منظوری تک قائم رہی۔ [3]

شاہی جاپان کے نعرہ (Fukoku Kyōhei - 富国強兵) (ملک کو مالا مال، فوج کو مضبوط) کے تحت جاپان نے انتہائی تیز رفتاری سے صنعتی اور عسکری ترقی کی اور ایک عالمی طاقت کے طور پر سامنے آیا اور محوری قوتوں (Axis Powers) میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد ایشیا بحر الکاہل کے ایک بڑے حصے کو فتح کر لیا۔ 1942 میں اپنی طاقت کے عروج پر سلطنت جاپان 7.400.000 مربع کلومیٹر (2،857،000 مربع میل) پر پھیلی ہوئی تھی، جو تاریخ میں سب سے بڑی سمندری سلطنتوں میں سے ایک ہے۔ [5]

اس وقت کے دوران شہنشاہوں شہنشاہ میجی (Emperor Meiji), شہنشاہ تايشو (Emperor Taishō) اور شہنشاہ شووا (Emperor Shōwa) کے ادراو کو ان کے بعد از مرگ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔

اصطلاحات[ترمیم]

大日本帝國 - ڈائی نیپون ٹائکوکیو

  • ڈائی - عظیم
  • نیپون - جاپان
  • ٹائی - شاہی
  • کوکیو - ریاست یا قوم

شہنشاہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

    • Sarah Thal. "A Religion That Was Not a Religion: The Creation of Modern Shinto in Nineteenth-Century Japan". In The Invention of Religion., eds. Peterson and Walhof (New Brunswick, NJ: Rutgers University Press, 2002). pp. 100-114
    • Hitoshi Nitta. "Shintō as a ‘Non-Religion’: The Origins and Development of an Idea". In Shintō in History: Ways of the Kami, eds. Breen and Teeuwen (Honolulu: University of Hawai’i, 2000).
    • John Breen, “Ideologues, Bureaucrats and Priests”, in Shintō in History: Ways of the Kami.
    • Hitoshi Nitta. The Illusion of "Arahitogami" "Kokkashintou". Tokyo: PHP Kenkyūjo, 2003.
  1. The existence of a religion was determined ex post facto by the Supreme Commander for the Allied Powers. See Shinto Directive.
  2. ^ 3.0 3.1 "Chronological table 5 1 December 1946 - 23 June 1947". National Diet Library. اخذ کردہ بتاریخ 2010-09-30. 
  3. One can date the "restoration" of imperial rule from the edict of 3 January 1868. Jansen, p.334.
  4. Bruce R. Gordon (2005). To Rule the Earth... (See Bibliography for sources used.)