سلطنت دمق
سلطنت دمق | |||||||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| 1475ء–1568ء | |||||||||||
سلطان ترنگّانا (1521ء–1546ء) کے دور تک دمق کی فوجی کارروائیوں کی معلوم حدود | |||||||||||
| حیثیت | مجاپہت کے ما تحت (1475ء–1478ء) سلطنت (1478ء–1546ء) | ||||||||||
| دار الحکومت | بنتارا، دمق | ||||||||||
| عمومی زبانیں | جاوی | ||||||||||
| مذہب | اہل سنت | ||||||||||
| حکومت | سلطنت | ||||||||||
| سلطان | |||||||||||
• 1475ء–1518ء 1 | رادن فاتح | ||||||||||
• 1518ء–1521ء | پتی اونس | ||||||||||
• 1521ء–1546ء | ترنگانا | ||||||||||
• 1546ء–1549ء | سنان مؤمن | ||||||||||
• 1549ء–1568ء | آریہ پنانگسانگ | ||||||||||
| تاریخ | |||||||||||
• | 1475ء | ||||||||||
• | 1568ء | ||||||||||
| |||||||||||
سلطنتِ دمق یا سلطنتِ دیماک (کسلطانن دمق) جاوا کے شمالی ساحل پر واقع ایک جاوی مسلمان ریاست تھی، جو موجودہ شہر دَمَق کے مقام پر قائم تھی۔[2] یہ سلطنت ہندو۔ بدھ مجاپہت مملکت کی ایک ساحلی جاگیر تھی جس کے بارے میں خیال ہے کہ پندرھویں صدی کی آخری رُبع میں قائم ہوئی۔ اس پر اسلام کا اثر اُن مسلم تاجروں کے ذریعے پڑا جو چین، گجرات، عرب اور خطے کی دیگر اسلامی ریاستوں، جیسے سامودرا پاسائی، ملاکا اور بنی (مسلم) چمپا سے آئے تھے۔ یہ سلطنت جاوا کی پہلی مسلم ریاست تھی اور ایک زمانے میں جاوا کے شمالی ساحل اور جنوبی سماترا کے بڑے حصے پر اثر و رسوخ رکھتی تھی۔[3]
اگرچہ یہ سلطنت محض ایک صدی سے کچھ زیادہ عرصے تک قائم رہی لیکن اس نے انڈونیشیا خاص طور پر جاوا اور اس کے گرد و نواح میں اسلام کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سولھویں صدی عیسوی کے اوائل سے وسط تک خاص طور پر سلطان ترنگّانا کے دور میں سلطنتِ دمق اپنی اوج پر تھی۔ اس زمانے میں انھوں نے جاوا کی اہم بندر گاہوں اور ممکنہ طور پر اندرون ملک علاقوں پر قبضہ کیا جہاں اسلام شاید ابھی نہیں پہنچا تھا۔ ان میں سے ایک بندرگاہ سونڈا کلاپا تھی، جو اس وقت مملکت سونڈا کے زیرِ تسلط تھی۔ 1511ء کے بعد پرتگیزی سلطنت کے ساتھ اس کے تعلقات دمق کے لیے خطرہ بن گئے۔
1527ء میں دمق اور چیربون کی فوجوں نے فتح اللہ کی قیادت میں سونڈا کلاپا پر کامیاب حملہ کیا، جس سے پرتگال اور سونڈا پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ فتح اللہ نے اس بندرگاہ کا نام بدل کر جیاکرتا رکھ دیا۔ اس سے قبل 1523ء میں سلطنتِ دمق اور سلطنت چیربون کی فوجیں پاجاجاران کی سلطنت سے گیرنگ بانٹم پر قابض ہوئیں اور دمق نے جاوا کے باہر بھی اپنی حکمرانی قائم کی، جس میں سمتِ مشرقی سمت سُماترا کے جامبی اور پالمبنگ شامل تھے۔
سلطنت کی زوال پذیری اس وقت شروع ہوئی جب 1546ء میں ترنگّانا پانارکن میں جنگ میں مارا گیا۔ اس کے بعد سُنان پراوُتو تخت پر بیٹھا لیکن 1547ء میں آریہ پنانگسانگ (جو دمق کا بادشاہ بننا چاہتا تھا) کے احکامات پر قتل کر دیا گیا۔ تخت کے لیے جنگ چھڑ گئی اور آخر کار آریہ پنانگسانگ کو جوکو تینگیر (پاجُنگ کے حکمران) نے سزا کے طور پر قتل کر دیا۔ بعد میں جوکو تینگیر (آدی وجایا) نے دمق کی سلطنت کا دار الحکومت اپنے اقتدار کے مرکز پاجنگ منتقل کیا اور 1554ء میں سلطنت پاجنگ کی بنیاد رکھی۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Mata Uang Picis Demak Abad ke-15". Laduni.id (بزبان انگریزی). Retrieved 2024-03-11.
- ↑ Imron Abu Amar (1996). Sejarah Ringkas Kerajaan Islam Demak (بزبان انڈونیشیائی). Kudus, Central Java: Menara Kudus.
- ↑ Charles Alfred Fisher (1964). South-East Asia: A Social, Economic and Political Geography (بزبان انگریزی). Taylor & Francis. p. 119.